عام انتخابات میں دینی حلقوں کے کرنے کے کام

عام انتخابات سر پر آ گئے ہیں اور مختلف دینی و سیاسی جماعتیں ملک بھر میں الیکشن مہم میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں۔ مگر تذبذب اور بے یقینی کی دھند بدستور ملک کے سیاسی افق پر چھائی ہوئی ہے، بلکہ بسا اوقات یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید آخر وقت تک تذبذب اور گومگو کا ماحول قائم رکھنا شاید کسی پلاننگ کا نتیجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۲۴ء

جنوری ۲۰۲۴ء کی رپورٹس

ملک و ملت اور دین سے وفاداری کا عہد کرنے والے امیدواروں کو ووٹ دیں: ۳۱ جنوری ۲۰۲۴ء بروز بدھ بعد نماز ظہر جامع مسجد مکی کوکاکولا سٹاپ ملتان روڈ لاہور میں پاکستان شریعت کونسل لاہور کے زیرِ اہتمام ایک اہم نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان ’’مسئلہ فلسطین / قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات/ ملکی و بین الاقوامی صورتحال تھا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ جنوری ۲۰۲۴ء

مسئلہ فلسطین اور ملک میں الیکشن کی صورتحال

آج مختلف دینی پروگرامز کے حوالے سے ٹنڈو الٰہ یار حاضری ہوئی ہے، اور صحافی برادری سے ملاقات اس حوالے سے خوشی کا باعث بنی ہے کہ میں خود بھی ایک صحافی ہوں، صحافی برادری کے ساتھ میرا تعلق بھی ہے۔ میں پریس کلب اور آپ سب حضرات کا شکر گزار ہوں کہ اس ملاقات کا اہتمام کیا۔ میں پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل کے طور پر چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جنوری ۲۰۲۴ء

دفاعِ پاکستان و افغانستان کونسل، ایک خوش آئند پیشرفت

۹ اگست کو اسلام آباد میں ’’دفاع افغانستان کونسل‘‘ کے اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے پاک افغان سرحد پر مانیٹرنگ ٹیموں کی تقرری کو پاکستان کی قومی خود مختاری کے منافی قرار دینے کا اعلان کیا تو اس موقع پر جنرل حمید گل نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ یہ صرف افغانستان کا مسئلہ نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان میں این جی اوز کی ارتدادی سرگرمیاں

افغانستان میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی این جی اوز کے عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے افراد کی گرفتاری اور طالبان حکومت کی طرف سے انہیں شریعت کے مطابق سزا دینے کے اعلان نے ایک بار پھر عالمی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے، اور بہت سے سفارتکار خفیہ اور اعلانیہ طور پر اس سلسلہ میں متحرک ہو گئے ہیں۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ این جی اوز کے یہ افراد رفاہی کاموں کے حوالے سے افغانستان میں آئے تھے اور انہیں ایک معاہدہ کے تحت کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ و ۲۳ اگست ۲۰۰۱ء

اپنا اپنا ’’متحدہ محاذ‘‘ اور اپنی اپنی ’’آل پارٹیز کانفرنس‘‘

میاں محمد نواز شریف نے سابقہ دورِ اقتدار کی بات ہے کہ جب ان کی حکومت کو برطرف کر کے جناب بلخ شیر مزاری نے عبوری وزیر اعظم کا منصب سنبھالا اور نئے انتخابات کا اعلان کیا تو مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات لاہور میں مولانا عبد الرؤف ملک کی رہائشگاہ پر جمع ہوئے۔ ان میں مفتی غلام سرور قادری، میجر جنرل (ر) حافظ محمد حسین انصاری، حافظ صلاح الدین یوسف، مولانا عبدالمالک خان، مولانا عبد الرؤف ملک اور متعدد دیگر احباب کے علاوہ راقم الحروف بھی تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مئی ۱۹۹۸ء

افغانستان پر پابندیاں اور امریکی حکمرانوں کی غلط فہمی

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی طالبان حکومت کے خلاف عائد کردہ پابندیوں پر سختی کے ساتھ عمل کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور سرحدات پر مانیٹرنگ کے لیے اپنی ٹیمیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ جن کے بارے میں طالبان حکومت کے سربراہ ملا محمد عمر نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے افراد کو دشمن تصور کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اگست ۲۰۰۱ء

بین الاقوامی اداروں کی شائع کردہ نصابی کتب کا ایک نمونہ

چند روز پہلے ضلع سیالکوٹ کے گاؤں اوٹھیاں میں ایک پرائیویٹ سکول کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا، جو بچوں میں انعامات کی تقسیم کے سلسلہ میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر ایک استاد نے بتایا کہ بعض تعلیمی اداروں میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے شائع کردہ اردو کے کتابچے بچوں کو پڑھائے جا رہے ہیں جن میں ٹوپی اور دوپٹے کا مذاق اڑایا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۲۰۰۱ء

پاک چین دوستی اور امریکہ کو درپیش خدشات

ہمارے محترم مہمان اور عوامی جمہوریہ چین کے وزیر اعظم ژورانگ جی کے کامیاب دورہ پاکستان کے بعد جنوبی ایشیا کے بارے میں سیاسی تجزیوں اور قیاس آرائیوں نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور عالمی سطح پر صف بندی میں تبدیلیوں کے امکانات پر اظہارِ خیال کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ چین اور پاکستان کی روایتی دوستی اور امریکہ کے ساتھ بھارت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مراسم کے پیش نظر یہ بات اربابِ فکر و نظر کے لیے غیر متوقع نہیں تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مئی ۲۰۰۱ء

اظہارِ ندامت کا امریکی فریب

امریکی صدر منصبِ صدارت سے الگ ہو کر بھی ذہنی طور پر اپنی ذمہ داریوں سے فارغ نہیں ہوتا اور قومی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہے، بلکہ جو کام کوئی صدر عہدہ صدارت پر فائز رہتے ہوئے انجام نہیں دے سکتا اسے کسی نہ کسی سابق صدر کے حوالے کر دیا جاتا ہے اور وہ ایک سرپرست کے طور پر اسے نمٹانے میں مصروف رہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ دسمبر ۲۰۰۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter