شاہ ولی اللہؒ اور علمِ حدیث

   
ادارۃ النعمان، گوجرانوالہ
۲۶ جنوری ۲۰۲۶ء

(شعبہ تخصصات ادارۃ النعمان، گوجرانوالہ کے زیر اہتمام ایک نشست سے گفتگو)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محدثین کرامؒ حدیث میں تین باتیں شامل کرتے ہیں، پوری تعریف یہی ہے، ’’قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او فعلہ او تقریرہ‘‘۔ لیکن ایک بات اور بھی محدثین نے شامل کی ہے جو عام طور پر ہم ذکر نہیں کرتے۔ کسی صحابی کا قول حضورؐ کی وفات کے بعد جو غیر قیاسی ہو، وہ مرفوع حدیث پر محمول ہوتا ہے۔ صحابی نے بات کی ہے، حضورؐ کے بعد کی ہے، قیاسی نہیں ہے، یعنی اس کا تعلق وحی سے ہے۔ مثلاً‌ کوئی قبر کی بات کرتا ہے، قیامت کی بات کرتا ہے۔ تو صحابی کا وہ قول جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا ہے اور قیاسی نہیں ہے، قیاسی ہو گا تو کسی رائے پر محمول ہو گا۔ غیر قیاسی کو بھی محدثین کس پر محمول کرتے ہیں؟ مرفوع حدیث پہ۔ کوئی صحابی خود غلط بات تو کر نہیں سکتا، یہ تو طے ہے کہ حضورؐ سے سنی ہے۔ تو حدیث کی تعریف تقریباً‌ محدثین نے یہی کی ہے۔ چنانچہ شاہ صاحبؒ تعریف کے طور پر اسے ہی نقل کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات شاہ صاحبؒ کچھ آگے بڑھ کے کہتے ہیں۔

ہمارے ہاں دلائل کی ترتیب میں قرآن پاک، حدیث و سنت، اجماع اور قیاس کے بعد استحسان بھی ہے۔ مالکیہ کے ہاں تعاملِ اہلِ مدینہ ہے۔ لیکن شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ حدیث کا ایک اور تعارف بھی ہے، وہ یہ کہ تمام علوم کا ماخذ یہ ہے۔ فرماتے ہیں ’’ان عمدۃ العلوم الیقینیۃ رأسھا و مبنی الفنون الدینیۃ واساسھا ھو علم الحدیث النبوی الشریف‘‘۔ جتنے بھی علومِ یقینی ہیں، یعنی وحی کے علوم اور علومِ دینیہ، دینی علوم کے جو دائرے ہیں، ان کی بنا حدیث پر ہے۔ یہاں شاہ صاحبؒ حدیث بطور ماخذ کے پیش کرتے ہیں۔ اُس تقسیم میں حدیث ایک قسم ہے، چار قسموں میں سے دوسرے نمبر کی دلیل ہے۔ لیکن یہاں شاہ صاحبؒ حدیث کو بطور ماخذ کے پیش کرتے ہیں کہ سب کا ماخذ حدیث ہی ہے۔

مثال کے طور پر قرآن پاک کا ماخذ حدیث ہے۔ قرآن پاک کے الفاظ بھی ہمیں حدیث سے ملے ہیں، ترتیب بھی حدیث سے ملی ہے، اس کی تفسیر بھی حدیث سے ملی ہے۔ مثلاً‌ قرآن پاک کی پہلی پانچ آیات ہیں، اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرأ وربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ پانچ آیتیں ہمیں غارِ حرا سے ملی ہیں۔ غارِ حرا کا واقعہ ہے تو آیتیں بھی ہیں۔ اور اگر غارِ حرا کا واقعہ نہیں ہے تو آیتیں کہاں سے آئیں گی؟ غارِ حرا کا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا، صحابہ نے روایت کر دیا، یہ حدیث ہے۔ حدیث ہے تو واقعہ بھی ہے، حدیث نہیں تو واقعہ کدھر سے آئے گا؟ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ غارِ حرا ایک افسانوی قصہ ہے، میں نے کہا پھر قرآن ہی افسانوی قصہ ہے۔ کسی دانشور نے پچھلے دنوں پھلجھڑی چھوڑی ہے کہ غارِ حرا افسانوی بات ہے۔ میں نے کہا پھر قرآن سارا افسانوی ہے، قرآن بھی نعوذ باللہ افسانہ ہے۔

لیکن یہ بات کہ یہ پانچ آیتیں ہمیں کہاں سے ملی ہیں؟ غارِ حرا سے۔ اور غارِ حرا کا واقعہ کہاں سے ملا ہے؟ روایت سے۔ روایت ہے تو واقعہ ہے، روایت نہیں ہے تو واقعہ نہیں ہے۔ واقعہ ہے تو یہ آیتیں ہیں، واقعہ نہیں تو یہ آیتیں بھی نہیں ہیں۔ یہ میں نے مثال دی ہے۔ جبکہ عمومی بات یہ ہے کہ قرآن پاک کا کوئی ایک لفظ، کوئی ایک جملہ، کوئی ایک آیت بھی ایسی نہیں ہے جو ’’رسول اللہ نے فرمایا ہے‘‘ کے بغیر قرآن پاک میں درج ہوئی ہو۔ حضورؐ نے فرمایا ہے کہ یہ وحی نازل ہوئی ہے، تب وہ درج ہوا ہے۔ اور اگر خدانخواستہ کوئی لفظ ’’حضورؐ نے فرمایا ہے‘‘ کے بغیر درج ہو گیا ہے تو کیا قرآن کا لفظ ہے وہ؟ آج ہی بخاری کے سبق میں یہ بات آ گئی کہ حضرت زیدؓ نے قرآن پاک جمع کہاں سے کیا ہے؟ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت صدیق اکبرؓ نے حکم دیا قرآن پاک مرتب کرو۔ ’’فتتبعت القرآن أجمعہ من العسب واللخاف، وصدور الرجال‘‘ (صحیح بخاری، حدیث نمبر ۴۹۸۷) کہتے ہیں میں نے قرآن پاک کا تتبع کیا، کچھ لوگوں کے سینوں سے ملیں، کوئی پتوں پر لکھی ہوئی ملیں۔ ایک صحابی یہ کہے کہ ’’میں نے آیت سنی تھی، یہ پتے پہ لکھ لی ہے‘‘ یہ کیا ہے؟ حدیث۔ صحابی یہ کہتا ہے میں نے یہ آیت حضورؐ سے سنی ہے، حضورؐ نے فرمایا فلاں سورت میں درج کر لو، یہ کیا ہے؟ حدیث۔ قرآن پاک کا کوئی ایک لفظ بھی ہے جو ’’رسول اللہ نے فرمایا ہے‘‘ کے بغیر قرآن میں آگیا ہو؟ اور اگر خدانخواستہ کوئی لفظ ’’حضورؐ نے فرمایا ہے‘‘ کے بغیر آگیا ہے، کیا وہ قرآن کا لفظ ہے؟ اس لیے قرآن پاک کے الفاظ، ترتیب، جمع، ان سب کا بنیادی ماخذ کیا ہے؟ حدیث۔

اسی طرح قرآن پاک کا بیان۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے جہاں یہ کہا ’’اقرأ‘‘، ’’لتقرأہ علی الناس‘‘ (بنی اسرائیل ۱۰۶)، ’’فاقرءوا ما تیسر منہ‘‘ (المزمل ۲۰) پڑھ کر سنائیں ان کو۔ وہاں بیان کی ذمہ داری بھی حضورؐ پہ ہی ہے۔ ’’لتبین للناس ما نزل الیھم‘‘ (النحل ۴۴) قرآن پاک کی قراءت، الفاظ، ترتیب، یہ بھی حضورؐ سے، اور بیان کس سے ہے؟ حضورؐ کی ڈیوٹی میں ’’اقرأ‘‘ بھی ہے، ’’لتقرأہ علی الناس‘‘ بھی ہے، ’’لتبین للناس ما نزل الیھم‘‘ بھی ہے۔ قرآن پاک کی اس آیت کا جو مطلب ہے، وہ اللہ پاک کی طرف سے کون بیان کرے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کیا گیا کہ آپؐ ساتھ ساتھ نہ پڑھیں، ’’لا تحرک بہ لسانک لتعجل بہ‘‘ (القیامۃ ۱۶) جبریل علیہ السلام آپؐ کو وحی سناتے ہیں، آپؐ ساتھ ساتھ نہ پڑھیں۔ آپؐ کیوں پڑھتے ہیں، کہ بھول نہ جائے۔ ’’نہ پڑھیں‘‘ کیوں؟ کہ قرآن پاک کے آداب میں سے ہے ’’واذا قرئ القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا‘‘ (الاعراف ۲۰۴) استماع کا تعلق کان سے ہے، انصات کا تعلق کس سے ہے؟ زبان سے۔ کان متوجہ، زبان بند۔ آپؐ پڑھتے کیوں ہیں؟ ’’لا تعجل بالقراٰن من قبل ان یقضیٰ الیک وحیہ‘‘ (طہ ۱۱۴) وحی پوری سننے سے پہلے جلدی نہ کریں۔ آپؐ کے ذہن میں ہو گا، بھول جاؤں گا۔ نہیں۔ تین باتیں اللہ پاک نے اپنے ذمے لی ہیں۔ ’’ان علینا جمعہ وقراٰنہ۔ فاذا قرانٰہ فاتبع قراٰنہ۔ ثم ان علینا بیانہ۔‘‘ (القیامۃ ۱۷ تا ۱۹) سینے پہ محفوظ کرنا ہمارا کام ہے، زبان سے پورا پڑھوانا ہمارا کام ہے، اس کا مطلب مفہوم دل میں ڈالنا ہمارا کام ہے۔ تین باتوں کی قرآن پاک نے گارنٹی دی ہے ’’ان علینا جمعہ و قراٰنہ‘‘۔ آپؐ کے سینے میں محفوظ کرنا ہمارا کام ہے۔ اور صحیح آپؐ کی قراءت کروانا، یہ ہمارے ذمے ہے۔ ’’ثم ان علینا بیانہ‘‘، ’’لتبین للناس‘‘۔ جو آپ نے مطلب بیان کرنا ہے، وہ ہم ڈالیں گے آپ کے دل میں۔

تو یہ بیان، اس کا ماخذ بھی کیا ہے؟ کسی آیت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تشریح فرمائی ہے، یہ کہاں سے ملے گا؟ یا تشریح نہیں فرمائی، اس پر عمل کیا ہے۔ بسا اوقات حضورؐ نے فرمایا کچھ نہیں، عمل کیا ہے۔ یا تو بیان فرمائیں کہ یہ مطلب ہے اس کا۔ بیان نہیں کیا، عمل کیا ہے۔ یہ عمل دلیل ہے کہ اس کا معنی یہ ہے۔ مثال کے طور پہ۔ بہت سی باتیں ہیں، ایک بات عرض کر دیتا ہوں۔ حجۃ الوادع کے لیے حضورؐ تشریف لے گئے، جاتے ہوئے بھی نماز قصر کر رہے ہیں، واپسی پر بھی قصر کر رہے ہیں۔ قرآن پاک میں جہاں قصر کا ذکر ہے نا، ’’فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوٰۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا‘‘ (النساء ۱۰۱) قرآن پاک میں قصر کا ذکر ہے تو وہاں شرط ہے ’’ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا‘‘۔ یہ قصر حالتِ خوف میں ہے، حالتِ جنگ میں ہے۔ حالتِ امن میں نہیں ہے۔ اب حجۃ الوادع میں کون سا خوف تھا؟ نہ آتے، نہ جاتے، پورا جزیرۃ العرب کنٹرول میں ہے۔ حضورؐ قصر کرتے جا رہے ہیں، قصر کرتے ہوئے واپس آ رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ کا ذہن واپسی پر اچانک اس طرف ذہن چلا گیا۔ مفسرین کرامؒ نے یہ واقعہ نقل کیا ہے۔ قرآن پاک تو ’’ان خفتم‘‘ کی شرط لگاتا ہے جبکہ ہمیں کوئی خوف نہیں ہے۔ قصر کرتے جا رہے ہیں، قصر کرتے آ رہے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ ذہن میں بات آئی، حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یا رسول اللہ! یہ کیوں؟ فرمایا، کیا ہوا؟ ہم قصر کر رہے ہیں؟ ہاں کر رہے ہیں۔ قرآن پاک نے تو ’’ان خفتم‘‘ کی شرط لگائی ہے، ہمیں تو کوئی خوف نہیں ہے، یہ قصر کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا دلچسپ جملہ فرمایا: ’’اللہ کا صدقہ واپس کیوں کرتے ہو؟‘‘۔ اس کا ترجمہ میں اپنی زبان میں کیا کرتا ہوں کہ اللہ پاک نے کہا خوف میں قصر کرو، ہم قصر کر رہے ہیں امن میں، بولنا کسے چاہیے، اعتراض کس کو ہونا چاہیے؟ وہ بولا ہے؟ تو کہا، اللہ کا صدقہ ہے۔ بس اتنا ہی کہا۔ حضرت عمرؓ چپ کر کے واپس چلے گئے۔ اور یہ قصر نماز حضورؐ کے عمل سے ہے۔

اور دیکھیں یہ مستقل دلیل ہے ایک۔ ہم یہ کہتے ہیں حدیث میں کہ صحابی کا قول حضورؐ کے علم میں آیا ہے، حضورؐ کے زمانے میں، حضورؐ نے شاباش دی ہے، تائید کی ہے، یا کم از کم خاموشی اختیار کر لی ہے۔ تقریری حدیث کسے کہتے ہیں؟ صحابی کا قول ہے یا عمل ہے۔ حضورؐ کی خاموشی ہے۔ یہ خاموشی آخری درجہ ہے۔ پہلا درجہ کیا ہے؟ شاباش دی ہے۔ کئی موقعوں پر دی ہے۔ تصدیق کی ’’صدق‘‘ ہاں، صحیح کہا تم نے۔ آخری درجہ کیا ہے؟ یہ نکیر نہ کرنا، یہ آخری درجہ ہے۔ صحابی کی بات پر حضورؐ کا نکیر نہ کرنا، یہ حدیث کس کی بناتا ہے؟ صحابی کی یا حضورؐ کی؟ تو اللہ کا حضورؐ کی کسی بات پر نکیر نہ کرنا، یہ کس کی وحی ہو گی؟ وحی تو جاری ہے۔ حضورؐ نے ایک بات کی ہے۔ وحی نہیں آئی۔ وحی خاموش ہو گئی ہے۔ وحی کا خاموش رہنا، نکیر نہ کرنا۔ سمجھانے کے لیے عرض کیا کرتا ہوں کہ اگر صحابی کی بات پر حضورؐ کا نکیر نہ کرنا، صحابی کی بات کو حضورؐ کی حدیث بنا دیتا ہے، تو رسول اللہ کی بات پر اللہ کا نکیر نہ کرنا اِس کو خدا کی وحی نہیں بناتا؟

ایک بات پر اور غور فرما لیں۔ تئیس سال میں حضورؐ نے کتنے کام کیے ہوں گے، کتنی باتیں کہی ہوں گی۔ ان میں وحی کے ساتھ کتنی ہیں اور وحی کے بغیر کتنی ہیں؟ تئیس سال کا عرصہ۔ باتیں بھی ہیں، اعمال بھی ہیں۔ آپ وحی والی کتنی نکال لیں گے؟ پانچ فیصد نکال لیں گے۔ باقی کیا ہیں؟ ہر بات پہ وحی آتی تھی؟ باقی بھی وحی ہیں۔ کیوں؟ یہ تقریری وحی ہے۔ یہ وحی کون سی ہے؟ تقریباً‌ میرے حساب سے نوے فیصد تو بن ہی جاتی ہے۔ تو میں عرض کرتا ہوں، یہ قرآن پاک کا بیان ’’لتبین للناس ما نزل الیھم‘‘ یہ کہاں سے ملے گا؟ حدیث سے ملے گا۔

تیسری بات، شانِ نزول۔ کسی بات کا مفہوم طے کرنے میں پس منظر بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ آج کی زبان میں اسے پس منظر کہتے ہیں اور ہماری زبان میں اسے شانِ نزول کہتے ہیں۔ شانِ نزول کے ساتھ طے ہو گا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ بہت سے واقعات بخاری نے نقل کیے ہیں۔ دو کا ذکر کروں گا۔

عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خالہ محترمہ حضرت عائشہؓ سے سوال کر رہے ہیں۔ بیٹے بھی تھے، بھانجے تھے، گود میں پلے ہیں۔ سوال جواب بھی بہت کیا کرتے تھے۔ سوال کر دیا: اماں جی! ’’ان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتامیٰ فانکحوا ما طاب لکم من النساء‘‘ (النساء ۳) اس کا کیا مطلب ہے؟ اگر یتیموں سے انصاف نہ کر سکو تو شادیاں کرو۔ تعلق کیا ہے اس کا؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، اس کا پس منظر یہ ہے کہ لوگ یتیم بچیوں کو سنبھال لیتے تھے، اپنے حرم میں شامل کر لیتے تھے، تعداد پہ پابندی نہیں تھی، اللہ پاک نے تعداد پہ بھی پابندی لگا دی اور شرط لگا دی کہ یتیم بچیوں سے انصاف نہیں کر سکتے، ان کے حقوق پورے نہیں کر سکتے تو آزاد عورتوں سے شادی کرو۔ اب اس پس منظر کے بغیر ان دو باتوں میں جوڑ ملے گا آپ کو؟

عروہؓ بہت سوالات کیا کرتے تھے۔ اماں جی سے ان کے سوالات بہت ہوتے تھے۔ قرآن پاک میں ہے ’’ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ فمن حج البیت اواعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما‘‘ (البقرۃ ۱۵۸)۔ صفا مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں، جو حج کرے یا عمرہ کرے وہ صفا مروہ کی ’’لا جناح علیہ ان یطوف بھما‘‘ کوئی حرج نہیں کہ ان کا چکر بھی لگا لے۔ یہ وجوب کا جملہ ہے یا اجازت کا جملہ ہے۔ کوئی حرج نہیں، یہ بھی کر لو یار۔ ترجمہ یہی بنتا ہے، جو حج پہ آئے، کوئی حرج نہیں اس کا بھی طواف کر لے۔ یہ وجوب کدھر سے آ گیا ہے؟ اور کیا سعی کے بغیر عمرہ ہوتا ہے؟ حج ہو جاتا ہے؟ حضرت عروہؓ نے سوال کیا اماں جان سے کہ یہ وجوب کدھر سے آیا ہے۔ اماں جی نے عجیب جواب دیا۔ بیٹا، تمہارے لیے یہ ہے نہیں اس لیے تمہیں سمجھ نہیں آتا، تمہیں نہیں کہا گیا۔ عروہؓ نے کہا کہ یہ مجھے نہیں کہا گیا؟ فرمایا، نہیں، یہ تمہیں قرآن پاک نے خطاب نہیں کیا اس لیے تمہیں سمجھ نہیں آ رہا، جن کو خطاب کیا تھا، سمجھ میں آ گیا تھا۔ کیا مطلب اس کا؟ فرمایا، جاہلیت کے زمانے میں بیت اللہ کے طواف کے ساتھ قریشی یہ سعی کیا کرتے تھے، غیر قریشی نہیں کیا کرتے تھے۔ انصار کے دونوں قبیلے نہ کرنے والوں میں تھے۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں ’’کنا نعدھا فی الجاھلیۃ‘‘ ہم اس کو جہالت کی بات سمجھا کرتے تھے کہ ماں دوڑی ہے تو اب دوڑتے رہو قیامت تک، یہ کیا بات ہوئی۔ ’’کنا نتاثم، کنا نتحرج‘‘۔ انس بن مالکؓ کہتے ہیں ہم اس کو حرج کی بات سمجھتے تھے گناہ کی بات سمجھتے تھے، جاہلیت کی بات سمجھتے تھے کہ ماں دوڑی تھی ایک دفعہ تو قیامت تک دوڑتے ہی رہو، ہم نہیں کرتے تھے۔ اب حج کا حکم آیا، حج پہ گئے تو انصار کو یہ مسئلہ پیش آیا۔ یا رسول اللہ! آپ تو طواف کے بعد سعی کریں گے، ہم جایا کرتے تھے منات میں، وہ آپ نے بند کروا دیا ہے، ہم کیا کریں گے؟ ان کے جواب میں آیا ہے یہ۔

اب یہ پس منظر ذہن میں نہ ہو کہ یہ انصارِ مدینہ کو مشکل پیش آئی تھی، انہوں نے سوال کیا تھا، اس کے جواب میں، کوئی حرج نہیں۔ ’’کنا نتحرج‘‘ کے جواب میں ہے ’’لا جناح علیہ‘‘۔ یہ ’’لا جناح علیہ‘‘ کس کے جواب میں ہے؟ ’’کنا نتحرج، کنا نتاثم، کنا نعدھا فی الجاھلیۃ‘‘۔

بیسیوں باتیں ہیں، پس منظر ذہن میں نہ ہو، یا ہماری اصطلاح میں شانِ نزول علم میں نہ ہو تو معنیٰ متعین نہیں ہوتا۔ اور یہ شانِ نزول کہاں سے ملے گا؟ ایک لطیفہ اور سنا دیتا ہوں۔ قدامہ بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ حضرت عمرؓ کے برادر نسبتی بھی تھے، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے ماموں ہیں، اور بدری صحابی ہیں۔ حضرت عمرؓ نے ان کو بحرین کا گورنر بنا دیا۔ حافظ بن حجرؒ نے قدامہؓ کے ذکر میں یہ سارا واقعہ ذکر کیا ہے۔ عثمان بن مظعونؓ کے بھائی ہیں۔ حضرت عمرؓ کو رپورٹ ملی کہ قدامہؓ کبھی کبھی شراب پیتے ہیں۔ بڑی خوفناک رپورٹ تھی۔ تحقیق کروائی، محمد بن مسلمہؓ کو بھیجا۔ انہوں نے تحقیق کی، انہوں نے کہا ٹھیک ہے، کبھی کبھی پیتے ہیں۔ بلا لو۔ قدامہ بن مظعونؓ کی طلبی ہو گئی حضرت عمرؓ کے دربار میں۔ بحرین کے گورنر تھے۔ گورنر بھی ہیں، بدری صحابی ہیں، اور برادر نسبتی بھی ہیں۔ عبد اللہ بن عمرؓ کے ماموں ہیں۔

قدامہ! مجھے رپورٹ ملی ہے کہ تم کبھی کبھی شراب پیتے ہو؟ ہاں، کبھی کبھی پیتا ہوں۔ او خدا کے بندے! یہ گناہ ہے۔ جواب دیا، جی قرآن پاک اجازت دیتا ہے، قرآن پاک گنجائش دیتا ہے۔ قرآن پاک میں کیا ہے؟ انہوں نے آیات پڑھیں: ’’یا ایھا الذین اٰمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ‘‘۔ یہ ممانعت ہے، حرام ہے۔ اگلی آیت ’’انما یرید الشیطان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ‘‘۔ یہ حکمت ہے۔ آگے ’’اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول‘‘۔ تاکید ہے۔ اگلی آیت کیا ہے؟ ’’لیس علی الذین اٰمنوا وعملوا الصالحات جناح فیما طعموا اذا ما اتقوا و اٰمنوا وعملوا الصالحات ثم اتقوا و اٰمنوا ثم اتقوا واحسنوا‘‘۔ (المائدہ)۔ کبھی کبھی چَکھ چُکھ لیں، کوئی حرج نہیں۔ ترجمہ کون کر رہا ہے؟ قدامہؓ۔ حضرت عمرؓ سناٹے میں آگئے۔ قدامہ! کیا اس کا مطلب یہ ہے؟ کہا، جی آپ فرما دیں، کیا ہے؟ حضرت عمرؓ نے ایک جملہ کہا، قدامہ! اگر تم بدری صحابی نہ ہوتے تو یہاں کھڑے کھڑے تمہاری چمڑی اتار دیتا، یہ معنیٰ ہے کر رہے ہو؟ جی حضرت، آپ فرما دیں، ترتیب بھی یہی ہے، ترجمہ بھی یہی ہے۔

میں متجددین سے کہا کرتا ہوں کہ ضروری نہیں جو ترجمہ ہو، مطلب بھی وہی ہو۔ ترجمہ یہاں یہی ہے، ترتیب بھی یہی ہے، مگر مطلب یہ نہیں ہے۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا، او خدا کے بندے! تمہارے بارے میں نہیں ہے یہ۔ جب اللہ پاک نے فرمایا ’’رجس من عمل الشیطان‘‘ تو صحابہؓ نے سوال کیا، یا رسول اللہ! جو ہمارے صحابہ، مومن بھائی پیتے پلاتے دنیا سے چلے گئے، ان کا کیا بنے گا؟ فرمایا، ان کا کوئی حرج نہیں۔ یہ ’’فیما طعموا‘‘ ماضی کا ہے، مستقبل کا نہیں ہے۔

حضرت عمرؓ کی یہ وضاحت اگر نہ ہو تو ’’لیس علی الذین اٰمنوا و عملوا الصالحات جناح فیما طعموا‘‘ کا مفہوم آپ طے کر لیں گے؟ یہ پس منظر کہاں سے ملے گا؟ تو میں نے شاہ صاحبؒ کی بات کا خلاصہ عرض کیا ہے کہ شاہ صاحبؒ نے کیا کیا؟ حدیث کو بطور ماخذ کے پیش کیا ہے۔ ایک ہے قسم، دلائل کی تقسیم میں دوسرے نمبر کی دلیل۔ لیکن شاہ صاحبؒ ایک قدم آگے بڑھ کر فرماتے ہیں کہ حدیث تمام علومِ دینیہ کا، قرآن ہو، تفسیر ہو، سنت ہو، تاریخ ہو، حضورؐ کے واقعات ہوں، سب کا ماخذ ہے۔

(۲) دوسری بات، ہمارے ہاں برصغیر میں حدیث کے ساتھ تعلق علمی تو تھا، لیکن حدیث روایت کرنے کا معمول نہیں تھا، سوائے گجرات کے علماء کے، مثلاً‌ ملا علی متقی، کنز العمال والے۔ محدثین تھے شخصی طور پر، بعض محدثین کا روایتاً‌ حدیث بیان کرنے کا معمول تھا، لیکن عمومی ماحول نہیں تھا۔ زیادہ سے زیادہ مشکوٰۃ پڑھتے تھے۔ مشکوٰۃ روایتاً‌ روایت نہیں ہے۔ حدیث کے بیان کے دو دائرے ہیں:

  • ایک سنداً‌، اپنی سند کے ساتھ محدث بیان کرتا ہے۔ سنداً‌ روایت بیان کرنے میں سب سے افضل کتاب کون سی ہے؟ بخاری شریف۔
  • دوسرا حوالے کے ساتھ: رواہ البخاری، رواہ ترمذی، رواہ احمد، رواہ ابن ماجہ۔ حوالے کے ساتھ بیان کرنے میں سب سے زیادہ مقبول کتاب کونسی ہے؟ مشکوٰۃ۔

یہ اللہ پاک کی طرف سے ہے کہ سنداً‌ بیان کی جانے والی کتابوں میں سب سے زیادہ مقبول کتاب ہے بخاری شریف۔ اور حوالے سے بیان کی جانے والی کتابوں میں سب سے زیادہ پڑھائی جاتی ہے مشکوٰۃ۔ یہ سیکنڈری سورس ہے۔ ہمارے ہاں درسِ نظامی کے نصاب میں بھی آخری کتاب حدیث کی مشکوٰۃ تھی۔ ہم بطور دلیل کے، بطور حجت کے، حدیث پڑھتے بھی تھے، پڑھاتے بھی تھے، لیکن سنداً‌ روایت کرنے کا عمومی ماحول نہیں تھا۔ اس کا آغاز شاہ صاحبؒ نے کیا۔ شاہ صاحبؒ کو مسند الہند کہتے ہیں۔ اس وقت جنوبی ایشیا میں جہاں بھی حدیث پڑھائی جاتی ہے، سنداً‌، روایتاً‌، تو شاہ ولی اللہؒ ان تمام روایات اور اسناد کا جنکشن ہیں۔ مسند الہند کا ترجمہ میں کیا کرتا ہوں کہ اسناد کا جنکشن ہیں۔ ساری سندیں وہاں سے ہو کر آگے جاتی ہیں۔ شاہ صاحبؒ حجاز مقدس گئے، شیخ ابو طاہر کردیؒ سے روایت لی، حجاز مقدس رہے، اور روایتاً‌ سنداً‌ اسناد حاصل کیں، اور یہاں آ کر اس کو رواج دیا۔ یہ بات پھر وضاحت کر دوں کہ شخصیات میں روایتاً‌ حدیث پڑھنے کامعمول تھا، عمومی ماحول میں نہیں تھا۔ عمومی ماحول میں روایتاً‌ اور سنداً‌ پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ کس نے شروع کیا ہے؟ شاہ ولی اللہؒ نے۔ اور آج کوئی خطہ جنوبی ایشیا کا خالی ہے؟ اہلِ حدیث ہو، بریلوی ہو، دیوبندی ہو، اس کی بھی قید نہیں ہے۔ جو بھی حدیث سنداً‌ بیان کرتا ہے وہ سند میں شاہ ولی اللہؒ سے ہو کر گزرتا ہے۔

شاہ صاحبؒ نے ایک کام یہ کیا کہ حدیث سنداً‌ روایتاً‌ بیان کرنے کو رواج دیا۔ ہماری اسناد، جتنی حدیثوں سے بیان کریں، بہت کم اسناد ہیں جو براہ راست عرب محدثین سے لی گئی ہیں۔ لیکن عمومی اسناد جتنی چل رہی ہیں وہ کہاں سے ہو کر جاتی ہیں؟ شاہ صاحبؒ نے حدیث کی کتابیں بطور روایت بطور سند پڑھنے کا ماحول پیدا کیا اور اس کی برکت ہے کہ آج پورے جنوبی ایشیا، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، برما وغیرہ سارا، حدیث روایتاً‌ پڑھی جاتی ہے، اور یہ سارا تنوع کس نے پیدا کیا ہے؟ شاہ ولی اللہؒ نے۔ یہ دوسری بات۔

(۳) تیسری بات کہ ہمارے ہاں چونکہ شروع سے احادیث میں فقہی مباحثہ چل رہا ہے، فقہاء کے جو فقہی اختلافات ہیں، ہر امام کے مقلدین اپنی فقہ کو اولیٰ ثابت کرنے کے لیے بحث کہاں کرتے ہیں؟ حدیث میں۔ ہم بھی کرتے ہیں، شوافع بھی کرتے ہیں، حنابلہ بھی کرتے ہیں، اور مالکیہ بھی کرتے ہیں۔ حدیث بطور فقہی مباحثے کے، شروع سے چلی آ رہی ہے۔ مگر ہمارے ہاں بالکل عنوان ہی یہ بن گیا ہے۔ شاہ صاحبؒ نے کہا کہ تم جامد ہو گئے ہو بالکل۔ حدیث کو اپنے دلائل کے طور پر پڑھو، انکار نہیں، لیکن حدیث کو بطور حدیث بھی پڑھو۔

حدیث کو فقہی مباحث سے الگ کر کے بطور علم، بطور حدیث بھی پڑھو۔ ہماری عموماً‌ حدیث کی بحثیں کیا ہوتی ہیں؟ فقہی اختلافات۔ ٹھیک ہے۔ لیکن حدیث بطور حدیث کے۔ فقہ کو بطور فقہ پڑھو اور حدیث کو بطور حدیث کے پڑھو۔ یہ رجحان بھی شاہ صاحبؒ نے پیدا کیا۔

آگے چل کر پھر ہمارے ہاں ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا کہ جب نواب صدیق حسن خان اور مولانا میاں نذیر حسین صاحب اور اہل حدیث کے چند بڑے علماء کرام نے تین چار مسائل پر اختلافات کا آغاز کیا، رفع یدین اور دیگر مسائل پر تو انہوں نے یہ بات کہنی شروع کر دی کہ جناب حنفیوں کے پاس تو حدیث کوئی نہیں، ہم حدیث پہ عمل کرتے ہیں، یہ اپنی فقہ پہ عمل کرتے ہیں۔ اس سوال نے ہمارے ہاں یہ رجحان پیدا کیا۔ اس پس منظر میں کہ ہم احادیث کو اپنے فقہی مذہب کے دفاع میں بحث کے طور پر پڑھتے ہیں۔ یہ سب سے پہلے کس نے کیا ہے؟ مولانا احمد علی سہارنپوریؒ نے۔ بخاری شریف کا حاشیہ پچیس پارے کس کا ہے؟ مولانا احمد علی سہارنپوریؒ کا۔ اور آخری پانچ پارے کس کے ہیں؟ اس کا تناظر کیا ہے کہ ہم اپنے فقہی مسائل میں اس کو بطور حجت کے پیش کرتے ہیں۔

لیکن شاہ صاحبؒ کا ذوق یہ تھا کہ ٹھیک ہے فقہ کے ساتھ پڑھو، لیکن حدیث کو فقہی مباحث سے الگ کر کے بطور حدیث بھی پڑھو۔ چنانچہ یہ دورہ حدیث شروع ہوا۔

یہ میں نے شاہ صاحبؒ کی تیسری تبدیلی ذکر کی ہے۔ شاہ صاحبؒ نے حدیث کے باب میں پہلی بات کیا کی تھی؟ حدیث کو بطور علومِ دینیہ کے ماخذ کے پیش کیا۔ ’’عمدۃ العلوم الیقینیۃ‘‘۔ دوسری بات کیا گزارش کی کہ حدیث کو سند کے ساتھ روایت کرنے کا ماحول پیدا کیا۔ تیسری بات کہ حدیث کو فقہی مباحث سے ہٹ کر بطور حدیث کے بھی پڑھو۔

(۴) چوتھی بات یہ ہے کہ شاہ صاحبؒ نے سماج کو موضوع بنایا ہے۔ کیا مطلب؟ ایک ہے علمی ضرورت۔ ٹھیک ہے۔ موجود عصری تناظر میں، سماج کی، معاشرے کی ضرورت کیا ہے، اس حوالے سے حدیث کو شاہ صاحبؒ پیش کرتے ہیں، آج کل اس کو سوشیالوجی کہا جاتا ہے۔ سوسائٹی کی ضروریات کو سامنے رکھ کر قرآن پاک بیان کیا جائے، سوسائٹی کی ضروریات کو سامنے رکھ کر حدیث بیان کی جائے، اور سوسائٹی کے تقاضوں کو زیربحث لایا جائے۔ معاشرے کے مسائل۔ بلکہ شاہ صاحبؒ نے تو قرآن پاک کے حوالے سے بھی ایک بات کی ہے، قرآن پاک کے وجوہِ اعجاز میں۔ قرآن پاک کے اعجاز کے وجوہ بیسیوں ہیں۔ مثلاً‌ حفظ ہو جانا، باقی کتابیں نہیں ہوتیں۔ یہ کروڑوں حافظ موجود ہیں۔ پڑھی بھی جاتی ہے، سنی بھی جاتی ہے۔ اس کا محفوظ رہنا۔ اصل نسخے بھی موجود ہیں حضرت عثمانؓ کے لکھے ہوئے۔ کوئی فرق نہیں ہے۔ یا اس کا ذریعۂ ہدایت ہونا۔ آج بھی قرآن پاک سب سے بڑا ذریعۂ ہدایت ہے۔ میں نے ایک حوالہ دیا تھا آپ کو، ایک انگریز نومسلم یحییٰ برٹ کا، اس نے ریسرچ کی ہے کہ یورپی لوگ کیوں مسلمان ہو رہے ہیں۔ اس کا مقالہ نیٹ پر موجود ہے۔ اس نے کہا کہ جس کی قرآن پاک تک رسائی ہو جاتی ہے براہ راست، وہ مسلمان ہو جاتا ہے۔ پچھلے دس سال میں تیرہ ہزار نومسلموں کا اس نے حوالہ دیا ہے جس میں اسی فیصد وہ ہیں جو قرآن پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں۔ یہ قرآن پاک کا اعجاز ہے۔ اسی طرح قرآن پاک معنی کے اعتبار سے، بلاغت کے اعتبار سے اور دیگر کئی حوالوں سے معجزہ ہے۔

جبکہ شاہ صاحبؒ کہتے ہیں، میرے بعد آنے والے دور میں قرآن پاک کے اعجاز کا یہ پہلو زیادہ نمایاں ہو گا کہ سوسائٹی کو درپیش مسائل کا حل جو قرآن پاک پیش کرتا ہے کوئی نہیں کرتا۔ اس کو سماجیات کہتے ہیں، سوشیالوجی کہتے ہیں۔ سوسائٹی کی ضروریات کو زیربحث لایا جائے۔ اس پر میں دو تین شہادتیں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ سماجی مسائل کا معاشرتی مسائل کا جو حل قرآن پاک پیش کرتا ہے نا، شاہ صاحبؒ کہتے ہیں، آنے والے دور میں یہ سب سے بڑا معرکہ ہو گا اور قرآن پاک کے وجوہِ اعجاز میں یہ اعجاز کی وجہ سب سے زیادہ نمایاں ہو گی کہ قرآن پاک سوسائٹی کے مسائل کو سب سے بہتر حل کرتا ہے۔

اس پر ایک شہادت تو میں دوں گا۔ مسیحی دنیا کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس ہیں۔ یہ پاپائے روم ہیں۔ ان سے پہلے جو پاپائے روم تھے پوپ بینی ڈکٹ، انہوں نے ایک کمیٹی بنائی تھی عیسائی معاشی ماہرین کی، کہ دنیا میں جو معاشیات میں عدمِ توازن ہے، اَن بیلنس سسٹم ہے، اس کا حل کیا ہے؟ اس کی رپورٹ ریکارڈ پر ہے کہ دنیا کے معاشی نظام کو بیلنس پر اس وقت تک نہیں لا سکتے ہم جب تک وہ معاشی اصول نہ اختیار کریں جو قرآن نے بیان کیے ہیں۔

برطانیہ کے بادشاہ چارلس صاحب کی تقریر، نیویارک میں پولوشن پر کانفرنس تھی، موسمی تغیرات پر انہوں نے کہا جی دیکھو بات سیدھی سیدھی ہے، ہم تجاوز کر رہے ہیں بہت سی باتوں میں، نیچر کے خلاف کام کر رہے ہیں، جب تک معاشرت، سماج کے وہ اصول جو قرآن نے بیان کے ہیں، اس کو نہیں اپنائیں گے تب تک ہم یہ پولوشن اور موسمی تغیرات کے مسئلہ پر قابو نہیں پا سکتے۔

روس نے پون صدی خدا کے انکار پہ گزاری ہے، مگر اب روسی پارلیمنٹ نے قرارداد کی ہے جس میں پیوٹن سے درخواست کی ہے کہ روس کے دستور میں اور قوانین میں ترمیم کی جائے تاکہ ہم قرآن پاک کے معاشی اصول اپنے نظام میں ایڈجسٹ کر سکیں۔

یہ بات شاہ صاحبؒ نے قرآن پاک کے بارے میں کہی کہ قرآن پاک کے وجوہِ اعجاز میں آئندہ کا جو دور ہے، سماجی نظام، اور نظاموں کے مقابلے میں قرآن پاک کی برتری ثابت کرنے کا ہے۔ اور حدیث اس کی بنیاد ہے۔ شاہ صاحبؒ احادیث کی تشریح کرتے ہیں، حجۃ اللہ البالغہ اگر آپ نے دیکھی ہے، احادیث نبویہؐ کی سماجی تشریح ہے۔ قرآن پاک کی یا احادیث کی ایک تشریح ہے فقہی۔ ٹھیک ہے۔ طحاویؒ یہی کرتے ہیں اور دوسرے فقہاء بھی یہی کرتے ہیں۔ احادیث کی سماجی تشریح کہ اس حدیث سے سماج کا یہ مسئلہ حل ہوتا ہے، معاشرے کی یہ الجھن دور ہوتی ہے، اس کا آغاز شاہ صاحبؒ نے کیا ہے۔ آج کا جتنا فلسفہ ہے نا، سماجیات کے حوالے سے ہے۔ اسے بطور تعلیم کے، بطور سسٹم کے، بطور نظام کے شاہ صاحبؒ بحث کرتے ہیں۔ اور احادیث کی تشریح سوسائٹی کے مسائل کے حوالے سے کی جائے، اور سوسائٹی کے مسائل کا حل حضورؐ کی سیرت میں، سنت میں، یہ بھی شاہ صاحبؒ نے ذوق دیا۔ یہ شاہ صاحبؒ کے چار حدیث کے بارے میں امتیازات جو میں نے مختصراً‌ عرض کیے ہیں۔ پھر دوہرا دیتا ہوں۔

  1. شاہ صاحب حدیث کو بطور علومِ دینیہ کے ماخذ کے پیش کرتے ہیں۔
  2. دوسری بات انہوں نے یہ کی کہ سنداً‌ روایتاً‌ حدیث کو جاری کیا۔
  3. تیسری بات میں نے کیا کی تھی؟ اس کو محدود نہ کر دیں کہ آپ حدیث کو فقہی مبحث میں ہی لائیں گے، نہیں، حدیث کو بطور حدیث بھی پڑھیں اور پڑھائیں۔
  4. چوتھی بات شاہ صاحبؒ نے کی کہ حدیث کو سماجی اور معاشرتی مسائل کے حل کے طور پر تطبیق کے انداز میں پیش کریں۔

یہ چار تبدیلیاں ہیں جو شاہ صاحبؒ نے کی ہیں اور اب کم و بیش سبھی علمی حلقے اسی دائرے میں ہیں۔ شاہ صاحبؒ نے یہ جو کیا ہے نا، اب یہ چاروں دائرے پورے جنوبی ایشیا میں، باقی دنیا میں نہیں، جنوبی ایشیا میں، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش، برما، یہ سارک جس کو کہتے ہیں، اس میں وہی ماحول ہے۔ اور ابھی کوئی اور شاہ ولی اللہؒ آئے گا تو بات شاید بدل جائے لیکن ابھی تین سو سال سے تو اسی ماحول میں ہم کام کر رہے ہیں۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں زیادہ سے زیادہ استفادے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter