ایران میں گیارہ روز: ایرانی انقلاب کے اثرات، معاشرتی تبدیلیاں، اور اہل سنت کے مسائل

کوئٹہ کی جامع مسجد سفید کے خطیب مولانا قاری عبد الرحمٰن ایرانی انقلاب کے ان پرجوش حامیوں میں شمار ہوتے ہیں جو نہ صرف خود انقلابِ ایران کے محاسن و فضائل کے پرچار میں مصروف رہتے ہیں بلکہ ان کی مسلسل کوشش رہتی ہے کہ پاکستان کے دینی حلقوں کے روابط ایرانی انقلاب کے رہنماؤں کے ساتھ مثبت بنیادوں پر استوار ہوں اور پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے سلسلہ میں ایران کے انقلابی رہنماؤں کے تجربات سے استفادہ کیا جائے۔ گزشتہ سال حج بیت اللہ کے موقع پر مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ میں ان سے ملاقات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۱۹۸۷ء

قادیانی مسئلہ اور صدر ٹرمپ

چند روز قبل امریکہ کے صدر جناب ٹرمپ کے ساتھ ایک قادیانی وفد کی ملاقات کی خبر سے قادیانی مسئلہ ایک نیا رخ اختیار کر گیا ہے، بتایا جاتا ہے کہ قادیانی وفد نے امریکی صدر سے شکایت کی ہے کہ پاکستان میں انہیں مسلمان تسلیم نہیں کیا جاتا اس کے جواب میں صدر امریکہ نے کیا کہا اس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا مگر اس کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو بحث و تمحیص کا سلسلہ ازسرنو شروع ہو گیا ہے وہ بہرحال توجہ طلب ہے۔ اس حوالہ سے بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ شکایت صدر امریکہ کے سامنے پیش کرنے کا مقصد کیا ہے؟ مکمل تحریر

۳ اگست ۲۰۱۹ء

تبلیغی جماعت اور دینی سیاست

حضرت مولانا طارق جمیل سے منسوب یہ بات میرے لیے تعجب کا باعث بنی ہے جس میں انہوں نے اپنے عقیدت مندوں کو تلقین کی ہے کہ وہ سیاست میں فریق نہ بنیں اور کسی سیاسی جماعت کا حصہ نہ بنیں، یہ بات اگر انہوں نے کہی ہے تو مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے مگر انہیں اپنی رائے کا پورا حق حاصل ہے اور ان کے اس حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ البتہ اس سے مجھے ایک پرانا قصہ یاد آگیا ہے کہ گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب استاذ العلماء حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ہم سب کے مخدوم تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۹ء

دور حاضر کا ایک اہم علمی و فکری چیلنج

۱۹۸۸ء کے لگ بھگ کی بات ہے امریکی ریاست جارجیا کے ایک شہر اگستا میں گکھڑ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست افتخار رانا کے ہاں کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہوا تھا۔ میں نے رانا صاحب سے کہا کہ کسی سمجھدار سے مسیحی مذہبی راہنما سے ملاقات و گفتگو کو جی چاہتا ہے، انہوں نے جارجیا کے صدر مقام اٹلانٹا کے ایک پادری صاحب سے، جو بیپٹسٹ فرقہ کے اس علاقہ کے چیف تھے، بات کر کے وقت لے لیا اور ملاقات کا اہتمام کیا، جبکہ رانا صاحب خود بطور ترجمان گفتگو میں شریک رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جولائی ۲۰۱۹ء

پاپائے روم کا حقیقت پسندانہ موقف

فرانسیسی جریدہ میں گستاخانہ خاکوں کی بار بار اشاعت کے بعد جہاں مغربی ممالک کے حکمران آزادئ رائے کے نام پر اس گستاخانہ طرز عمل کا مسلسل دفاع کر رہے ہیں وہاں مسیحی دنیا کے مذہبی پیشوا پاپائے روم پوپ فرانسِس نے یہ بیان دے کر معقولیت کا مظاہرہ کیا ہے کہ آزادئ رائے کے نام پر کسی کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور توہین کا آزادئ رائے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کے خلاف منفی مہم کا نیا راؤنڈ

دینی مدارس ایک بار پھر بین الاقوامی اور قومی سطح پر اعتراضات اور تنقید کے ساتھ ساتھ قومی پالیسی کے تحت بعض متوقع اہم اقدامات کا ہدف ہیں اور میڈیا اور لابنگ کے محاذ پر سیکولر لابیاں اس صورتحال کو دینی مدارس کے خلاف استعمال کرنے میں پوری چابکدستی کے ساتھ مصروف ہیں۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کے ساتھ مختلف مذہبی مکاتب فکر کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات میں راقم الحروف بھی شریک تھا جس میں دہشت گردی کے خلاف نئی قومی پالیسی کے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۵ء

ووٹ کا حق اور روہنگیا مسلمانوں کی بے بسی

روزنامہ اسلام لاہور ۱۳ فروری ۲۰۱۵ء کی ایک خبر کے مطابق برما کے روہنگیا مسلمانوں کو چند روز تک ہونے والے ایک ریفرنڈم میں ووٹ دینے کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے اور بودھوں کے ایک مظاہرہ کے بعد میانمار (برما) کے وزیر اعظم تھین سین نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ریفرنڈم میں روہنگیا مسلمان ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۵ء

قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے سلسلہ میں تحفظات

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ’’قومی ایکشن پلان‘‘ پر عملدرآمد جاری ہے، فوجی عدالتیں تشکیل پا گئی ہیں اور ملک بھر میں گرفتاریوں، سزاؤں اور پابندیوں کا دائرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے پوری قوم متحد ہے اور تمام دینی و سیاسی جماعتوں نے نہ صرف اس قومی عزم کی حمایت کی ہے بلکہ وہ اس میں بھرپور تعاون بھی کر رہی ہیں مگر اس سلسلہ میں بعض حلقوں کی طرف سے تحفظات کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے جن پر توجہ دینا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۵ء

غیر سودی بینکاری اور آئی ایم ایف

دنیا میں سودی نظام کی تباہ کاریوں کا شعور جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے خلاف ردعمل جس طرح منظم ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی آسمانی تعلیمات کی اہمیت و برکات کا احساس بھی دھیرے دھیرے اجاگر ہو رہا ہے۔ جبکہ علمی اور فکری دنیا میں یہ بات اب کم و بیش طے سمجھی جاتی ہے کہ سودی نظام نے نسل انسانی کو اخلاقی تباہی اور معاشی انارکی کے سوا کچھ نہیں دیا اور اصلاحِ احوال کے لیے اب قرآن کریم کی طرف نظریں اٹھ رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۵ء

دہشت گردی کے اصل مراکز

نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے میں جو اسلحہ پکڑا گیا ہے اور جس طرح درجنوں مقدمات میں مطلوب مجرم حراست میں لیے گئے ہیں اس سے دینی حلقوں کا یہ موقف ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ دہشت گردی کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ یہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اور مختلف حوالوں سے موجود ہے۔ اس لیے اس کے لیے دینی حلقوں اور مدارس کو مطعون کرنا اور ان کے خلاف کردار کشی اور منافرت کی مہم کو آگے بڑھانا نہ صرف یہ کہ درست نہیں ہے بلکہ ملک و قوم کے مفاد میں بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter