قادیانی مسئلہ اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کی ذمہ داری
قادیانی گروہ کی سرپرست لابیوں اور ویسٹرن میڈیا کی طرف سے قادیانی مسئلہ کے حوالہ سے ایک الزام پاکستان کے مسلمانوں پر، پاکستان کی حکومت پر اور پاکستان کے دستوری اور قانونی ڈھانچے پر پورے شدومد کے ساتھ دنیا بھر میں دہرایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کر دیے گئے ہیں، ان کے شہری حقوق معطل ہو گئے ہیں اور قادیانیوں کے ہیومن رائٹس ختم کر دیے گئے ہیں۔ ابھی حال میں اسی ماہ کے آغاز میں برطانیہ میں ٹل فورڈ کے مقام پر قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارتی ہائی کمشنر نے شرکت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ حفصہ کی طالبات کی جدوجہد ۔ چند سوالات
جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات کے مطالبات اور جدوجہد کے حوالے سے معاملات جس رخ پر آگے بڑھ رہے ہیں اس سے کئی سنجیدہ سوالات نے جنم لیا ہے اور ان کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ بات اسلام آباد میں ایک مسجد کے گرائے جانے اور متعدد دیگر مساجد کو غیر قانونی قرار دے کر ان کے گرانے کا نوٹس جاری ہونے پر بطور احتجاج شروع ہوئی تھی جس میں جامعہ حفصہ کی طالبات نے ایک سرکاری لائبریری پر احتجاجاً قبضہ کر لیا تھا۔ طالبات اور ان کے سرپرست مولانا عبد العزیز اور مولانا غازی عبد الرشید ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستانی خواتین کے حقوق اور صدر مشرف
نیویارک میں پاکستانی خواتین کے اجتماع سے صدر پرویز مشرف کا خطاب ان دنوں عام طور پر موضوع بحث ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے صدر پرویز مشرف کی نیویارک آمد کے موقع پر یہاں کے بعض پاکستانی حلقوں نے ’’خواتین کانفرنس‘‘ کا اہتمام کیا جس میں صدر پاکستان کے بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ خواتین کے حقوق و مسائل کے حوالے سے صدر محترم پاکستان میں جو کوششیں کر رہے ہیں یا حکومت پاکستان جو اقدامات کر رہی ہے، ان سے عالمی سطح پر لوگوں کو متعارف کرایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ حفصہ کا مسئلہ اور دینی مدارس کا مستقبل
مولانا عبد العزیز کی گرفتاری کے بعد لال مسجد اور جامعہ حفصہ کا حکومت کے ساتھ تنازع ایک لحاظ سے اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے اور ان کے نائب مولانا عبد الرشید غازی کی طرف سے خود کو حکومت کے حوالے کرنے کی مشروط پیشکش نے حکومت کے ساتھ ان کی مسلح مزاحمت کے باقی ماندہ امکانات کو بھی ختم کر دیا ہے۔ جب ان دونوں بھائیوں نے چند ماہ قبل اپنے بعض مطالبات کے لیے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا تھا، اس وقت ملک کے سنجیدہ دینی حلقوں اور ان کے خیر خواہوں کی طرف سے انہیں یہ کہہ دیا گیا تھا کہ حکومت کے ساتھ اس طرح کی محاذ آرائی کا طریقہ درست اور قابل عمل نہیں ہے، اس لیے وہ اسے ترک کر دیں اور ملک کی علمی و دینی قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے اس کی مشاورت کے ساتھ مکمل تحریر
قرآن کریم اور رمضان المبارک کی برکات
اس سال رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور دیگر درجنوں دینی مراکز میں تراویح میں ختم قرآن کریم کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریبات میں گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، ان کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔ رمضان المبارک کا تعارف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قرآن ہی کے حوالے سے کرایا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم اتارا گیا، اس لیے قرآن کریم اور رمضان المبارک آپس میں لازم ملزوم ہیں اور ان کا یہ جوڑ اس قدر مضبوط ہے کہ نہ صرف یہ کہ رمضان المبارک میں قرآن کریم اتارا گیا بلکہ اس مہینے میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا سزائے موت کا قانون ختم کیا جا رہا ہے؟
روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۱ جون ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سزائے موت کا قانون برطانیہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدوں میں ایک رکاوٹ ہے، حکومت پاکستان نے تعزیرات پاکستان میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان بیرون ملک پاکستانیوں کی ہر صورت حوالگی چاہتا ہے تاکہ پاکستانی قانون کے مطابق ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی اسمبلی میں سودی نظام کے خلاف بل
کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایوان میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ایک بل پیش کیا جو مجلس قائمہ کے سپرد کر دیا گیا ہے اور اس کی رپورٹ کے بعد کسی وقت بھی وہ اسمبلی میں زیر بحث آسکتا ہے، سودی نظام کے خاتمہ کے لیے طویل عرصہ سے ملک میں مختلف سطحوں پر جدوجہد جاری ہے: دستور پاکستان میں حکومت پاکستان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سودی نظام ختم کر کے ملک کے معاشی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کرے، عدالت عظمیٰ ملک میں رائج سودی قوانین کو خلافِ دستور قرار دیتے ہوئے حکومت کو انہیں ختم کرنے کی ہدایت کر چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آزادی مارچ کی سیرت کانفرنس میں حاضری
۹ نومبر کا دن خاصا مصروف گزرا، رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع کی وجہ سے جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق کی چھٹی تھی اس لیے صبح نماز فجر کے بعد ہی سفر شروع کر دیا اور احباب کا ایک قافلہ بھی ساتھ بن گیا۔ حافظ نصر الدین خان عمر، حافظ شاہد میر، حافظ اسامہ قاسم، حافظ محمد قاسم، حافظ فضل اللہ اور حافظ محمد بن جمیل خان شریک سفر تھے۔ ہم گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر دوپہر تک ٹیکسلا پہنچے جہاں برادرم صلاح الدین فاروقی نے حضرت مولانا سید نفیس شاہؒ کی یاد میں قائم مسجد نفیس میں ظہر کے بعد سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نشست کا اہتمام کر رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قانون کی یکساں عملداری اور اسوۂ نبویؐ
۵ ستمبر کو ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کی سالانہ محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شرکت و خطاب کا موقع ملا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ جناب طارق جاوید مہمان خصوصی تھے، جبکہ اس موقع پر ڈسکہ بار کی طرف سے ایک جج اور دو وکیل صاحبان کو قرعہ اندازی کے ذریعے عمرہ کے تین ٹکٹ دیے گئے۔ یہ خوش نصیب جج سردار کمال الدین، طاہر رؤف ایڈووکیٹ اور عامر مختار بٹ ایڈووکیٹ ہیں، اللہ تعالٰی سب کو قبولیت و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ اس موقع پر میری گزارشات کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا امریکہ مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتا ہے؟
روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۵ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کو خون آلود مٹی قرار دیتے ہوئے خطے سے نکلنے کا عہد کیا ہے، وائٹ ہاؤس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی خون آلود مٹی چھوڑ دے گا، امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بہت امریکی سروسز کے ممبران مارے گئے، امریکہ کو اب مزید دنیا کے پولیس مین کے طور پر رہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 171
- 172
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »