قادیانی مسئلہ پر قوم کے شکوک و شبہات

انتخابی قوانین میں ترامیم کے حوالہ سے پارلیمنٹ کے منظور کردہ حالیہ بل میں قادیانیوں سے متعلق بعض شقوں میں تبدیلی کے انکشاف نے ملک بھر میں اضطراب کی ایک نئی لہر پیدا کر دی تھی، چنانچہ ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہونے پر قومی اسمبلی نے ترامیم کا قادیانیوں سے متعلقہ حصہ واپس لے کر سابقہ پوزیشن بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں شکوک و شبہات اور بے چینی کا ماحول موجود ہے اور مختلف دینی و قانونی حلقوں کی طرف سے صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے پر زور دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۷ء

اسلام کے خاندانی قوانین اور عدالتی فیصلوں کی صورتحال

روزنامہ انصاف لاہور میں ۲۳ اگست ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے اکٹھی تین طلاقیں دینے کے عمل کو آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے اور حکومت ہند سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اس دوران قانون سازی کرے۔ یہ مسئلہ کافی عرصہ سے بھارت کی سپریم کورٹ میں چل رہا تھا اور ہم اس سے قبل ان صفحات میں اس پر اظہار خیال کر چکے ہیں اور اب اس کا ذکر کرنے کا مقصد دینی و علمی حلقوں کو اس طرف ایک بار پھر توجہ دلانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۷ء

آزاد کشمیر میں شرعی عدالتوں کے نظام کا تحفظ ضروری ہے

۱۰ جولائی کو پلندری جانے کا اتفاق ہوا، جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف خان کے بیٹے کا ولیمہ تھا، اس موقع پر آزاد کشمیر کے بعض سرکردہ علماء کرام نے توجہ دلائی کہ ریاست آزاد و جموں کشمیر میں ضلع اور تحصیل کی سطح پر ججز اور قاضی صاحبان پر مشتمل جو دو رکنی عدالتیں کام کر رہی ہیں، ان کی بساط دھیرے دھیرے لپیٹی جا رہی ہے اور ہائیکورٹ کی سطح پر جو شرعی عدالت مصروف عمل ہے اس کے اختیارات کو محدود کرنے کے لیے ایک صدارتی آرڈیننس سامنے آچکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۷ء

تبدیلی کا مثالی فارمولا

ان دنوں ملک و قوم کے نظام اور معاشرتی صورتحال میں بہتری لانے کے دعوے ہر طرف سے کیے جا رہے ہیں، اور حکومت و اپوزیشن کے سب لیڈروں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کے موجودہ حالات کو بدلنا اور عوام کو ایک بہتر نظام اور سوسائٹی سے روشناس کرانا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ایک دوسرے پر کرپشن، بدعنوانی اور لوٹ کھسوٹ کے سنگین الزامات بھی مسلسل دہرائے جا رہے ہیں اور ایک عجیب سی صورتحال ملک میں پیدا ہو گئی ہے جس سے عام شہری پریشان ہیں اور انہیں کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ قومی راہنماؤں میں کس کا رخ کدھر کو ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۹ء

دینی مدارس اپنے آزادانہ کردار سے کیوں دستبردار نہیں ہوتے؟

دینی مدارس کا نظام ایک بار پھر ریاستی اداروں کے دباؤ کی زد میں ہے اور یہ کوشش نئے سرے سے شروع ہو گئی ہے کہ مدارس دینی تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں اپنے آزادانہ کردار سے دستبردار ہو کر خود کو بیوروکریسی کے حوالہ کر دیں۔ چنانچہ روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۶ ستمبر ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والی متعدد میٹنگوں کے بعد وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ تمام دینی مدارس کو وفاقی وزارت تعلیم کے انتظام میں دے دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۶ء

نتن یاہو، نریندرا مودی کے نقش قدم پر

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے حوالہ سے ایک خبر سوشل میڈیا میں مسلسل گردش کر رہی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ اگر وہ آئندہ الیکشن میں کامیاب ہوئے تو غرب اردن کے بعض علاقوں کو وہ باقاعدہ اسرائیل میں شامل کر لیں گے۔ اسرائیل کی جو سرحدیں اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے موقع پر طے کی تھیں، ان کے علاوہ اسرائیل نے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے وہ بین الاقوامی دستاویزات میں متنازعہ سمجھے جاتے ہیں، اور غرب اردن کا وہ علاقہ بھی ان میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۲۰۱۹ء

کشمیر اور افغانستان کی تازہ صورتحال پر ایک نظر

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل کینیتھ میکنزی کے درمیان گزشتہ روز جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی ملاقات خطہ کی موجودہ صورتحال بالخصوص کشمیر اور افغان مسئلہ کے حوالہ سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور اس سے دور رس نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔ افغانستان کے حوالہ سے امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ایک عرصہ سے جاری مذاکرات اچانک ڈیڈلاک کا شکار ہوگئے ہیں اور عین اس وقت جب کہ مذاکرات کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کی خبروں کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۱۹ء

کیا اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے؟

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ صاحب کے ارشاد کے حوالہ سے آپ کا کالم نظر سے گزرا۔ میری طالب علمانہ رائے میں ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ کا ارشاد بالکل بجا ہے کہ قرآن کریم کی جس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ ’’ولایت‘‘ کے درجہ کی دوستی سے منع کیا گیا ہے، وہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ معمول کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی ممالک کے ساتھ تعلقات اور معاملات میں ملت اسلامیہ نے کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۳ء

مذہب و ثقافت کی عالمی کشمکش اور چین کے صدر محترم

روزنامہ انصاف لاہور میں ۲۵ اپریل ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’چینی صدر شی جن پنگ نے ملک کی مذہبی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ اپنی اقدار کو چینی ثقافت اور کمیونسٹ پارٹی سے ہم آہنگ بنائیں، چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے یہ بات بیجنگ میں پارٹی کے مذہب کے بارے میں خدوخال بتاتے ہوئے کہی، صدر شی نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ چینی کمیونسٹ پارٹی خدا سے زیادہ اہم ہے، مذہبی تنظیموں پر لازم ہے کہ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے وابستہ رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۶ء

اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان عالمی کشمکش ۔ نیوٹ کنگرچ کے خیالات

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۷ جولائی ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ کنگرچ نے کہا ہے کہ جو مسلمان شریعت پر یقین رکھتے ہیں انہیں امریکہ سے نکال دیا جائے۔ اس سے قبل امریکی صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پابندی کا مطالبہ کر چکے ہیں، جبکہ ایوان نمائندگان (کانگریس) کے سابق اسپیکر نیوٹ کنگرچ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مغربی تہذیب حالت جنگ میں ہے، شریعت مغربی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter