’’حسبہ بل‘‘ پر عدالت عظمیٰ کا نیا فیصلہ

بعض اخباری رپورٹوں کے مطابق صوبہ سرحد کے وزیر قانون ملک ظفر اعظم سپریم کورٹ آف پاکستان میں ”حسبہ بل“ کے مقدمہ میں ناکامی پر دل برداشتہ ہو گئے ہیں اور وزارت سے مستعفی ہونے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ حسبہ بل صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت نے عوامی سطح پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نظام قائم کرنے کے لیے پیش کیا تھا، جسے صوبائی اسمبلی نے منظور کر لیا لیکن وفاقی حکومت کی طرف سے چیلنج کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس بل کی تین دفعات کو دستور کے منافی قرار دے دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ فروری ۲۰۰۷ء

’’پاکستان، ترکی یا الجزائر نہیں ہے‘‘

متحدہ مجلس عمل کے اعلٰی سطحی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے اور اسلامی رہے گا، اس کے دستور کی بنیاد اسلام پر ہے اس لیے کوئی چاہے بھی تو پاکستان کو سیکولر ریاست نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی اس کی اسلامی دفعات سے کوئی تعرض کیا جا رہا ہے۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر متحدہ مجلس عمل الیکشن میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ اسے اقتدار منتقل کر دیں گے کیونکہ پاکستان ترکی یا الجزائر نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جولائی ۲۰۰۲ء

گوادر ڈپلومیسی

صدر جنرل پرویز مشرف بھارت کے کامیاب دورے سے واپس آگئے ہیں اور ان کے دورے کے مختلف پہلوؤں پر قومی اور بین الاقوامی پریس میں گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے۔ جس رات جنرل پرویز مشرف آگرہ سے واپس اسلام آباد آئے صبح کے اخبارات کی جلی سرخیوں میں دورے کو ناکام قرار دے کر بھارت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ ایک دو روز کے بعد دورے کو ناکام کی بجائے نامکمل کہنا شروع کر دیا گیا۔ مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ دورہ نامکمل تھا نہ ناکام، بلکہ صدر مشرف نے وہ مقاصد حاصل کر لیے جو وہ اس دورے سے حاصل کرنا چاہتے تھے اور وہ آگرہ سے اپنے مشن میں کامیاب ہو کر واپس لوٹے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۲۰۰۱ء

صدر پرویز مشرف کے دس سوالات کا جائزہ

صدر جنرل پرویز مشرف کے جس خطاب کا پورے ملک بلکہ دنیا بھر میں انتظار کیا جا رہا تھا وہ چند دن پہلے سن لیا گیا ہے اور اس پر مختلف اطراف سے تبصروں کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ ہم اس خطاب کے مختلف پہلوؤں پر کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں مگر پہلے ایک فنی کوتاہی کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے جو ٹی وی پر صدر پرویز مشرف کا خطاب سنتے ہوئے ہمیں محسوس ہوئی ہے، وہ یہ کہ صدر صاحب کی تقریر کے ساتھ ساتھ نشر ہونے والے انگلش ترجمہ کا نظم معیاری نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۰۲ء

نظریۂ ضرورت اور ایڈہاک ازم

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری کے معاملہ نے اس قدر حیران و ششدر کر رکھا ہے کہ کئی بار قلم اٹھانے کے باوجود اس کالم کے لیے کچھ نہ لکھ سکا اور یہ زندگی کا پہلا تجربہ ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور میں اپنے ہفتہ وار کالم ”نوائے قلم“ کے لیے ایک مختصر سا مضمون لکھنے کے بعد قلم کو بریک سی لگ گئی اور بمشکل آج ذہن کو آمادہ کر پا رہا ہوں کہ اس کے بارے میں پھر قلم اٹھاؤں اور جو کچھ سامنے آ چکا ہے اس کے بارے میں کچھ معروضات قارئین کی خدمت میں پیش کر دوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۲۰۰۷ء

فیصلے سے قبل ہی سزا

جسٹس افتخار محمد چودھری نے جب اسٹیل ملز کی پرائیویٹائزیشن کے حوالے سے فیصلہ دیا تو یہ خدشہ اسی وقت سے ذہن پر منڈلانے لگا تھا کہ ”کچھ ضرور ہو گا“۔ پھر جب پتنگ بازی کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ سامنے آیا تو خدشے کا دائرہ وسیع ہو نے لگا، جب کہ بہت سے دیگر کیسوں میں چیف جسٹس کے برق رفتار فیصلوں نے بھی اس خدشے کو خطرے کا روپ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ لیکن سچی بات ہے کہ اس صورتحال کا ذہن کے کسی گوشے میں وہم و گمان بھی نہ تھا جس کا ملک کی عدالت عظمیٰ کے سربراہ کو سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۰۷ء

جسٹس افتخار محمد چودھری کا تاریخی خطاب

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجتماع سے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چودھری کا خطاب میں نے لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسیٰ منصوری کے گھر بیٹھ کر سنا۔ مجھے ۵ مئی کو لاہور سے لندن کے لیے سفر کرنا تھا، اسی روز جسٹس افتخار محمد چودھری صاحب کے لاہور ہائیکورٹ بار سے خطاب کی خبر اخبارات میں پڑھی تو دو حوالوں سے تشویش ہوئی، ایک اس حوالہ سے کہ جب وہ گوجرانوالہ سے گزریں گے تو میں ان کے استقبال میں شریک نہیں ہو سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مئی ۲۰۰۷ء

برطانوی استعمار اور امریکی استعمار کے مزاج کا فرق

تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر ایک بات عرصہ سے محسوس کر رہا ہوں اور کبھی کبھار نجی محافل میں اس کا اظہار بھی ہوتا رہتا ہے مگر اب اس احساس میں قارئین کو شریک کرنے کو جی چاہ رہا ہے، وہ یہ کہ ہر استعمار کا الگ مزاج ہوتا ہے اور اس کے اظہار کا اپنا انداز ہوتا ہے، ہم نے برطانوی استعمار کے تحت دو صدیاں گزاری ہیں، ایک صدی ایسٹ انڈیا کمپنی کی ماتحتی میں اور کم و بیش اتنا ہی عرصہ تاج برطانیہ کی غلامی میں گزار کر ۱۹۴۷ء سے آزاد قوم کی تختی اپنے سینے پر لٹکائے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۱۹ء

سودی نظام کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ توجہ درکار ہے

وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے بارے میں زیر سماعت مقدمہ کو غیر متعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا ہے اور چیف جسٹس صاحب نے اس کے ساتھ یہ ریمارکس دیے ہیں کہ جس دور میں سود کو حرام قرار دیا گیا تھا اس وقت کے حالات مختلف تھے اس لیے ان حالات میں نافذ کیے گئے قوانین و احکام کو آج کے دور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، جبکہ مقدمہ کے التوا کے اسباب میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ قرآن کریم نے ’’ربٰوا‘‘ کی جو اصطلاح استعمال کی ہے وہ مروّجہ سود سے مختلف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۷ء

پسند کی شادیاں اور طلاق کی شرح

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۱ نومبر ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’پسند کی شادیاں کرنے والی پندرہ سو لڑکیوں نے شادی کے ایک برس بعد ہی طلاقیں لے لیں۔ قانونی ماہرین نے پسند کی شادیوں کو معاشرے کے لیے بوجھ قرار دے دیا ہے۔ رواں برس میں جنوری سے نومبر تک لاہور کی سول عدالتوں نے دو ہزار خواتین کو طلاق کے سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں جن میں پندرہ سو خواتین پسند کی شادیاں کرنے والی شامل ہیں۔ ان عدالتوں نے یہ سرٹیفکیٹس یکم جنوری سے یکم نومبر کے درمیانی عرصہ کے دوران جاری کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter