تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کا پروگرام
۱۵ دسمبر ۲۰۱۰ کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت ؐکے مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کی اور اس میں تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے قائدین اور راہنماؤں نے شرکت کی۔ ایک عرصہ کے بعد مختلف مکاتب فکر کے راہنماؤں کا اس قدر بھرپور اور نمائندہ اجتماع دیکھنے میں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بل
سینٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینٹر جناب سراج الحق کا پیش کردہ ایک مسودہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں سود کے نجی کاروبار کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سینٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نجی طور پر ہر قسم کے لین دین کے حوالے سے سودی کاروبار پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کشمیری عوام کی جد و جہد اور ہماری ذمہ داریاں
مسئلہ کشمیر کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے وقت تقسیم کے فارمولا میں ریاستوں کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ دونوں ملکوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر لیں۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے ہندو راجہ نے ریاست کی غالب مسلم اکثریت کے جذبات کی پروا نہ کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جسے کشمیری عوام نے مسترد کرتے ہوئے مزاحمت کی جدوجہد شروع کر دی اور جہاد کے ذریعے مظفر آباد، باغ اور دیگر علاقوں کو آزاد کراتے ہوئے جب وہ سری نگر تک پہنچ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوسائٹی میں مذہبی اقدار کی واپسی اور پاپائے روم
روزنامہ پاکستان لاہور ۹ نومبر ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے اسپین کی حکومت کی طرف سے ہم جنس پرستوں کو شادی کی قانونی اجازت دینے پر شدید تنقید کی ہے اور روایتی خاندانی نظام کی حمایت کرتے ہوئے اسپین کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں کو باہمی شادی کی قانونی اجازت دینے کے قوانین پر نظر ثانی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یورپ کو اصل خطرہ دہشت گردی سے یا بنیاد پرستی سے؟
سہ روزہ دعوت دہلی کے یکم نومبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پروفیسر ایچ اے ہیلر نے جو ایک برطانوی یونیورسٹی میں نسلی تعلقات کے تحقیقی مرکز کے سر براہ ہیں ’’یورپ کے مسلمان‘‘ نامی اپنی کتاب میں کہا ہے کہ:
’’یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی بحث سکیورٹی کے مسائل سے شروع ہوئی تھی اور اس کا تناظر القاعدہ جیسے گروپوں کا طرز عمل تھا۔ یورپی باشندوں کو خوف تھا کہ انتہاپسند مسلم گروپوں کی پرتشدد سر گرمیاں یورپ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوڈان میں مسیحی ریاست کا منصوبہ
انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کو ریفرنڈم کے ذریعے الگ کر کے ایک عیسائی ریاست قائم کرنے کے عمل کو ابھی چند سال ہی گزرے ہیں کہ سوڈان میں دارفور کے جنوبی علاقہ کو سوڈان سے الگ کر کے ایک الگ مسیحی ریاست کی شکل دینے کے منصوبہ پر کام آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ سوڈان رقبہ کے لحاظ سے براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے اور مسلمانوں کا تناسب ۷۵ فیصد بتایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طالبان کا وجود اور ان کے ساتھ مذاکرات
روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیتا تو اسے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ہوسٹن کی ایشیا سوسائٹی ٹیکس سنٹر میں خطاب کے دوران سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ عالمی برادری کو طالبان کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، طالبان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دیوبندی بریلوی تصادم کی فضا پیدا کرنے کی مبینہ مہم
عالمی استعمار کے ایجنڈے کا ایک حصہ یہ ہے کہ پاکستان میں ’’صوفی اسلام‘‘ اور ’’مولوی کا اسلام‘‘ کے نام سے خودساختہ تفریق کو اجاگر کر کے قومی معاملات میں دیوبندی مکتب فکر کو کارنر کرنے کی کوشش کی جائے اور دیوبندی علماء کو عام مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول اور اچھوت بنا دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کا قومی تعلیمی بورڈ
مغربی دنیا کے تھنک ٹینکس کا یہ تجزیہ نیا نہیں ہے کہ جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت میں مسلمانوں کی دین کے ساتھ گہری وابستگی اور دفاعِ اسلام کے والہانہ جذبہ کا سب سے بڑا سبب عالم اسباب میں دینی مدارس ہیں۔ اور ان میں بھی سب سے نمایاں دیوبندی مکتب فکر ہے جو دینی روایات و اقدار کے ساتھ عام مسلمانوں کی کمٹمنٹ کا مسلسل پہرہ دے رہا ہے اور مغرب کی ثقافت و فلسفہ کے ساتھ ساتھ اس کی سیاسی بالادستی اور تسلط کے خلاف بھی اس نے ہر دور میں عَلمِ بغاوت بلند کیے رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سعودی عرب اور پاکستان سے امت مسلمہ کی توقعات
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان آل سعود پاکستان اور بھارت کا دورہ کر کے واپس تشریف لے جا چکے ہیں اور دونوں ملکوں کے ساتھ سعودی عرب کے بہت سے معاشی معاہدات کے بعد اب اس خطہ میں نئی اقتصادی منصوبہ بندی کا آغاز ہوگیا ہے۔ پاکستان کو اپنے قیام کے وقت سے ہی سعودی عرب کی پر خلوص دوستی، معاونت بلکہ بہت سے عالمی معاملات میں شراکت حاصل رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 192
- 193
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »