(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آج کے دن دنیا بھر میں معراج کا ذکر ہوتا ہے، ہمارا ہاں بھی جمعۃ المبارک کے اور دیگر اجتماعات میں، دروس میں بھی، اخبارات و رسائل میں بھی۔ اس میں ہمارے لیے لمحۂ فکریہ دو باتیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزہ میں، معراج کے اِس سفر میں، ہمارے لیے فکر اور غور کی دو باتیں ہیں:
(۱) ایک بات تو یہ ہے کہ جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ جو سفر کروایا، ہمارے لیے اس میں اللہ تعالیٰ نے کیا دیا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو یہ اعزاز تھا، اکرام تھا، معجزہ تھا اور اعجاز تھا۔ لیکن اس میں ہمارے لیے بھی کچھ خدا نے دیا ہے یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہمارے لیے پانچ وقت کی نماز دی، یوں اس معجزے کے ساتھ ہمارا بھی ایک تعلق ہے۔ اس سفر میں اللہ رب العزت نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا کر ان کے ذریعے یہ نماز کا تحفہ ہمارے لیے بھیجا۔ اس لیے ہماری اصل معراج یہ ہے کہ ہم سب نماز کی پابندی کریں۔ بے شک ہم معراج کے لیے تقریریں نہ کریں، بیانات نہ سنیں، اور کوئی لمبا چوڑا اہتمام نہ کریں، ہم صرف پانچ وقت کی نماز ہی پابندی سے پڑھتے رہیں، یہی ہماری معراج ہے۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ فرمایا کہ ’’الصلوٰۃ معراج المؤمن‘‘ عام مسلمان کی معراج نماز ہے۔ ایک سبق تو ہمارے لیے اس میں یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اس سفر میں جو تحفہ لے کر آئے، ہم اس کی قدر کریں اور نماز کی پابندی کریں۔
(۲) دوسرا سبق یہ ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کے حوالے سے جب ہم بیت المقدس کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ بیت المقدس کی کیا حیثیت ہے اور یہ آج کس کے پاس ہے؟ بیت المقدس وہ جگہ ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو امام الانبیاء کا خطاب دیا گیا اور یہ ہم مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے۔ لیکن آج بیت المقدس کس کے پاس ہے؟ یہ آج یہودیوں کے قبضے میں ہے اور اس کے اردگرد رہنے والے مسلمان دنیا بھر کی دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ آج خلیج عرب کا علاقہ عالمی استعمار کے شکنجے میں ہے۔ وہاں امریکہ اور یورپی ممالک کی فوجیں لاکھوں کی تعداد میں بیٹھی ہیں اور تیس سے زیادہ ان کے فوجی اڈے ہیں وہاں پر۔ صرف اسرائیل کی حفاظت کے لیے اور بیت المقدس کو مسلمانوں کے پاس جانے سے روکنے کے لیے۔
آج ہم معراج کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں اپنے اس احساس کو بھی بیدار کرنا چاہیے اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ میں نے گزشتہ دنوں ایک کتبہ دیکھا جس پر بیت المقدس کی تصویر تھی اور اس کے نیچے بیت المقدس کی طرف سے ایک پکار درج تھی کہ:
مجھے حضرت عمرؓ نے فتح کیا تھا اور اسلامی قلمرو میں شامل کیا تھا۔ پھر مجھ پر عیسائیوں نے قبضہ کیا تو صلاح الدین ایوبیؒ آیا، اس نے مجھے عیسائیوں کے قبضے سے نجات دلائی۔ آج میں یہودیوں کے تسلط میں ہوں، آج مجھے چھڑانے والا کون ہے؟ ’’من ھی الآن؟‘‘ آج میرا مددگار کون ہے؟
یہ بیت المقدس کی پکار ہے۔ حالات ہم سب جانتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ ہماری غیرت مر گئی ہے، دنیا بھر کے مسلمان حکمران بے غیرت ہو چکے ہیں اور ہمارا عوام الناس کا حال بھی ان سے کچھ کم نہیں ہے۔ جب ہمارے حکمرانوں کو ہماری ضرورت پڑتی ہے ہم ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ آج ہماری بے غیرتی کی انتہا یہ ہے کہ بیت المقدس اور فلسطین عالمی استعمار کے نرغے میں ہے اور وہاں مجاہدین مار کھا رہے ہیں، قربانیاں دے رہے ہیں، اور ان مجاہدین کی حمایت میں کوئی لفظ کہنے کی بجائے ہمارے حکمرانوں کی زبانوں پر بھی ان کے لیے دہشت گرد کے الفاظ ہیں۔ اور اس سے بڑی بات یہ کہ چیچنیا میں مسلمان اس بے دردی کے ساتھ ذبح ہو رہا ہے لیکن کسی مسلمان حکمران کو یہ توفیق نہیں کہ وہ اس غیرت کا مظاہرہ کرے کہ کم از کم ان کے حق میں آواز ہی بلند کرے کہ یہ ظلم ہو رہا ہے، زیادتی ہو رہی ہے، لیکن عالم اسلام کے حکمران گونگے شیطان کی طرح چپ بیٹھے ہوئے ہیں۔
میں نے عرض کیا کہ معراج کے حوالے سے ایک تو ہم نماز کے تحفے کی قدر کریں۔ دوسرا بیت المقدس اور مسلمانوں کی مظلومیت کے حوالے سے اپنے احساس کو بیدار کریں اور غیرت کے اظہار کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں غیرت عطا فرمائے، حمیت عطا فرمائے اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

