’’دیار مغرب کے مسلمان ۔ مسائل، ذمہ داریاں، لائحہ عمل‘‘
برطانیہ کا پہلا سفر میں نے ۱۹۸۵ء میں اور امریکہ کا پہلا سفر ۱۹۸۷ء میں کیا تھا۔ دونوں ممالک کے اس سفر کا ابتدائی داعیہ قادیانی مسئلہ تھا۔ ۱۹۸۴ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پاکستان میں اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کی اصطلاحات کے ساتھ اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے سے قادیانیوں کو روک دیا اور ان کے لیے اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر و اصطلاحات کے استعمال کو قانوناً جرم قرار دے دیا تو قادیانیوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز لندن کو بنا لیا اور وہاں ’’اسلام آباد‘‘ کے نام سے نیا مرکز بنا کر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملک بھر کے دینی کارکنوں اور علماء کرام سے اپیل
’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کا انتخابی اور حکومتی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کے قیام کے ساتھ واضح کر دیا گیا تھا کہ انتخابی سیاست اور اقتدار کی کشمکش سے الگ تھلگ رہتے ہوئے پاکستان شریعت کونسل ملک میں (۱) اسلامی نظام کے نفاذ، (۲) دینی قوتوں میں رابطہ و مفاہمت کے فروغ، (۳) اور اسلام مخالف لابیوں اور سرگرمیوں کے تعاقب کے لیے فکری اور علمی محاذ پر کام کرے گی۔ چنانچہ اسی دائرہ میں رہتے ہوئے کونسل اپنے وسائل اور استطاعت کے دائرہ میں سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام اور متحدہ مجلس عمل کی ریلی
’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کے بارے میں اسلامی نظریہ کونسل کی حالیہ رائے، مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی طرف سے ’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے قیام کے ساتھ اس بل کے خلاف جدوجہد کے اعلان اور متحدہ مجلس عمل کی لاہور سے گجرات تک ریلی کے بعد اس سلسلہ میں صورتحال خاصی دلچسپ ہوتی جا رہی ہے، مگر اس حوالے سے کچھ عرض کرنے سے قبل ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سرحد حکومت کے اصل کام
سرحد اسمبلی نے گزشتہ دنوں اہم نوعیت کی چند قراردادیں پاس کی ہیں جو اگرچہ سفارشی نوعیت کی ہیں، مگر ان سے سرحد اسمبلی میں ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کی صوبائی حکومت کے فکری رجحانات کی نشاندہی ہوتی ہے اور نفاذ اسلام کے حوالے سے وفاقی حکومت اور ملک کی دیگر صوبائی حکومتوں کے لیے بھی ان میں راہنمائی کا سامان موجود ہے۔ مکمل تحریر
پاکستان اور عالم اسلام کا مستقبل
مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام کا وفد بھارت کے دورے سے واپس آگیا ہے، وفد میں جمعیت کے تین دوسرے لیڈر حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب خان، اور مولانا قاضی حمید اللہ خان بھی شامل تھے۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں حاضری کے علاوہ جمعیت علماء ہند کے راہنماؤں اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سمیت متعدد بھارتی لیڈروں سے ملاقاتیں کیں جن میں انڈین نیشنل کانگریس کی لیڈر سونیا گاندھی بھی شامل ہیں۔ اس دورے کا اصل پس منظر تو یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل پشاور میں جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عید الفطر پر تذبذب کی صورتحال اور اس کا حل
عید الفطر گزر گئی ہے اور ملک بھر میں روایتی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی ہے۔ رؤیت ہلال کا تنازع حسب توقع عید کے موقع پر بھی قائم رہا۔ صوبہ سرحد کی رؤیت ہلال کمیٹی نے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے پیر کی شام کو اجلاس طلب کر لیا اور سینکڑوں شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ صادر کر دیا کہ عید الفطر ۲۵ نومبر منگل کو ہوگی۔ صوبہ بلوچستان کی رؤیت ہلال کمیٹی نے بھی اس حد تک صوبہ سرحد کا ساتھ دیا کہ چاند دیکھنے کے لیے اجلاس پیر کی شام کو طلب کر لیا مگر کوئی شہادت نہ ملنے کی وجہ سے بدھ کی عید کا اعلان کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ نسواں بل سے متعلق علماء کمیٹی کی سفارشات
حدود آرڈیننس میں ترامیم بل کے حوالے سے جو بحران پیدا ہوتا نظر آرہا تھا وہ بحمد اللہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کی خصوصی حکمت عملی اور توجہ کے باعث باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ اصولی طور پر رک گیا ہے۔ اور اگر تحفظ حقوق نسواں بل کو قومی اسمبلی میں دوبارہ پیش کرتے وقت کوئی اور الجھن پیدا نہ ہوئی تو امید ہے کہ اس مسئلہ پر کوئی نیا بحران کھڑا نہیں ہوگا اور اس کے ملک کی سالمیت پر بھی دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چاند کا مسئلہ: مشترکہ دینی قیادت کی آزمائش
رؤیت ہلال کا مسئلہ اس سال قومی سطح پر متنازعہ صورت اختیار کرنا نظر آرہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے کی فوری کوشش نہ کی گئی تو عید الفطر کے موقع پر یہ خلفشار وسیع تر صورت اختیار کر جائے گا اور قوم متفقہ یا کم از کم اکثریتی عید کے ثواب و لطف سے محروم ہو جائے گی۔ اب سے ربع صدی قبل بلکہ اس سے بھی پہلے ہمارے طالب علمی کے دور میں یہ صورتحال عام طور پر پیش آ جاتی تھی کہ چاند کی رؤیت کے مسئلہ پر اختلاف ہو جاتا تھا اور بسا اوقات ایک شہر میں دو دن الگ الگ عید منائی جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رؤیت ہلال کا مسئلہ۔ قائدین توجہ فرمائیں!
رؤیت ہلال کا مسئلہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد حسن جان کے استعفٰی کے بعد مزید تشویشناک صورت اختیار کر گیا ہے۔ قومی اخبارات میں شائع ہونے والے ایک بیان میں مولانا حسن جان نے فرمایا ہے کہ مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے کمیٹی کے دیگر حاضر ارکان کے مشورے اور رائے پر توجہ دینے کی بجائے ذاتی فیصلے پر اڑے رہنے کو ترجیح دی ہے جس کی وجہ سے ۲۸ اکتوبر کو چاند نظر نہ آنے کا اعلان ان کا ذاتی فیصلہ ہے، کمیٹی کا فیصلہ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رؤیت ہلال کا مسئلہ اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کے ریمارکس
رؤیت ہلال کا مسئلہ اس بار پھر تنازع کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے، اور اس کی بازگشت سپریم کورٹ کے ایوانوں میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ ۲۳ ستمبر (۲۹ شعبان) کو مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمن نے اعلان کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے سے چاند دیکھے جانے کی شہادت موصول نہیں ہوئی اس لیے مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ یکم رمضان المبارک ۲۵ ستمبر کو پیر کے روز ہو گی۔ جبکہ صوبہ سرحد کے وزیر مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 154
- 155
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »