علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ

میو ہسپتال پہنچا تو بہت زیادہ رش تھا اور بظاہر ان تک رسائی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ کمرے کے دروازے پر گوجرانوالہ کے ایک اہل حدیث نوجوان کی ڈیوٹی تھی جو علامہ شہیدؒ کے ذاتی دوستوں میں سے تھے اور مجھے پہچانتے تھے۔ انہوں نے ہمت کر کے اس قدر رش کے باوجود مجھے ان کے بیڈ تک پہنچایا۔ میں نے علامہ شہیدؒ کے چہرے کی طرف دیکھا، آنکھیں چار ہوئیں، مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس حالت میں وہ مجھے پہچان پائیں گے۔ ان کے لبوں کو حرکت ہوئی تو میں نے کان قریب کر لیے، وہ کہہ رہے تھے کہ ’’حضرت صاحب سے میرے لیے دعا کی درخواست کرنا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اپریل ۲۰۱۲ء

حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ

حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ کی وفات صرف اہل حدیث حضرات کے لیے باعث رنج و صدمہ نہیں بلکہ پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ اور ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد سے تعلق رکھنے والا ہر مسلمان اور ہر پاکستانی ان کی جدائی سے غمزدہ ہے۔ جن بزرگ اہل حدیث علمائے کرام کے ساتھ میرا عقیدت اور نیاز مندی کا تعلق رہا ہے ان میں حضرت مولانا معین الدین لکھویؒ بھی شامل ہیں۔ میں نے جب اردو لکھنا پڑھنا شروع کی تو بالکل ابتداء میں جو چند کتابیں میرے مطالعہ میں آئیں ان میں آغا شورش کاشمیری مرحوم کی ’’خطبات احرار‘‘ بھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۱۱ء

فاروق ستار کے مغالطے

ایم کیو ایم کے رہنماجناب فاروق ستار نے اس کنونشن میں جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس کے بارے میں ہم اپنے تحفظات کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق (۱) ان کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح سے تعلق رکھتا ہے، بیت اللہ محسود جیسے دہشت گردوں سے نہیں۔ یہ ملک سب کا ہے اور یہاں کوئی اکثریت اقلیت نہیں۔ (۲) اس کے ساتھ ہی انہوں نے صدر اور وزیراعظم کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ صدر اور وزیراعظم کا انتخاب اقلیتوں میں سے بھی ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۱۲ء

نواب محمد اکبر خان بگٹی مرحوم

نواب محمد اکبر خان بگٹی کے افسوسناک قتل نے جہاں ماضی کی بہت سی تلخ یادوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے وہاں مستقبل کے حوالہ سے بھی انجانے خدشات و خطرات کی دھند ذہنوں پر مسلط کر دی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جو کچھ ہوا ہے درست نہیں ہوا اور اس کے نتائج ملک و قوم کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں، اس پر حکومتی پارٹی اور اپوزیشن میں اختلاف نہیں ہے اور متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی کے ساتھ ساتھ چودھری شجاعت حسین اور میر ظفر اللہ خان جمالی بھی اس پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم ستمبر ۲۰۰۶ء

محکمہ ڈاک اور پی آئی اے کی ’’حسن کارکردگی‘‘

محکمہ ڈاک اور پی آئی اے کے بارے میں اپنی ان تازہ شکایتوں کا قارئین سے تذکرہ تو کر دیا ہے مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ باضابطہ شکایت کس سے کروں؟ جی چاہتا ہے کہ یہ شکایت امریکی سفیر محترمہ کرسٹینا روکا سے کروں کہ وہ ان دنوں ہماری ’’وزیر امور ہند‘‘ ہیں۔ ان سے یہ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے کہ ہم پر انگریزوں نے بھی ڈیڑھ دو سو برس حکومت کی ہے اور آزادی اور خودمختاری کے لیے ان سے ہماری کشمکش جاری رہتی تھی مگر محکمانہ نظام اور سرکاری ملازمین کی کارکردگی کا معیار انہوں نے قائم رکھا ہوا تھا جسے اب تک یہاں کے لوگ یاد کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جولائی ۲۰۰۵ء

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی رخصت ہوئے

والد گرامیؒ عمر بھر دینی و قومی تحریکات میں حصہ لیتے رہے، تحریک آزادی میں جمعیۃ علماء ہند کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا، 1953ء کی تحریک ختم نبوت میں کم و بیش دس ماہ اور 1977ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں ایک ماہ تک جیل میں رہے۔ طویل عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے امیر رہے اور نفاذ شریعت کی جدوجہد میں سرگرم حصہ لیتے رہے۔ وہ اہل سنت کے دیوبندی مکتب فکر کے علمی ترجمان سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے مسلکی اختلافات کے حوالہ سے مختلف موضوعات پر پچاس سے زیادہ ضخیم کتابیں لکھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۲۰۰۹ء

دین اور دینی تعلق کی برکات

گزشتہ ماہ مجھے تقریباً تیرہ سال کے بعد امریکہ جانے کا موقع ملا۔ مئی کے دوران دو ہفتے امریکہ رہا اور واپسی پر تین چار دن برطانیہ میں گزار کر مئی کے آخر میں وطن واپس آگیا۔ اس سے قبل 1987ء سے 1990ء تک چار پانچ بار امریکہ جا چکا ہوں۔ اس دوران میں نے کم و بیش درجن بھر امریکی شہروں میں مختلف اجتماعات میں شرکت کی اور متعدد امریکی اداروں میں جانے کا موقع بھی ملا۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی دیکھا بلکہ اس کی ایک سو ساتویں منزل پر واقع سیر گاہ سے نیویارک کا نظارہ کرنے کے علاوہ عصر کی نماز بھی وہیں جماعت کے ساتھ ادا کی جسے دیکھنے کے لیے ایک ہجوم ہمارے گرد جمع ہوگیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ و ۱۵ جون ۲۰۰۳ء

خان عبد الولی خان مرحوم

مجھے خان عبد الولی خان مرحوم کے ساتھ زیادہ ملاقاتوں کا موقع نہیں ملا لیکن میں ان کے مداحوں میں سے ہوں۔ بہت سے معاملات میں ان سے اختلاف بھی رہا اور رائے و موقف کی حد تک آج بھی وہ اختلاف قائم ہے، لیکن ان کی وضعداری اور اپنی بات پر قائم رہنے کی روایت میرے نزدیک ہمیشہ قابل تعریف رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بعض تحفظات کے باوجود ہمیشہ ملکی استحکام اور سالمیت کی بات کی اور ایک لبرل بلکہ سیکولر سیاستدان ہونے کے باوجود دستور میں اسلامی دفعات، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، اور دیگر بہت سے دینی معاملات میں دینی جماعتوں کا ساتھ دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جنوری ۲۰۰۶ء

پارلیمنٹ کے لیے اجتہاد کا اختیار

گزشتہ دنوں ملک کے معروف قانون دان جناب عابد حسن منٹو نے ایک قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اجتہاد کے لیے مولوی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آج کے دور میں اجتہاد کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے۔ جبکہ اس سے کچھ دن بعد تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک خطبہ جمعہ کے حوالے سے ان کا یہ ارشاد سامنے آیا ہے کہ اجتہاد کا کام کلیتاً پارلیمنٹ کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔ یوں یہ بحث ایک بار پھر قومی اخبارات میں شروع ہوتی نظر آرہی ہے کہ آج کے دور میں اجتہاد کا حق کس کو حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۲۰۰۲ء

جارج واشنگٹن اور جارج ڈبلیو بش کے مذہبی رجحانات

امریکی دستور کی پہلی ترمیم میں مذہب کے ریاستی کردار کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا اور اسی حوالے سے کانگریس کے بعض ارکان صدر بش کی طرف سے مسیحی مشنریوں کے لیے دی جانے والی مالی مراعات کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ تاریخی حقیقت امریکی کانگریس کا منہ چڑا رہی ہے کہ امریکہ کے صدر نے یہ کہہ کرشراب کو ترک نہیں کیا کہ امریکی کانگریس نے ایک موقع پر شراب پر پابندی عائد کر دی تھی بلکہ انہوں نے کہا کہ مذہبی رجحانات کی وجہ سے ان کے دل کی کیفیت بدلی ہے اور انہوں نے شراب نوشی ترک کر دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter