ڈسکہ میں مولانا سمیع الحق شہیدؒ سمینار
مولانا سمیع الحق شہیدؒ ہماری ملی و دینی جدوجہد کی تاریخ کے ایک مستقل باب کا عنوان ہیں اور ان کی خدمات کا اس مختصر گفتگو میں تفصیلی تذکرہ ممکن نہیں ہے، البتہ چند باتیں عرض کر دیتا ہوں کہ مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر کام کی ضرورت ہے اور ان کے تلامذہ و رفقاء کو اس کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ مثلاً ایک پہلو یہ ہے کہ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمہ اللہ تعالٰی کے فرزند و جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی علمی، سیاسی و تحریکی جدوجہد کے رفیق کار بھی رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اتاترک کی تقلید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا
صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہی مصطفی کمال اتاترک کو اپنا آئیڈیل قرار دے کر کسی ابہام کے بغیر اپنی پالیسی ترجیحات کا جو دوٹوک اعلان کیا تھا، وہ اس پر بدستور قائم ہیں اور ان کی اب تک کی پالیسیوں اور اعلانات کا تسلسل اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ ان کی زبان پر اقتدار کے پہلے روز مصطفی کمال اتاترک کا نام محض اتفاقی طور پر نہیں آ گیا تھا، بلکہ اس کے پیچھے شعور اور عزائم کا ایک بھرپور پس منظر کارفرما تھا۔ اس لیے دینی اقدار و شعائر اور اسلام کے روایتی ڈھانچے کے حوالے سے وہ وقتاً فوقتاً جو کچھ بھی کہتے ہیں، ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالمی یہودی کانگریس سے صدر مشرف کا خطاب
صدر جنرل پرویز مشرف نیویارک کے ہنگامہ خیز دورے سے واپس پہنچ کر اسلام آباد میں اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں مگر نیویارک میں ان کے دورے کے حوالے سے مختلف امور پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کی نجی محفلوں کے علاوہ نیویارک سے شائع ہونے والے مقامی اردو اخبارات میں صدر پرویز مشرف کی باتوں پر دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اخبارات اگرچہ زیادہ تر اشتہارات پر مشتمل ہوتے ہیں اور مساجد اور اسٹوروں میں مفت تقسیم کیے جاتے ہیں لیکن پاکستانی کمیونٹی کے ایک بڑے حصے میں پڑھے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ: چند گزارشات
صدر جنرل پرویز مشرف آئندہ ماہ امریکہ جا رہے ہیں جہاں وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے، متعدد عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کریں گے اور اخباری اطلاعات کے مطابق وہ یہودیوں کی ایک آرگنائزیشن کے تحت پروگرام میں بھی شریک ہوں گے جہاں وہ اسلام میں اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر پر گفتگو کریں گے۔ جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس اس حوالے سے خاصا اہم ہے کہ اس میں اقوام متحدہ کے نظام میں بعض اہم اصلاحات زیر غور آنے والی ہیں جن میں سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں توسیع بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حجاب پر پابندی — ثقافتی جنگ کا ایک مورچہ
روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۰ مئی ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی دو خبریں ملاحظہ فرمائیں: ’’فرانس مسلمان خواتین کے پردے پر پابندی سے متعلق اقدامات میں مزید ایک قدم آگے بڑھ گیا، فرانس کی سینٹ نے بچوں کو سکول لانے والی ماں کے اسکارف پہننے پر بھی پابندی کا قانون منظور کر لیا، فرانس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں مسترد ہونے والے بل کو سینٹ نے ۱۸۶ ووٹوں سے پاس کیا جب کہ بِل کی مخالفت میں ۱۰۰ ووٹ پڑے، ۱۵۹ اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لیے آنے والی خواتین کے اسکارف پر پابندی سے متعلق بل دائیں بازو کی اسلام مخالف ری پبلکنز پارٹی نے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام علمی و تحقیقی سرگرمیاں
میرے بڑے بیٹے اور الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے ڈاکٹریٹ کی ہے اور پنجاب یونیورسٹی نے ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کر دی ہے۔ یہ خوشی کا موقع ہے اور اس خوشی میں ہم نے آپ کو دعوت دی ہے اور چائے کا انتظام کیا ہے۔ میں اس موقع پر تین حوالوں سے اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا تاکہ یہ ریکارڈ میں آ جائے۔. سب سے پہلے ایک باپ کی حیثیت سے کہ ایسے موقع پر باپ سے زیادہ خوشی کس کو ہوگی۔ عمارخان عالم دین ہے، مدرس بھی ہے، پی ایچ ڈی بھی ہوگیا ہے اور کام بھی کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وکلاء حضرات سے چند ضروری گزارشات
ہماری بنیادی دعوت تو وہی ہے جو دنیا بھر میں سب مسلمانوں کے لیے ہے کہ ہم سب کو دین کے اعمال اور ماحول کی طرف واپس آجانا چاہیے کیونکہ دین کے اعمال اور ماحول سے ہٹ کر ہم نے بہت خسارہ اٹھایا ہے۔ اور اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور پریشانیوں کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ ہم دین کے اعمال، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرز زندگی پر قائم نہیں رہے، جس کی بے برکتی نے ہمیں ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانیت ہدف کیوں؟
صدر جنرل پرویز مشرف کے پرسنل سیکرٹری اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جناب طارق عزیز کے حوالے سے ایک بار پھر قادیانیت کا مسئلہ منظر عام پر آیا ہے اور لاہور کے بعض علمائے کرام کی طرف سے اس مطالبہ نے اب تک زیر لب ہونے والی باتوں کو باقاعدہ خبر کی زبان دے دی ہے کہ جناب طارق عزیز کے والد بزرگوار کا جنازہ پڑھنے والے مسلم حکام کو تجدید ایمان کرنی چاہیے کیونکہ وہ قادیانی تھے۔ اس کے جواب میں طارق عزیز صاحب کے فرزند شعیب عزیز کا بیان آیا ہے کہ ان کی فیملی کا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سانحہ ساہیوال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ
سانحۂ ساہیوال کے بعد جس سوال نے قوم کو سب سے زیادہ پریشان کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ کیا سرکاری اہل کاروں کو یہ کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ جسے چاہیں مشکوک سمجھ کر دہشت گرد قرار دیں اور پھر اسے گولیوں سے بھون کر رکھ دیں۔ جو لوگ اس سانحہ میں فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں ان میں سے ایک فیملی کو ابتدائی تحقیقات میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے جبکہ ڈرائیور ذیشان کے بارے میں ابھی تک صرف شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد تھا، اس کے دہشت گرد ہونے کا کوئی ثبوت ابھی تک پیش نہیں کیا جا سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی
ایک عرصہ سے کان جو خبر سننے کے لیے ترس رہے تھے آج اس کا آغاز ہو گیا ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے پروگرام کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت آدھی امریکی فوج پہلے مرحلہ میں واپس جائے گی اور باقی نصف فوج کی واپسی کا بھی جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۲ دسمبر کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیں جو رائٹرز اور اے ایف پی کے حوالہ سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 172
- 173
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »