مسلم ممالک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی خبر کے مطابق مصر کی سپریم کورٹ نے مصر کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا حکم دے دیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی انتخابات غلط قوانین کے تحت ہوئے تھے اور ایک تہائی نمائندے پارلیمنٹ کا رکن بننے کے اہل نہیں تھے۔ جبکہ کویت کی دستوری عدالت نے بھی ایک فیصلے میں، جسے کسی جگہ بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کویت کے حالیہ انتخابات کو کالعدم قرار دے کر ماضی کی پارلیمنٹ بحال کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

یہ آزادیٔ رائے نہیں ہے

امریکی مندوب نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی جانب سے توہین مذہب اور توہین رسالت ؐ کو غیر قانونی قرار دینے کے مطالبات پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا نے مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کو ایک ساتھ فروغ دینے کی اجازت دی تو مذہبی یگانگت اور معاشی خوشحالی اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور جب بھی دونوں آزاد یوں کو محدود کیا گیا تو تشدد غربت اور مایوسی کے جذبات پروان چڑھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

ملالہ یوسف زئی اور میڈیا

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کے بعد ورلڈ اور قومی میڈیا نے جو ہاہاکار مچائے رکھی اس نے چند دنوں تک تو اچھے بھلے ارباب دانش کو پریشان کیے رکھا ہے لیکن اب جوں جوں میڈیا اور لابیوں کا اڑایا ہوا غبار بیٹھتا جا رہا ہے لوگوں کو اصل حقیقت کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے اور بہت سے سوالات جو زیرلب تھے اب سامنے آتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

مسیحیت اور سیکولرزم کی کشمکش

مسیحی ماہنامہ ’’شاداب‘‘ لاہور کے اکتوبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ: ’’عیسائیت کے پیروکاروں میں کمی اور سیکولرزم سے مقابلہ کے لیے دنیا بھر کے بشپس کا اجلاس ویٹی کن سٹی میں ہو گا، یہ اجلاس تاریخی مگر متنازعہ دوسری ویٹی کن سٹی کونسل کی ۵۰ ویں سالگرہ کے موقع پر کیا جا رہا ہے جس سے عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ خطاب کریں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

برما میں مسلمانوں کی حالت زار

دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ کے شمارہ ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے: ’’برما میں بوزی قبائل کے دہشت گرد گروپ ’’ماگ‘‘ کی جانب سے مسلمان آبادی پر مسلط کی گئی جارحیت میں اب تک کم سے کم ۲۵۰ مسلمان شہید، ۵۰۰ زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ایک برمی مندوب محمد نصر نے عرب ٹی وی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مسلمانوں پر مسلط کی گئی جارحیت میں تین سو افراد تاحال لاپتہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۲ء

جامعہ دار العلوم کراچی کا محاصرہ اور سرچ آپریشن

گزشتہ جمعۃ المبارک کے روز رینجرز اور پولیس نے جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی کا محاصرہ کر کے تین گھنٹے تک سرچ آپریشن کیا اور کچھ بھی برآمد نہ ہونے پر فورسز واپس چلی گئیں۔ جامعہ دار العلوم کراچی ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے ہے جس کی تعلیمی و تحقیقی سر گرمیوں اور خدمات کا دائرہ عالمی سطح تک پھیلا ہوا ہے اور خاص طور پر افتاء میں اسے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں مرجع کی حیثیت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

حقوقِ انسانی اور امریکہ

دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ نے ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کے شمارہ میں یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ: ’’امریکی شہر نیویارک میں ایک معروف نیلام گھر کے تحت سابق امریکی صدر کا دستخط شدہ امریکہ میں غلاموں کی آزادی کے قانون کا نایاب و تاریخی مسودہ ۲۰ لاکھ (۲ ملین ڈالر) سے زائد رقم میں نیلام ہو گیا ہے۔ ۱۸۶۴ء میں پیش کیے جانے والے Emancipation Proclamation نامی اس قانونی مسودہ کو اس وقت کے امریکی صدر ابراہام لنکن نے منظور کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۲ء

سیدنا حضرت عیسٰی علیہ السلام اور عیسائی مصنف

روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی ریاست ایوا کی لوتھر یونیورسٹی میں مذاہب اور عقائد کے شعبہ کے سربراہ عیسائی اسکالر ڈاکٹر روبرٹ شیڈنگر نے ایک کتاب تصنیف کر کے امریکی عیسائیوں کو برہم کر دیا ہے۔ کتاب کا عنوان ہے ’’ کیا حضرت عیسٰیؑ مسلمان تھے؟ ‘‘ امریکی اسکالر آسمانی کتابوں کے مسلسل مطالعہ اور دنیا بھر کے علمائے دینیات کی آرا جمع کر کے اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ صحیح معنوں میں ’’مسلم‘‘ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

مغربی فلسفہ حیات کی مذاہب اور ثقافتوں کے ساتھ کشمکش

روزنامہ ’’اردو نیوز‘‘ جدہ میں ۱۴ جولائی ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ جمہوریت میں پنچایت یا فتوے کے ذریعے بندشوں کے نفاذ اور کسی کی نجی آزادی سلب کرنے کے اقدام کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ بات وزیر داخلہ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہی، ان سے دہلی سے ملحق باغپت کی ایک پنچایت کے فیصلے کے بارے میں پوچھا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۲ء

جارج بش اور ٹونی بلیئر کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ

روزنامہ پاکستان میں نیویارک سے جناب قمر علی عباسی ’’اور پھر بیان اپنا ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں، انہوں نے ۱۰ ستمبر ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والے اپنے کالم میں انکشاف کیا ہے کہ: ’’برطانیہ کے نوبل انعام یافتہ آرچ بشپ نے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکہ کے سابق صدر جارج بش پر عراق جنگ میں ان کے کردار پر بین الاقوامی کریمینل کورٹ ہیگ میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter