علامہ محمد اقبالؒ کا عید الفطر کے اجتماع سے خطاب

وفاقی وزیر سائنسی امور فواد چودھری صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستان بنانے والے قائدین مذہبی لوگ نہیں تھے اور نہ ہی مذہبی راہنماؤں کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار ہے۔ باقی تمام باتوں سے قطع نظر مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کا ایک خطاب پیش کیا جا رہا ہے جو انہوں نے ۹ فروری ۱۹۳۲ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عید الفطر کے اجتماع میں ارشاد فرمایا تھا اور انجمن اسلامیہ لاہور نے اسے چھپوا کر تقسیم کیا تھا۔ اس خطبہ کا متن عبد الواحد معینی اور عبد اللہ قریشی کے مرتب کردہ ’’مقالات اقبالؒ‘‘ سے لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۹ء

’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کے لیے ہماری گزارشات

رابطہ عالم اسلامی کے ’’موتمر وثیقہ مکہ المکرمہ‘‘ کی تیسری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کویت یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامی کے سربراہ ڈاکٹر حمود فہد القشعان نے ایک دلچسپ کہاوت سے گفتگو کا آغاز کیا اور اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں میں اعتدال، وسطیت اور توازن کی اہمیت و ضرورت پر خوبصورت گفتگو کی۔ ان کی زبان سے یہ کہاوت سن کر مجھے اپنے آبائی شہر گکھڑ کے ایک پرانے بزرگ صوفی نذیر احمد کشمیری مرحوم یاد آگئے جن سے میں نے یہ کہانی نصف صدی قبل پنجابی زبان میں متعدد بار سن رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۱۹ء

رابطہ عالم اسلامی کا مؤتمر عالمی

بحمد اللہ تعالٰی حرمین شریفین کی حاضری اور رابطہ عالم اسلامی کے عالمی موتمر میں شرکت کے بعد وطن واپس آگیا ہوں۔ رابطہ عالم اسلامی نے مکہ مکرمہ میں ۲۲ تا ۲۴ رمضان المبارک عالمی موتمر کا انعقاد کیا جس کا عنوان ’’الوسطیہ والاعتدال فی نصوص الکتاب والسنہ‘‘ تھا۔ خادم الحرمین الشریفین الملک سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالٰی کے خصوصی پیغام سے کانفرنس کا آغاز ہوا اور مسلسل تین روز جاری رہنے کے بعد ’’وثیقہ مکہ مکرمہ‘‘ کے اعلان پر موتمر اختتام پذیر ہوا۔ دو سو کے لگ بھگ ممالک سے بارہ سو کے قریب سرکردہ علماء کرام کانفرنس میں شریک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جون ۲۰۱۹ء

دنیا کی ضرورت خلفاء راشدین والا اسلام ہے

برطانیہ کے ولی عہد شہزادہ چارلس نے کچھ عرصہ قبل ایک تقریب میں اپنے دانشوروں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ: ’’اسلام کا مطالعہ کریں اور بطور نظام زندگی اور متبادل سسٹم اسے اسٹڈی کریں۔ لیکن اسلام کا مطالعہ کرتے ہوئے دو باتوں کی طرف مت دیکھیں، ایک یہ کہ ہمارے بڑوں نے اسلام کے بارے میں کیا کچھ کہا ہے، دوسرا یہ کہ اس وقت مسلمان کیسے نظر آرہے ہیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مئی ۲۰۱۹ء

قیامت کب آئے گی؟

۲۱ دسمبر گزر گیا ہے اور قیامت کی پیشگوئی کرنے والوں کی طرف سے حسبِ سابق یہ عذر سامنے آیا ہے کہ کیلنڈر کا حساب صحیح طور پر نہیں لگایا جا سکا۔ گزشتہ سال کیلیفورنیا کے معمر پادری فادر کیمنبگ کی طرف سے ۱۲ مئی ۲۰۱۱ء کو قیامت واقع ہو جانے کی پیشگوئی کی گئی تھی اور اس روز بھی بہت سے لوگ قیامت کے انتظار میں تھے مگر وہ دن بھی ایسے ہی گزر گیا تھا جیسے ۲۱ دسمبر ۲۰۱۲ء کا دن گزر گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۳ء

قادیانیوں کی عالمی سر گرمیاں

قومی اسمبلی میں جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا عطاء الرحمٰن نے ایک تحریک کے ذریعے ایوان کو توجہ دلائی ہے کہ کینیڈا میں پاکستانی سفارت خانے کے تعاون سے قادیانیوں نے ایک تقریب منعقد کی ہے جس میں تقریب کے منتظمین کے خیال میں اسلام کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنا مقصود تھا۔ مولانا موصوف نے کہا کہ پاکستان کے دستور کے مطابق قادیانی گروہ مسلمان نہیں ہے اس لیے ان کی کسی تقریب کو اسلام کے حوالہ سے منعقد کرنے میں پاکستانی سفارت خانے کا مبینہ تعاون دستور پاکستان کی خلاف ورزی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۳ء

پاپائے روم اور روایتی مسیحی تعلیمات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۴ دسمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیتھولک فرقہ کے موجودہ سربراہ پاپائے روم پوپ بینیڈکٹ نے ۲۰۱۲ء کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے حساب سے درست ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اپنی تازہ تصنیف میں، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سوانح عمری پر مشتمل ہے اور اس کے دس لاکھ نسخے شائع کیے گئے ہیں، کہا ہے کہ رواں سال کو ۲۰۱۲ء کہنا درست نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم جنوری ۲۰۱۳ء

بیت المقدس کی آزادی اور یہودی سازشیں

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ نے خبر شائع کی ہے کہ: ’’مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے اسرائیل کی شہریت کو حرام قرار دیا ہے اور اپنے سابقہ فتوے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی شہریت حاصل کرنا شرعی حوالہ سے حرام ہے کیونکہ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالہ سے اسرائیل کے ساتھ معرکے کا ایک پہلو یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا بھی ہے اور اسرائیل مسجد اقصیٰ کے اطراف میں پھیلے اس با برکت شہر کی آبادی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

میانمار (برما) کے صوبہ اراکان میں مسلمانوں کے قتل عام کے حوالہ سے ان صفحات پر ہم اپنے جذبات کا اس سے قبل کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ اس خطہ کے مسلمان انتہائی مظلومیت کا شکار ہیں کہ جس ملک میں وہ صدیوں سے رہ رہے ہیں وہاں کی حکومت انہیں اس ملک کا شہری تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری طور پر ان کا مسلسل قتل عام ہو رہا ہے، پڑوس کے ممالک حتٰی کہ بنگلہ دیش بھی ان کے مہاجرین کو با قاعدہ پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

جھوٹے مقدمات کا گھناؤنا کاروبار

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۳ جنوری ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گوجرانوالہ کے ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر نثار احمد نے کہا ہے کہ: ’’مخالفین کو پھنسانے کے لیے ناک اور انگلی کی ہڈی ٹوٹنے کی ۸۰ فیصد ضربات خودساختہ ہوتی ہیں اور خود ہڈیاں توڑ کر مخالفین کے خلاف مقدمات درج کروانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، ہسپتالوں میں خودساختہ ضربات لگانے اور ہڈیاں توڑنے کے ماہر افراد کے ایجنٹ دندناتے پھر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter