سعودی عرب اور اقوام متحدہ میں قادیانیوں کی سرگرمیاں
حرمین شریفین اور حجاج کرام و معتمرین کی مسلسل خدمت کی وجہ سے سعودی عرب پورے عالم اسلام کی عقیدتوں کا مرکز ہے، اور حرمین شریفین کے تقدس و تحفظ کے حوالہ سے سعودی حکومت کے ساتھ ہم آہنگی و یکجہتی کا اظہار بلاشبہ ہمارے ایمانی تقاضوں میں شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی دینی و ملی امور میں راہنمائی کے لیے مسلمانوں کا سعودی عرب بالخصوص ’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ اور سعودی علماء و مشائخ کی طرف متوجہ رہنا بھی فطری امر ہے، چنانچہ ۱۹۷۴ء کے دوران جب پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مسئلہ درپیش تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت اور وزیر داخلہ کا اعتراف حقیقت
وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل جناب معین الدین حیدر نے گزشتہ دنوں دارالعلوم کورنگی کراچی میں علماء کرام سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں اس بات کا علم ہے کہ مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مدد کرنا حرام ہے لیکن مجبوری کی حالت میں حرام کھانا بھی جائز ہو جایا کرتا ہے۔ اس طرح معین الدین حیدر اپنی تمام تر تلخ نوائی اور دھمکیوں کے باوجود اصولی طور پر ہمارے ساتھ اس موقف میں متفق ہوگئے ہیں کہ امارات اسلامی افغانستان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینا مسلمانوں کے خلاف عیسائیوں کی مدد کرنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ریفرنڈم کی دلدل
صدر محمد ایوب خان مرحوم کا ریفرنڈم مجھے یاد نہیں ہے میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا، البتہ اتنی سرگرمیاں اس دور کی ذہن کی یادداشت کے خانے میں محفوظ ہیں کہ نئے دستور کے لیے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی قیادت میں نظام العلماء پاکستان نے کچھ تجاویز مرتب کی تھیں جنہیں عرضداشت کے طور پر وزارت قانون کو مختلف شہروں سے خطوط کی شکل میں بھجوانے کی مہم جاری تھی اور گکھڑ میں اس پر دستخط کرانے کے لیے میں نے بھی تھوڑا بہت کام کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن فہمی میں حدیث و سنت کی اہمیت
بھیرہ کی جامع مسجد اور بگوی خاندان ہماری علمی و دینی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ دہلی کی ولی اللہی درسگاہ سے لے کر بادشاہی مسجد لاہور کی خطابت اور بھیرہ میں حزب الانصار کی تعلیمی و اصلاحی سرگرمیوں تک ایک پوری تاریخ ہے جس کا احاطہ ایک یا دو مضمون نہیں کر سکتے۔ اس دینی مرکز اور علمی خاندان کی سب سے اہم خصوصیت وہ توازن اور اعتدال ہے جو اہل سنت اور حنفی مکتب کے دو بڑے گروہوں دیوبندی اور بریلوی کے درمیان اختلافات کی شدت کے دور میں بھی دونوں کے سرکردہ حضرات کو یکجا کرنے کے اہتمام سے ظاہر ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں اجتماعی اجتہاد کی کوششوں پر ایک نظر
۱۹، ۲۰، ۲۱ مارچ کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں ادارہ تحقیقات اسلامی کے زیراہتمام ’’اجتماعی اجتہاد: تصور، ارتقا اور عملی صورتیں‘‘ کے عنوان پر تین روزہ سیمینار کا انعقاد ہوا جس میں پاکستان کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور اہل دانش کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے عرب دنیا کے ممتاز عالم و فقیہہ الاستاذ الدکتور وہبہ الزحیلی اور بھارت سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا سید جلال الدین العمری، مولانا سعود عالم قاسمی اور جناب فہیم اختر ندوی نے شرکت کی۔ مجھے بھی شرکت اور گفتگو کی دعوت دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا پاک بھارت انضمام ممکن ہے؟
مولانا فضل الرحمن نے دورہ بھارت سے واپسی پر بعض اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے گول میز کانفرنس کی کوئی تجویز پیش کی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ”اکھنڈ بھارت“ کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی بات کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کی اس وضاحت کے بعد ہمارے خیال میں اس حوالہ سے گفتگو کو آگے بڑھانے کی گنجائش باقی نہیں رہی، لیکن مسئلہ صرف مولانا فضل الرحمن کا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنرل پرویز مشرف کے بارے میں قادیانیوں کی خوش فہمی
مرزا طاہر احمد اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کی صورت میں انہیں ایک ایسا حکمران میسر آگیا ہے جس کے ذریعے وہ پاکستان کے حوالہ سے اپنے عزائم کی تکمیل کر سکیں گے، اسی لیے مرزا طاہر احمد اور ان کے ساتھ قادیانی جماعت مختلف دائروں میں پہلے سے زیادہ متحرک اور سر گرم دکھائی دے رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کو مذہبی انتہا پسندی سے پاک کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مذہبی دہشت گردوں کے خلاف مہم کے عنوان سے جنوبی ایشیا میں امریکہ اور اس کی قیادت میں عالمی اتحاد کی سرگرمیوں کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہب کا کارڈ اور دینی مدارس کے طلبہ
’’آزادی مارچ‘‘ کے لیے مولانا فضل الرحمان اور جمعیۃ علماء اسلام کی ملک گیر سرگرمیاں دلچسپی کے ساتھ دیکھ رہا ہوں اور مختلف دوستوں کے متنوع سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ میں نے ان سرگرمیوں کے آغاز پر ایک کالم میں لکھا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا موقف اور رخ دونوں میرے خیال میں درست ہیں مگر رفتار اور لہجے کے حوالہ سے کچھ تحفظات ذہن میں موجود ہیں، یہ تحفظات ابھی تک قائم ہیں یا ان میں کچھ فرق پڑا ہے اس کے بارے میں کچھ دنوں کے بعد ہی عرض کر سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جناب صدر! پاکستان ”آئیڈیل ازم“ کے لیے بنا ہے
صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے بہت کچھ فرمایا ہے اور ریفرنڈم مہم کے لیے جن پبلک جلسوں کا حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے ان میں بھی صدر محترم کچھ فرمائیں گے۔ انہوں نے آئندہ سیاسی نظام کے لیے اپنی ذات کو محور بنانے اور آئینی ترامیم کے حوالہ سے اپنی سوچ کو واحد بنیاد قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی روایات کی پاسداری معروضی حالات میں ان کا ”حق“ بنتا ہے کیونکہ پاکستان کے ہر چیف آف آرمی سٹاف کو عملاً ملک میں سب سے بڑے ”پاور بروکر“ کی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستور کو چھیڑنا خطرناک ہوگا
جناب محمد رفیق تارڑ ایوان صدر سے رخصت ہو کر لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر آرام کر رہے ہیں اور بعض اخبارات کی رپورٹ کے مطابق ان کا ارادہ اب مطالعہ کتب اور لکھنے پڑھنے کا ہے۔ وہ ملک میں دستور کی آخری علامت کے طور پر باقی رہ گئے تھے اور شاید اسی وجہ سے انہوں نے فوجی حکام کے تقاضے پر استعفیٰ دینے سے انکار کیا مگر ان کے انکار کے باوجود انہیں پی سی او کے تحت سبکدوش کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کر دیا گیا اور ان منتخب اداروں کے سربراہوں کو بھی ان کے مناصب سے فارغ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 170
- 171
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »