’’مدرسہ ڈسکورسز‘‘ کے بارے میں

گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے ہال میں منعقد ہونے والا مدرسہ ڈسکورسز کا پروگرام اور اس میں میری شمولیت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے اور بعض دوستوں نے مجھ سے تقاضا کیا ہے کہ اس سلسلہ میں اپنے موقف اور طرز عمل کی وضاحت کروں۔ چنانچہ کچھ گزارشات پیش کر رہا ہوں، مگر اس سے پہلے اپنا ایک پرانا مضمون قارئین کے سامنے دوبارہ لانا چاہوں گا جو ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کے اپریل ۱۹۹۲ء کے شمارہ میں ’’دینی مدارس کا نظام: خدمات، تقاضے اور ضروریات‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۲۰۱۹ء

آرمی چیف اور وفاقی وزراء کے ساتھ سرکردہ علماء کرام کی حالیہ ملاقات

چیف آف آرمی اسٹاف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود اور وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کے ساتھ مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کی ۱۶ جولائی کو ہونے والی ملاقات کی تفصیلات مختلف خبروں اور کالموں میں قارئین کی نظر سے گزر چکی ہوں گی، راقم الحروف بھی اس ملاقات میں شریک تھا اور ایک خاموش سامع کے طور پر پوری کاروائی کا حصہ رہا۔ مجھے جب اس میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی اور بتایا گیا کہ یہ دینی مدارس کے سلسلہ میں ہونے والی گزشتہ ملاقاتوں کے تسلسل میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۱۹ء

بجٹ کے بارے میں علماء کرام اور تاجر راہنماؤں کے تاثرات

گوجرانوالہ میں علماء کرام نے حسب روایت تاجر برادری کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اجتماعات کا اہتمام کیا ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ ایک صدی سے معمول چلا آرہا ہے کہ کوئی قومی، دینی یا شہری مسئلہ ہو علماء کرام، وکلاء اور تاجر راہنما باہمی مشاورت کا اہتمام کرتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ شہریوں کو مشترکہ موقف اور راہنمائی فراہم کی جائے۔ مکمل تحریر

۱۳ جولائی ۲۰۱۹ء

بجٹ کے مسائل اور حضرت شاہ ولی اللہؒ

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اب سے تین صدیاں قبل سرکاری خزانے اور ٹیکسوں کے نظام پر بحث کرتے ہوئے ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں تحریر فرمایا تھا کہ: ’’ہمارے زمانے میں ملک کی ویرانی کے بڑے اسباب دو ہیں۔ ایک یہ کہ لوگوں کا بیت المال پر بوجھ بن جانا، اس طرح کہ بہت سے لوگ سرکاری خزانے سے وصولی کو ہی کمائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس بنیاد پر کہ وہ ملک کے لیے لڑنے والوں میں سے ہیں، یا ان علماء میں سے ہیں جو سرکاری خزانے پر اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۱۹ء

نفاذِ شریعت کے نام پر تشدد روا نہیں ہے

۱۶ دسمبر کو پشاور کے ایک سکول میں دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد کی المناک شہادت پر، جن میں غالب اکثریت بچوں کی ہے، ملک کا ہر شخص سوگوار ہے اور اس دہشت ناک سانحہ نے نہ صرف بہت سے پریشان کن سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیکولرازم کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا کو ایک بار پھر عالمی سطح پر یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ پاکستان کے دینی مدارس کے بارے میں کردارکشی کی مہم کو نئے سرے سے منظم کرے اور دینی حلقوں کو بدنام کرنے کے لیے اور زیادہ سرگرم عمل ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۵ء

دار العلوم تعلیم قرآن راولپنڈی کا سانحہ اور مستقبل کے خدشات

گزشتہ ماہ کے آخری روز میں میرپور آزاد کشمیر میں تھا جہاں جامعہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ دستار بندی تھا، مولانا عبدالخالق پیرزادہ، مولانا سید عبد الخبیر آزاد، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا حق نواز اور حاجی بوستان صاحب کے ہمراہ میں نے بھی اس سعادت میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کرنے والے فضلاء اور قرآن کریم مکمل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۴ء

خواتین کی نسل کشی اور نسوانیت کشی

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۲ اپریل ۲۰۱۴ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی تنظیم خواتین کو نسلی امتیاز کی بنیاد پر درپیش مسائل اور منصوبہ بندی کے تحت نسل کشی کے اقدامات کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ’’جینڈر سائیڈ اویئرنیس پروجیکٹ‘‘ (Gendercide Awareness Project) کے نام سے کام کر رہی ہے۔اس تنظیم کی بانی اور چیئر پرسن بیورلی ہل (Beverley Hill) نے کہا ہے کہ خواتین کو دنیا بھر میں نسل کشی کا سامنا ہے جس میں چین سب سے آگے اور بھارت دوسرے نمبر پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۴ء

مسیحی دنیا میں قدیم و جدید کی کشمکش

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۰ اکتوبر ۲۰۱۴ء کی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’ویٹیکن سٹی (اے پی اے) دو ہفتوں تک جاری رہنے والا کیتھولک مسیحیوں کے سینئر مذہبی اکابرین کا خصوصی اجلاس طلاق اور ہم جنس پرستی کے حق میں فیصلہ نہیں دے پایا، اس صورتحال کو پوپ فرانسِس کے لیے دھچکا قرار دیا گیا ہے۔ ویٹیکن سٹی میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والی کیتھولک مشائخ سالانہ کانفرنس (SYNOD) کسی بڑے فیصلے کے بغیر ہی ختم ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۴ء

پاکستان میں سودی نظام کے حوالہ سے ایک رپورٹ

روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۱۹ نومبر کو شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ڈی ایف آئی ڈی کے تعاون سے ہونے والی ایک منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ: پاکستان میں اسلامک بینکاری کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ۹۵ فیصد عوام کا ماننا ہے کہ سود پر پابندی ہونی چاہیے اور ساتھ ہی بینکوں میں سود کے موجودہ سسٹم کو بھی ختم ہونا چاہیے۔ تحقیق میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ملک میں اسلامی بینکاری کے موجودہ حجم سے ملک کے گھریلو اور کاروباری ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۴ء

علماء دیوبند کی سپریم کونسل کا قیام

امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے فرزند اور مجلس احرار اسلام کے راہنما مولانا حافظ سید عطاء المومن شاہ بخاری کی تحریک پر ۱۸ نومبر کو اسلام آباد میں مسلک علماء دیوبند سے تعلق رکھنے والی بہت سی جماعتوں کے راہنماؤں اور دیگر شخصیات کا قومی سطح پر ایک مشترکہ اجتماع ہوا جس میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا حافظ حسین احمد، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، مولانا اشرف علی، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا اللہ وسایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter