جناب وزیر اعظم! تشدد سے مسئلہ حل نہیں ہوگا
وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قادیانی مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے اس لیے میں قومی اسمبلی کے ارکان سے کہوں گا کہ وہ سات ستمبر تک اس مسئلہ کا کوئی حل طے کر لیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ۷ ستمبر تک مہلت بھی تاخیر کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں، ہمیں بھٹو صاحب کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ اس مسئلہ کے حل میں تاخیر ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملک محمد اختر صاحب! مذہب سے چڑ کیوں؟
روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور جناب ملک محمد اختر نے ارشاد فرمایا ہے کہ عوامی نمائندگی کے بل کے تحت برادری سسٹم، ذات پات، علاقائی عصبیت اور مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کو جرم قرار دے دیا جائے گا جس کی سزا تین سال تک قید ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ کا دور حکومت اور خان محمد حنیف خان کا ارشاد
روزنامہ جنگ راولپنڈی ۲۹ نومبر ۱۹۷۶ء کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات خان محمد حنیف خان صاحب نے ہری پور میں پارٹی ورکرز سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’’جمعیۃ علماء اسلام نے اپنے دورِ اقتدار میں شریعت کے نفاذ کے لیے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا۔‘‘ معلوم نہیں صوبہ سرحد میں جمعیۃ علماء اسلام اور نیشنل عوامی پارٹی کی دس ماہ کی حکومت کے دوران خان صاحب موصوف ملک سے باہر تھے یا بستر استراحت پر محوِ خواب تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
زندہ باد مولانا محمد زکریا!
کراچی کے مردِ حر مولانا محمد زکریا نے، جو جمعیۃ علماء اسلام کراچی سنٹر کے امیر ہیں، حالیہ الیکشن اور اس کے بعد تحریک میں جرأت و استقامت کی جو شاندار روایات قائم کی ہیں ان پر بے ساختہ داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ مولانا محمد زکریا نے قومی اسمبلی کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے عبد الحفیظ پیرزادہ کا مقابلہ کیا اور پیرزادہ غنڈہ گردی اور دھاندلیوں کی انتہا کو چھونے کے باوجود الیکشن میں مولانا محمد زکریا کو شکست نہ دے سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آئین کا تقاضہ ‒ گھر کا بھیدی ‒ گولی کی زبان
قومی اتحاد نے صدر مملکت جناب فضل الٰہی چودھری کے نام ایک خط میں استدعا کی کہ وہ قومی اسمبلی کے الیکشن کرانے کا اہتمام کریں جس کے جواب میں صدر مملکت نے ارشاد فرمایا ہے کہ دوبارہ الیکشن کرانا آئین کی خلاف ورزی ہے اور میں نے آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیرون ملک جانے کا جنون ‒ حلال کی کمائی
روزنامہ نوائے وقت لاہور کی ایک خبر کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تقریباً ایک درجن ایسی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو پاکستانیوں کو بوگس ویزوں پر بیرون ملک بھجوانے کا مذموم کاروبار کرتی ہیں۔ ابھی کچھ دنوں قبل حکومت مغربی جرمنی نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ایک سو چار پاکستانیوں کو واپس بھجوایا تھا جو غیر قانونی طور پر انہی ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے وہاں پہنچے تھے اور یہ واقعہ پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر رسوائی کا باعث بنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ اور امریکہ
امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے فرانس سے ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ حاصل کرنے کے سلسلہ میں پاکستان کے اقدامات کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے جبکہ دوسری طرف موصوف نے دہلی کے دورہ کے موقع پر پر بھارت کی طرف سے ایٹمی تحفظات فراہم کرنے سے انکار کے باوجود بھارت کو امریکہ کی طرف سے ایٹمی ایندھن کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عدالتوں میں اسلامی فقہ کے ماہرین
مارشل لاء حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو غیر اسلامی قوانین کی منسوخی کے اختیارات تفویض کیے جانے کے اعلان کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں ججوں کے ساتھ اسلامی فقہ کے ماہرین کا تقرر بھی ضروری ہے تاکہ وہ عدالتوں کو ان قوانین کی طرف توجہ دلا سکیں جو اسلام کے منافی ہیں اور قرآن و سنت کے مطابق ان میں ترامیم اور تبدیلیوں کے سلسلہ میں ججوں کا ہاتھ بٹا سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خان عبد الولی خان اور پنجاب
ممتاز مسلم لیگی لیڈر چودھری ظہور الٰہی نے اس سوال کے جواب میں کہ ’’کیا ولی خان کو پنجاب قومی قائد کی حیثیت سے قبول کر لے گا؟‘‘ کہا کہ ’’مسٹر ولی خان کو بھٹو نے گرفتار ہی ان کے پنجاب کے کامیاب ترین دورے کے بعد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مفاد پرستوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ پنجاب ولی خان کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں ولی خان کو ایک عظیم محب وطن کی حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ قومی لیڈر کی حیثیت سے وہ پنجاب کو کیوں قابل قبول نہیں ہوں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حنیف رامے صاحب کی نئی تجویز
مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر جناب محمد حنیف رامے نے بزعم خویش ملک کے مسائل کا یہ حل پیش کیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا کر غیر جماعتی پارلیمانی نظام رائج کیا جائے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ تجویز پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ہے اور اس کا واقعاتی پس منظر کیا ہے، ہم جناب رامے صاحب سے یہ عرض کریں گے کہ جناب اس ملک میں طویل نظریاتی و عملی پس منظر رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں آپ معاشرہ سے ان جماعتوں کو کس طرح بے دخل کر سکیں گے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 231
- 232
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »