بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۲۲ جولائی ۲۰۱۳ء کی اشاعت میں بھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ: ’’عدالت عظمیٰ نے بمبئی کے ان سینکڑوں رقص خانوں کو کھلوا دیا ہے جنہیں مہاراشٹر سرکار نے ۲۰۰۵ء میں یہ کہہ کر بند کروا دیا تھا کہ ان ’’ڈانس بارز‘‘ میں رقص و سرور کے نام پر جنسی ایکٹ (چکلے) چلائے جاتے ہیں، بے ہودہ اور فحش حرکات کی جاتی ہیں، رقاصائیں انتہائی اشتعال انگیز پوشاکوں میں لوگوں کے سامنے آ کر بے شرمی کے مظاہرے کرتی ہیں جن سے تماش بینوں کی اخلاقیات پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۳ء

افغانستان میں غیر ملکی تسلط کی مدد کی شرعی حیثیت / سعودی حکومت کا جرأتمندانہ فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور نے ۲۱ اکتوبر کو آئی این پی کے حوالہ سے خبر شائع کی ہے کہ: ’’ملک کے ممتاز عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی نے افغانستان پر غیر ملکی تسلط میں سرکاری اور ہر طرح کی مدد کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے فتویٰ جاری کیا ہے کہ شرعی نقطۂ نظر سے حکومت پاکستان اس امر کی مجاز نہیں ہے کہ وہ پڑوسی مسلمان ملک پر غیر مسلموں کے قبضے کو مستحکم کرنے میں غیر ملکی جارح قوت کی مدد کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۳ء

سپریم کورٹ اور سودی نظام

عدالت عظمیٰ میں دس سال کے بعد ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۳ء کو ایک بار پھر سود کے مسئلہ پر غور شروع کر دیا گیا ہے اور جو سوالات سود کے بارے میں ازسرِنو بحث کا موضوع بن رہے ہیں ان میں سے چند اہم سوالات یہ ہیں کہ: (۱) کیا قرض اور لون (Loan) دونوں قرآن کریم کے نزدیک ہم معنٰی ہیں؟ (۲) کیا سود کے حرام ہونے کا اطلاق غیر مسلم شہریوں پر بھی کیا جائے گا اور دوسرے ملکوں سے جو قرض لیا گیا ہے اس پر اس قانون کو کیسے لاگو کیا جائے گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۳ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے قیام پاکستان کے فورًا بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان میں مغربی معاشی نظام کی بجائے اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی نظام کی خواہش رکھتے ہیں، اور انہوں نے اس موقع پر اس بات کا دو ٹوک اظہار کیا تھا کہ مغربی نظام معیشت نسل انسانی کے لیے تباہی کا باعث بنا ہے اور اس سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۳ء

دارالعلوم تعلیم القرآن راولپنڈی کا المناک سانحہ

ملک کے معروف تعلیمی ادارہ دارالعلوم تعلیم القرآن (راجہ بازار، راولپنڈی) میں ۱۰ محرم الحرام کو جو المناک سانحہ پیش آیا اس پر ہر صاحبِ درد شخص کا دل تڑپ اٹھا ہے اور کرب و اضطراب نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کا قائم کردہ یہ دینی مرکز پون صدی سے تعلیمی و دعوتی خدمات سر انجام دینے میں مصروف ہے اور ہزاروں علماء کرام نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہے۔ عاشوراء کے دن نماز جمعۃ المبارک کے وقت وہاں ماتمی جلوس کے گزرنے پر جو قیامت بپا ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۳ء

’’نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے‘‘

ہفت روزہ اخبار جہاں کراچی ۱۳ فروری ۲۰۱۳ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’فرانس کی قومی اسمبلی نے ایک ہی جنس کے افراد کے مابین شادی کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ ۹۷ کے مقابلہ میں ۲۴۹ ارکان نے بل کے حق میں رائے دیتے ہوئے شادی کی ازسرِنو تشریح کی ہے جس کے تحت شادی صرف ایک مرد اور عورت کے مابین ہی نہیں بلکہ دو افراد کے مابین معاہدے کا نام ہے۔ فرانس کے صدر فرانکوئس اولاند کی سوشلسٹ پارٹی اور ان کی حلیف بائیں بازو کی جماعت نے اس بل کی حمایت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

شیخ الازہر کا اعلانِ حق

روزنامہ کائنات اسلام آباد کے ۷ فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیے کہ: ’’مصر کی معروف تاریخی دینی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد پر زور دیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور بحرین کا برادر ہمسایہ عرب ملک کے طور پر احترام کریں، اہل السنۃ والجماعۃ مسلک کے پیر و کار ملکوں میں شیعہ ازم کے فروغ کی کوششیں نا پسندیدہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۳ء

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۴ ستمبر کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی آئینی تقاضہ ہے اس لیے پارلیمنٹ کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتا یا کہ گزشتہ بارہ سال کے دوران اسلامی نظریاتی کونسل کی منظور کردہ ہزاروں سفارشات ایک بار پھر پارلیمنٹ کو بھجوا دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۳ء

گوجرانوالہ کے دو دینی مدارس کے خلاف پولیس ایکشن

گزشتہ دنوں گوجرانوالہ کے دو دینی مدرسوں مدرسہ انوار العلوم اور مدرسہ مظاہر العلوم کے خلاف پولیس ایکشن سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں تشویش و اضطراب کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بات صرف اتنی تھی کہ رمضان المبارک کے دوران چلاس ضلع دیامر میں ایک حملہ کے دوران ڈسٹرکٹ پولیس افسر ہلال خان اور ان کے رفقاء جاں بحق ہوئے، ہلال خان گوجرانوالہ میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں اور اچھے پولیس افسروں میں ان کا شمار ہوتا تھا، ان کی شہادت پر خود ہمیں بھی بہت دکھ ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۳ء

پشاور کا المناک سانحہ

۲۲ ستمبر کو پشاور کے ایک چرچ میں دو خودکش دھماکوں کے دوران ۸۰ کے لگ بھگ افراد کے جاں بحق اور سینکڑوں شہریوں کے زخمی ہونے پر ملک بھر میں شدید غم و غصہ اور رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور قوم کے تمام طبقات کی طرف سے اس کی مذمت اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ اتوار کا دن تھا اور مسیحی برادری کے حضرات اپنی عبادت میں مصروف تھے کہ اچانک خودکش حملوں کے باعث کہرام مچ گیا اور ہر طرف لاشوں اور زخمیوں کے بکھرنے سے پوری قوم غم و اندوہ کا شکار ہو گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter