وفاقی شرعی عدالت کو ختم کرنے کا مطالبہ
روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۴ مئی ۲۰۰۵ء کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے ریٹائرڈ جج جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے اسے ختم کر دینا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نافذ قوانین کا اسلامی تعلیمات سے کوئی ٹکراؤ نہیں اس لیے وفاقی شرعی عدالت جیسے اداروں کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاق المدارس کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘
دینی مدارس کی ملک گیر تنظیم وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے ۱۶ مئی کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں بھرپور ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ منعقد کرکے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ پاکستان بھر کے دینی مدارس معاشرے میں دینی تعلیمات کے فروغ اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کے لیے اپنے مشن پر آج بھی کاربند ہیں اور وہ اپنے کردار اور جدوجہد کا پوری طرح شعور رکھتے ہوئے اپنے عظیم اسلام کی جدوجہد کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک آزادیٔ کشمیر اور آزادکشمیر کا عدالتی نظام
۲۱ ستمبر کو تراڑکھل آزاد کشمیر جانے کا اتفاق ہوا جہاں علماء کرام کے علاقائی فورم تنظیم اہل السنۃ والجماعۃ کا سالانہ اجتماع تھا جس کے لیے مولانا شبیر احمد ایک سال سے میرے تعاقب میں تھے۔ اس علاقہ میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فضلاء کی خاصی تعداد ہے جس کی مناسبت سے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سال میں ایک دو بار وہاں ضروری حاضر دوں اور یہ ان کا حق بھی ہے۔ اس سفر میں عزیزم حافظ محمد حذیفہ خان سواتی فاضل نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بھی ساتھ تھا جو میرا نواسہ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا پوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات
گوانتاناموبے میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کے شرمناک واقعات کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج کا دائرہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور عوام کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی حکومتیں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں۔ قرآن کریم کی بے حرمتی کا یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد بہت سے دیگر واقعات بھی سامنے آرہے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان اور گوانتاناموبے میں مسلم قیدیوں کے سامنے اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے اور قرآن مقدس کی بے حرمتی کے واقعات امریکی فوجیوں کا معمول بن گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تبلیغی حلقوں میں اختلاف اور ہمارا طرز عمل
تبلیغی جماعت دعوتِ اسلام کی عالمی تحریک ہے جو دنیا بھر میں دینی تعلیمات و روایات کی طرف مسلمانوں کی واپسی کے لیے ہر سطح پر محنت کر رہی ہے اور اس کی کاوش و برکت سے بحمد اللہ تعالٰی ہر جگہ دینی معمولات اور ماحول کے مناظر دیکھنے میں آرہے ہیں۔ مگر جوں جوں اس محنت میں توسیع اور پھیلاؤ بڑھ رہا ہے اسی حساب سے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں جو فطری امر ہے اور کسی بھی تحریک کے اس درجہ وسعت اختیار کرنے کی صورت میں عموماً ایسے ہو جایا کرتا ہے، البتہ اس سلسلہ میں حد درجہ احتیاط اور مثبت رویہ کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
این جی اوز کا مطالبہ
حکومت پاکستان نے بعض اخباری اطلاعات کے مطابق این جی اوز (نان گورنمنٹل آرگنائزیشنز) کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے اور سرکاری حلقوں کے بقول اسلام اور پاکستان کے خلاف کام کرنے والی تنظیموں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ غیر سرکاری تنظیمیں عوامی فلاح و بہبود، صحت، تعلیم اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں میں عوام کی خدمت کے عنوان سے کام کرتی ہیں، انہیں بین الاقوامی ادارے اس نام سے خطیر رقم فراہم کرتے ہیں اور پاکستان میں ایسی تنظیموں کی تعداد ہزاروں میں بیان کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلم پرسنل لاء: مولانا محی الدین خان کی فکر انگیز باتیں
۱۷ اگست ۱۹۹۹ء کو ایسٹ لندن میں واقع دارالامہ میں ورلڈ اسلامک فورم کی ایک فکری نشست میں ڈھاکہ کے بزرگ عالم دین مولانا محی الدین خان مہمان خصوصی تھے اور نشست کا عنوان تھا ’’مغربی ممالک میں مسلم پرسنل لاء کی اہمیت‘‘ ۔ نشست کی صدارت فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کی جبکہ مولانا منظور احمد چنیوٹی، حافظ عبد الرشید ارشد اور دیگر مقررین کے علاوہ راقم الحروف نے بھی گزارشات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا فضل الرحمان کے بیان پر امریکی ردعمل
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر امریکہ نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ نے اسامہ بن لادن یا طالبان کے خلاف کوئی کارروائی کی تو پاکستان میں امریکی باشندے محفوظ نہیں رہیں گے۔ اس پر برطانیہ نے مولانا موصوف کو ویزا دینے سے معذرت کر دی ہے اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ کے ذمہ دار حضرات نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر کے ان سے اس سلسلہ میں وضاحت طلب کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلم خاتون کا آئیڈیل!
روزنامہ جنگ لندن نے ۱۸ اگست ۱۹۹۹ء کی اشاعت میں مسلم لیگ برطانیہ کی شعبہ خواتین کی ایک راہنما بیگم عشرت اشرف کا بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کی وزیر مملکت بیگم تہمینہ دولتانہ نے واشنگٹن میں پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پاکستانی سفارت خانہ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کی سابق خاتون وزیراعظم مسز گولڈ امیئر کو اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آزادکشمیر سازشوں کی زد میں
آزاد کشمیر کے صدارتی انتخابات میں عوام دوست اور دیندار شخصیت سردار محمد عبد القیوم خان کی کامیابی سے ملک بھر کے دینی حلقوں میں مسرت و انبساط کی لہر دوڑ گئی تھی اور اب ان کی اسلامی اصلاحات بہتر مستقبل کی طرف غمازی کر رہی ہیں۔ لیکن دینی حلقوں کی مسرت کے ساتھ ہی ساتھ دین دشمن عناصر نے بھی آزادکشمیر کے نیک دل صدر کے اقدامات کو ناکام بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ بزعم خویش انتہائی کامیابی سے سازشوں کے جال بن رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 215
- 216
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »