فکری بیداری کے مختلف دائرے اور ہماری ذمہ داری

اب سے سترہ اٹھارہ برس پہلے ہم نے ورلڈ اسلامک فورم تشکیل دیا اور احباب کو توجہ دلائی کہ وہ دینی جدوجہد کے حوالے سے آج کے دور کی ضروریات اور تقاضوں کا ادراک حاصل کریں اور ان کو سامنے رکھ کر اسلام اور مسلمانوں کے لیے اپنی محنت کو مؤثر بنائیں، تو ہماری یہ آواز اجنبی سی محسوس ہو رہی تھی اور یوں لگتا تھا کہ شاید کوئی بھی ہماری اس آواز کو سنجیدگی کے ساتھ سننے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ لیکن آج بحمد اللہ تعالٰی ہم مطمئن ہیں کہ اس آواز کو دھیرے دھیرے پذیرائی حاصل ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ و ۳۰ مئی ۲۰۰۸ء

نائن الیون کا سانحہ اور مسلمانوں کے لیے لائحہ عمل

مسلم ممالک میں سب سے پہلے ترکی نے سیکولر فلسفہ کو دستوری طور پر قبول کیا تھا اور وہی سب سے زیادہ شدت کے ساتھ اس پر ابھی تک قائم بھی ہے، حتٰی کہ ترکی کا دستور صراحت کے ساتھ قرآن و سنت کی راہنمائی کو مسترد کرتا ہے، لیکن ترکی کے عام مسلمان نے آج تک اس لا مذہبی فلسفہ کو قبول نہیں کیا اور عام ترکی مسلمانوں کو جب بھی موقع ملتا ہے، وہ قرآن و سنت کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ کا کھلم کھلا اظہار کر دیتے ہیں۔ یہ بات مغرب کے حکمرانوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۱ء

مغربی ممالک میں مسلمان بچوں کی دینی تعلیم

مذاکرہ میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ مغربی معاشرہ میں ان ضروریات کا دائرہ کیا ہے جن کی تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض عین ہے اور جن کے بغیر کوئی شخص اس معاشرہ میں ایک صحیح مسلمان کے طور پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ بحث و تمحیص کے بعد والدین، اساتذہ اور خطباء و ائمہ سے یہ گزارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں مندرجہ ذیل امور کے حوالہ سے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۳ء

مغرب میں مقیم مسلمانوں کے لیے دینی لائحہ عمل ۔ مولانا مفتی رفیع عثمانی کی تجاویز

امریکی ریاست ورجینیا میں وفاقی دارالحکومت واشنگٹن سے متصل علاقہ اسپرنگ فیلڈ میں ’’دارالہدیٰ‘‘ کے نام سے ایک دینی ادارہ ہے جس میں مسجد، قرآنی تعلیم کا مکتب اور طالبات کے لیے اسکول کے شعبے کام کر رہے ہیں۔ مولانا عبد الحمید اصغر کی سربراہی میں ایک ٹیم اس کارخیر میں مصروف ہے۔ موصوف بہاولپور سے تعلق رکھتے ہیں، بنیادی طور پر انجینئر ہیں، لاہور کی انجینئرنگ یونیورسٹی میں استاد رہے ہیں، معروف نقشبندی بزرگ حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ (آف چکوال) کے خلیفہ مجاز ہیں اور امریکہ آنے کے بعد ایک عرصہ سے دینی خدمات میں سرگرم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

برطانوی مسلمان اور مسٹر ڈیوڈ کیمرون کے خیالات

میں نے گزشتہ کسی کالم میں برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر مسٹر ڈیوڈ کیمرون کے ایک انٹرویو کا ذکر کیا تھا جو انہوں نے ایک مسلمان خاندان کے ساتھ چوبیس گھنٹے گزارنے کے بعد دیا ہے اور میں نے اس کی تفصیلات ۱۲ مئی کو لندن سے شائع ہونے والے ایک اردو روزنامہ میں پڑھی تھیں۔ گزشتہ ماہ برطانیہ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے جہاں کنزرویٹو پارٹی کو یہ امید دلا دی ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں لیبر پارٹی پر سبقت حاصل کر سکتی ہے، وہاں حکمران لیبر پارٹی بھی نئی صف بندی پر مجبور ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۲۰۰۷ء

اسلامی نظام، انسانی حقوق اور قادیانیت

بعد الحمد والصلوۃ۔ حضرت الامیر! قابل احترام علماء کرام، بزرگو، دوستو اور ساتھیو! ایک دور تھا جب مرزا غلام احمد قادیانی کی امت کا ہیڈ کوارٹر قادیان میں تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب قادیانیت کے خلاف کوئی بات کہنا برطانوی حکومت کے غیظ و غضب کو دعوت دینا تھا۔ تب مجلس احرار اسلام کے شعبہ تبلیغ نے قادیان میں کانفرنس کا اہتمام کیا جہاں قادیانی امت اپنا سالانہ اجتماع منعقد کیا کرتی تھی اور اسے مبینہ طور پر معاذ اللہ حج کی طرح مقدس اجتماع کی حیثیت دی جاتی تھی۔ اس دور میں قادیان میں مسلمانوں کا اجتماع منعقد کرنے میں احرار کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۱۹۹۳ء

مغربی معاشرہ میں دینی تعلیم

مولانا محمد کمال خان ہمارے محترم بزرگ ہیں، سوات کے رہنے والے ہیں، ایک عرصہ تک ڈیوزبری (برطانیہ) کے تبلیغی مرکز کے دینی مدرسہ میں خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں اور اب نوٹنگھم کے قریب نیوارک سے متصل بلڈنگ خرید کر الجامعۃ الاسلامیہ کے نام سے ایک بڑا دینی ادارہ قائم کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ بلڈنگ رائل ایئر فورس کے آفیسرز کے ہاسٹل کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، اس میں ڈیڑھ سو کے قریب کمرے ہیں اور مجموعی رقبہ دس ایکڑ سے زائد ہے۔ اس کی قیمت کی قرضہ حسنہ سے ادائیگی کے لیے اصحاب خیر سے رابطے کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۲ء

لاک ڈاؤن اور مساجد کا مسئلہ

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کی طرف سے ایک اپیل سامنے آئی ہے جو انہوں نے کرونا وائرس کے سلسلہ میں بھارتی مسلمانوں سے کی ہے، ہمارے خیال میں وہ بہت متوازن اور قابل عمل ہے، اسے انہی کے الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے: ’’ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ تشویشناک صورتحال کے پیش نظر تمام باشندگان ملک خصوصاً مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس سلسلہ میں محکمۂ صحت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی پابندی کریں اور وطن عزیز کو اس وبا سے محفوظ رکھنے میں تعاون کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مارچ ۲۰۲۰ء

مغربی ممالک میں مسلمانوں کی نئی نسل کا مستقبل اور مسلم دانشوروں کی ذمہ داری

نئی نسل کے بارے میں اس قسم کے خیالات کا اظہار اکثر ہماری مجالس میں ہوتا رہتا ہے اور ہمیں یہ شکایت رہتی ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم ہماری نئی نسل مشرقی روایات، اسلامی اقدار اور پاکستانی تہذیب سے بیگانہ ہوتی جا رہی ہے۔ شکوہ بجا مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں نئی نسل کا قصور کیا ہے؟ اور اسے کوسنے میں ہم کس حد تک حق بجانب ہیں؟ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتحال کا ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور اس کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے، مستقبل کی ضروریات کی نشاندہی کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۳ء

امریکہ کا لکڑ ہضم، پتھر ہضم معاشرہ اور مسلمانوں کی نئی پود کا مستقبل

محترم و برادران اسلام! مجھے امریکہ میں حاضری دیتے ہوئے چوتھا سال ہے۔ ہر سال کچھ دنوں کے لیے حاضری کا موقع ملتا ہے۔ یہاں مکی مسجد میں آپ حضرات سے ملاقات کی سعادت بھی حاصل ہوتی ہے۔ پہلی دفعہ ۱۹۸۷ء میں حاضر ہوا تو یہیں مکی مسجد میں مسلسل آٹھ دس روز قادیانیت کے بارے میں روزانہ گفتگو ہوتی رہی۔ اس وقت یہاں آنے کا مقصد بھی قادیانی گروہ کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا اور امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کے حالات معلوم کرنا تھا۔ پھر جوں جوں مسائل و احوال سے واقفیت ہوتی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۹۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter