(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آج پوری قوم اس مشکل میں پھنسی ہوئی ہے، ہر طرف مہنگائی کا واویلا ہے اور ہر آدمی کا گلا جکڑا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں میں ایک سروے رپورٹ پڑھ رہا تھا کہ ہمارے ملک میں بچہ پیدا ہوتے ہی پچیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔ اور اگر ہمارے ملک کا قرضہ قوم پر تقسیم کیا جائے تو فی خاندان دو لاکھ روپے کا قرضہ بنتا ہے، جس قرضے نے ہمیں شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، جبکہ ہم مہنگائی میں اضافہ پر اضافہ کیے چلے جا رہے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اس وقت بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر رہی ہیں جبکہ ہمارے ہاں بڑھ رہی ہیں، یہ کیا سلسلہ ہے؟
بغیر کسی ابہام کے سیدھی سیدھی بات یہ ہے کہ ہم نے پاکستان بننے کے بعد سے وہی سودی نظام، وہی نوآبادیاتی معیشت اور وہی مالیاتی ڈھانچہ برقرار رکھا ہوا ہے، اور ہم اسی نظام سے چمٹے ہوئے ہیں جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ہم نے الگ ملک حاصل کیا تھا، اور یہ نظام ہمارا خون نچوڑتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے جسموں سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ کر بھی اس نظام کی پیاس نہیں بجھے گی۔ جب تک ہم اس لعنتی سسٹم سے نجات حاصل نہیں کریں گے اور اسلام کے سادہ اصولوں کے مطابق ٹیکس فری معاشرہ قائم نہیں کریں گے اس وقت ہمارا مہنگائی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہمیں کھانے پینے کی اشیا کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینا ہوگا، لیکن یہ تبھی ہو سکتا ہے جب ہمارا حکمران طبقہ اپنا ضروریاتِ زندگی پر گزارہ کرتے ہوئے اپنا معیارِ زندگی عام آدمی کے برابر لے آئیں۔ جب اوپر بیٹھے ہوئے ہر آدمی کے پاس بیس گاڑیاں ہوں گی، تو عام آدمی کا خون لامحالہ نچوڑا جائے گا۔ خدا کے لیے اس عیاشی کو چھوڑو اور سادگی اختیار کرو، قناعت اختیار کرو، بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرو اور اس غریب ملک کے عوام کو اسلام کے اصولوں کے مطابق ضروریات کی چیزیں سستے داموں فراہم کرو، اس کے بغیر نہ آج سے دس سال پہلے ہمارے پاس کوئی حل تھا اور نہ آج کے دس سال بعد کوئی حل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو سمجھ عطا فرمائے۔

