حجاب اور اطالوی وزیر داخلہ
روزنامہ نوائے وقت لاہور ۶ ستمبر ۲۰۱۲ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق اٹلی کے وزیر داخلہ روبرٹو میرونی نے مسلم خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی سے متعلق مسودہ قانون پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جب حضرت مریم علیہا السلام کی ہر تصویر حجاب کے ساتھ ہے تو وہ کس طرح مسلمان خواتین کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہینِ رسالت ؐ کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے
توہین رسالت ؐ پر مبنی بدنام زمانہ حالیہ امریکی فلم کے خلاف عالمِ اسلام بلکہ پوری دنیا میں جس شدید ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ بلاشبہ اس حقیقت کا ایک بار پھر اظہار ہے کہ اس گئے گزرے دور میں بھی جناب نبی اکرم ؐ کے ساتھ مسلمانوں کی محبت و عقیدت اور جذباتی وابستگی پوری شدت کے ساتھ قائم ہے اور اس میں خدانخواستہ کمی یا کمزوری کی جو امید عالمی سیکولر لابیوں نے ایک عرصہ سے اپنے ذہنوں میں بسا رکھی ہے اس کا کوئی امکان ابھی تک پیدا نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’سودی نظام‘‘ پر اسلام آباد میں ایک اہم سیمینار
مفتیان کرام سے میں نے مختصرًا چند باتیں عرض کریں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ تفسیر قرطبیؒ میں مذکور ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں ہے۔ یہ سن کر وہ چلا گیا۔ اس پر مجلس کے حضرات نے عرض کیا کہ حضرت! توبہ کی گنجائش تو ہر گنہگار کے لیے ہوتی ہے اور آپ نے بھی اس سے قبل فرمایا تھا کہ قاتل کے لیے توبہ کی گنجائش ہے، جبکہ اس سائل کو آپ نے اس کے خلاف بات کہہ دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کراچی کے دو بڑے جامعات کے خلاف کاروائیاں
رمضان المبارک کے دوران جامعہ دار العلوم کورنگی کراچی پر رینجرز کے چھاپے اور تلاشی کے افسوسناک واقعات پر ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اور بالادست قوتیں اس قسم کی کاروائیاں کر کے دینی مدارس کو خوف و ہراس کا شکار بنا نے کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی طرف نئی نسل کی روز افزوں رغبت کو روکنے کی خواہاں ہیں۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ اس پر ملک بھر میں جس ردعمل کے اظہار کی توقع کی جا رہی تھی وہ سامنے نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
روہنگیا مسلمانوں کی داستان مظلومیت
میانمار (برما) کی سرحدوں کے اندر اراکان نام کا خطہ جو ایک دور میں مسلمانوں کی خودمختار ریاست ہوا کرتا تھا ان دنوں بدھ دہشت گردوں کی وحشت و بربریت کا شکار ہے اور مسلم اکثریت کا یہ صوبہ اس ظلم و جبر اور وحشیانہ تشدد کے باعث مسلمانوں کے وجود سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ اس خطہ کے مسلمانوں کا جرم یہ بتایا جاتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی خود مختاری، ملک کا اسلامی تشخص اور بین الاقوامی معاہدات
روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ نومبر ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ’’ریکوڈک معاہدہ‘‘ کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور آبزرویشن دی ہے کہ بلوچستان حکومت کو معاملہ اسمبلی میں لے جانا چاہیے تھا، اگر کوئی بین الاقوامی معاہدہ ملک کے قوانین کے خلاف ہے تو اسے تحفظ حاصل نہیں ہوتا، پاکستان ایک خود مختار ملک ہے اور اس کے ساتھ عالمی معاہدوں میں ملک کے قوانین کا پورا پورا خیال رکھا جانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ کی المناک وفات
گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مکمل تحریر
قرآن و سنت کی تعلیم و تدریس میں حکومتی ذمہ داری
پنجاب اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے حکومت سے سفارش کی ہے کہ قرآن کریم کو سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب تعلیم کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے اور اس کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں۔ روزنامہ اسلام لاہور ۹ مارچ ۲۰۱۲ء کی خبر کے مطابق یہ قرار داد ایک خاتون رکن اسمبلی محترمہ عاصمہ ممدوٹ نے پیش کی ہے جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات
روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۱۹ مارچ ۲۰۱۲ء میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے پارلیمنٹ کو بھجوائی گئی ۹۵ ہزار کے قریب سفارشات اور ۷۰ کے لگ بھگ رپورٹیں قانون سازی کا حصہ بننے کی بجائے کاغذوں کی نذر ہو کر رہ گئی ہیں اور ان رپورٹوں کو اب تک کسی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نو مسلم خواتین کے مسائل اور تحفظات
روزنامہ پاکستان لاہور ۱۸ مارچ ۲۰۱۲ء کی ایک خبر کے مطابق نو مسلم خواتین کے حقوق اور مسائل کے حوالہ سے کام کرنے والے ادارہ ’’شرکت گاہ‘‘ کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن فوزیہ وقار اور عورت فاؤنڈیشن لاہور ریجن کی نسرین زہرہ اور ممتاز نے کہا ہے کہ: ’’پاکستان میں مذہب تبدیل کرنے والی خواتین کو مکمل تحفظ اور حقوق حاصل نہیں ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 184
- 185
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »