توہینِ رسالت کے خلاف بیداری کا مظاہرہ کیا جائے

ڈنمارک کے اخبارات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی بات چل رہی ہے اور اس پر عالم اسلام کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے کہ ہالینڈ کے ایک رکن پارلیمنٹ نے قرآن مجید کے حوالے سے فلم کا مسئلہ کھڑا کر کے ’’یک نہ شد دو شد‘‘ والا معاملہ کر دیا ہے۔ اور عالم اسلام کے حکمرانوں کا رویہ وہی روایتی سا ہے کہ رسمی احتجاج کر کے وہ مطمئن ہیں کہ انہوں نے قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ اپنے تعلق کا ثبوت فراہم کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۰۸ء

دینی مدارس کی جدوجہد کی تاریخ کا ایک باب

ڈاکٹر ممتاز احمد ہمارے فاضل دوست ہیں، گوجر خان سے تعلق رکھتے ہیں، ایک عرصہ سے امریکہ میں مقیم ہیں، ہیمپسٹن یونیورسٹی ورجینیا میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور جنوبی ایشیا کے دینی مدارس ان کی تحقیق و تدریس کا خصوصی موضوع ہیں۔ اس سلسلہ میں ان کی تحقیقاتی رپورٹوں سے بین الاقوامی حلقوں میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے راقم الحروف کے ایک بہت پرانے مضمون کی فوٹو کاپی ارسال کی ہے جو ان کی فائل میں محفوظ تھا۔ یہ مضمون ’’دینی مدارس کا جرم؟‘‘ کے عنوان سے ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں ۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء کو شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۰۸ء

افغان حکومت اور طالبان کے مبینہ مذاکرات ۔ دو اہم موقف

۱۲ جولائی کے قومی اخبارات میں اے ایف پی کے حوالہ سے شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام ۱۰۰ کے لگ بھگ مسلم اسکالرز کے ایک اجتماع میں افغان حکومت اور طالبان سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف امارت اسلامیہ افغانستان نے بھی اس سلسلہ میں اپنا موقف جاری کیا ہے، صورتحال کو معروضی تناظر میں صحیح طور پر سمجھنے کے لیے دونوں کا مطالعہ ضروری ہے اس لیے ہم سردست یہ دونوں موقف قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء

حدود آرڈیننس میں ترامیم ۔ چند حقائق

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حدود کیا ہیں؟ ان کے لیے آرڈیننس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ آرڈیننس کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟ اہم اعتراضات کیا ہیں؟ تحفظ نسواں بل کے ذریعے اس میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟ اس حوالہ سے موجودہ قانونی صورتحال کیا ہے؟ اس سلسلہ میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ تا ۳۰ دسمبر ۲۰۰۶ء

موجودہ معروضی حالات اور دینی جدوجہد کا مستقبل

گزشتہ منگل (۱۲ فروری) کو کافی عرصہ کے بعد پشاور جانے کا اتفاق ہوا، جامعہ عثمانیہ میں وفاق المدارس کے زیراہتمام دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے چار روزہ ’’تدریب المعلمین‘‘ کورس کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کچھ موضوعات پر مجھے بھی اظہار خیال کے لیے کہا گیا۔ وفاق المدارس العربیہ کی مجلس شورٰی نے گزشتہ سال جامعہ عثمانیہ پشاور کے مہتمم مولانا مفتی غلام الرحمان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کا مجھے اور مانسہرہ کے مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کو بھی رکن بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۰۸ء

تحریک نفاذ شریعت اور نظام عدل ریگولیشن

بی بی سی کے نشریہ کے حوالے سے روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ سرحد کی نگران حکومت نے اس ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ۱۹۹۴ء میں مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تنظیم نفاذ شریعت محمدی‘‘ کی طرف سے چلائی جانے والی پرجوش عوامی تحریک کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ سرحد جناب آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی حکومت نے نافذ کیا تھا۔ اس تحریک میں کم و بیش تیس ہزار کے لگ بھگ عوام مسلح ہو کر سڑکوں پر آگئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۰۸ء

علماء کرام اور انتخابی سیاست

آج کل ملک بھر میں عام انتخابات کی گہماگہمی ہے متحدہ مجلس عمل سمیت بہت سی دینی جماعتیں اس معرکہ میں شریک ہیں۔ اس سلسلہ میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کو ایک سوال کا عام طور پر سامنا کرنا پڑتا ہے کہ علماء کرام کا انتخابی سیاست اور جمہوری عمل سے کیا تعلق ہے؟ یہ سوال دو طرف سے ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ علماء کرام کا کام لوگوں کو نماز پڑھانا، دین کی تعلیم دینا اور ان کی دینی و اخلاقی راہنمائی کرنا ہے، سیاست ان کے دائرہ کار کی چیز نہیں ہے اس لیے انہیں اس جھمیلے میں پڑے بغیر اپنے کام کو مسجد و مدرسہ تک محدود رکھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۱۸ء

اغوا کی وارداتیں اور پولیس کا کردار

بہاولپور کے ایک نوجوان عالم دین مولانا مفتی محمد یوسف کو اغوا ہوئے آج نواں روز ہے اور ان کی رہائی کے لیے آٹھ لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے مگر ہمارا حکومتی نظام ہے کہ ابھی تک اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر پا رہا۔ مفتی محمد یوسف دارالعلوم مدینہ (ماڈل ٹاؤن، بہاولپور) کے استاذ ہیں اور دارالعلوم کی طرف سے شائع ہونے والے ماہنامہ جریدہ ’’المصطفٰیؐ‘‘ کے مدیر ہیں۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد صاحب بہاولپور میں ہی حفظ قرآن کریم کا ایک مدرسہ چلا رہے ہیں اور اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اتنی بڑی رقم ادا کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ء

برطانیہ میں اسلامی اداروں کی سرگرمیاں اور نوٹنگھم پولیس چیف سے ملاقات

عید الاضحٰی کی تعطیلات میں ہفتہ عشرہ کے لیے برطانیہ جانے کا موقع ملا۔ شعبان اور رمضان المبارک کے دوران برطانیہ اور امریکہ جانے کا معمول ہے لیکن اس سال امریکہ کا ویزا تاخیر سے ملنے کی وجہ سے یہ سفر نہیں کر سکا تھا اور اس کی برطانیہ کی حد تھوڑی سی ’’قضا‘‘ عید الاضحٰی کے موقع پر ہوگئی۔ ۲ جنوری کو گلف ایئر کے ذریعے سے بحرین اور پھر لندن پہنچا اور واپسی پر گلف ایئر کے ذریعے ہی ۱۰ جنوری کو لندن سے روانہ ہو کر قطر ایئرپورٹ پر چند گھنٹے رکنے کے بعد ۱۱ جنوری کی شام اسلام آباد پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء

تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کا نفاذ اور مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام

’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے کراچی کنونشن کے بعد اس سلسلہ میں جدوجہد نے جو صورتحال اختیار کر لی ہے وہ بہت سے حوالوں سے غور طلب ہے اور دینی حلقوں سے سنجیدہ توجہ کا تقاضا کر رہی ہے۔ حکمران حلقوں نے اس حوالے سے واضح موقف اختیار کر لیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے، وہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے خیال میں تحفظ حقوق نسواں کے عنوان سے نافذ شدہ ایکٹ پر نظرثانی کی کوئی گنجائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۲۰۰۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter