بعد الحمد والصلوۃ۔ طبرانی کی روایت ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اللہ رب العزت سے چار باتوں کی گزارش کی، اللہ پاک نے تین قبول فرما لیں، ایک کے بارے میں فرمایا کہ نہیں۔
- میں نے گزارش کی کہ یا اللہ میری امت ساری کی ساری اکٹھی کہیں تباہ نہ ہو جائے۔ فرمایا، نہیں ہو گی۔ عذاب آتے رہیں گے، کبھی ادھر کبھی ادھر، لیکن امت باقی رہے گی، امت بحیثیت امت تباہ نہیں ہو گی۔
- میں نے دوسری گزارش کی کہ یا اللہ میری امت ساری کی ساری اکٹھی گمراہ نہ ہو جائے۔ قبول فرما لی۔ فرمایا، نہیں ہو گی۔ لوگ گمراہ ہوں گے لیکن امت میں ایک طبقہ حق پر ہمیشہ قیامت تک قائم رہے گا۔ امت میں گمراہ بہت ہوں گے لیکن امت بحیثیت امت گمراہ نہیں ہو گی۔
- تیسری گزارش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے یہ کی کہ یا اللہ میری امت پر پہلی امتوں جیسا اجتماعی عذاب نازل نہ ہو۔ اس طرز کا کہ سارے ہی غرق ہو گئے، سارے ہی جل گئے، سارے ہی دفن ہو گئے۔ یکبارگی ساری کی ساری امت پر پہلی امتوں جیسا اجتماعی عذاب نازل نہ ہو۔ فرمایا، ٹھیک ہے، نہیں ہو گا۔
- چوتھی گزارش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے یہ کی کہ یا اللہ میری امت آپس میں نہ لڑے۔ فرمایا، یہ تو ہو گا۔ لڑیں گے، ہر بات پہ لڑیں گے، ہر وقت لڑیں گے، ہر چیز پہ لڑیں گے، یہ تو ہو گا۔
طبرانی ہی کی ایک روایت ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، میری امت پر پہلی امتوں جیسا اجتماعی عذاب نازل نہیں ہو گا۔
کیا آج عذاب کے اسباب میں اور عذاب والی ہماری حرکتوں میں کوئی کمی ہے؟ عذاب نہیں آ رہا تو حضورؐ کے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی برکت ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہے کہ یا اللہ ایسا نہ کرنا۔ اللہ نے کہا، نہیں کروں گا۔ پہلی امتوں جیسا عذاب کہ سارے ہی غرق ہو گئے ہیں، سارے دفن ہو گئے ہیں، پتھر برستے ہیں ہر شے تباہ ہو گئی ہے، بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ ہو گئے ہیں، سوئے ہوئے تھے تو انسان تھے، اٹھے تو بندر ہیں۔ یہ حضورؐ کے اٹھے ہوئے ہاتھ ہیں کہ ہماری شکلیں قائم ہیں ورنہ ہماری طرف سے کسر کوئی نہیں ہے، ہماری طرف سے کوئی کمی نہیں ہے۔ جن باتوں پہ وہ عذاب کا شکار ہوئے تھے وہ ساری باتیں ہم کر رہے ہیں۔
جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میری امت پر پہلی امتوں جیسا اجتماعی عذاب نازل نہیں ہو گا۔ مگر میری امت پر خدا کے عذاب کی تین شکلیں ہوں گی۔ اللہ تعالی جب امت پر بحیثیت امت ناراض ہوں گے تو اس کی عملی شکل کیا ہو گی۔ سزا کیا ہوتی ہے؟ ناراضگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ استاذ ناراض ہوتا ہے تو سزا دیتا ہے۔ باپ ناراض ہوتا ہے تو سزا دیتا ہے۔ افسر ناراض ہوتا ہے تو سزا دیتا ہے۔ مالک ناراض ہوتا ہے نوکر پر تو سزا دیتا ہے۔ سزا کیا ہوتی ہے؟ ناراضگی کا عملی اظہار ہوتی ہے۔ فرمایا، میری امت پر جب اللہ تبارک و تعالی ناراض ہوں گے تو ناراضگی کے اظہار کی تین صورتیں ہوں گی:
- پہلی صورت یہ ہو گی ’’جعل اللہ باسہم بینہم‘‘۔ آپس میں لڑیں گے، جس بات پہ مرضی لڑیں: علاقے پہ لڑیں، فرقے پہ لڑیں، حکومت پہ لڑیں، کرسی پہ لڑیں، پیسے پہ لڑیں، رشتے پہ لڑیں۔ یہ خدا کے عذاب کی صورت ہو گی۔ یعنی جب امت میں مجموعی صورتحال یہ ہو کہ سب ایک دوسرے کے دست و گریبان ہیں، تو یہ علامت ہے کہ اللہ امت سے ناراض ہے۔ میں ایک بات عرض کیا کرتا ہوں کہ ہم ساری امت اپنی مجموعی صورتحال دیکھیں کہ اللہ ہم سے راضی ہے کہ ناراض ہے؟ یہ ہمیں سوچنا چاہیے یا نہیں سوچنا چاہیے؟ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سے راضی ہے تو ہمارا یہ حال ہو جو ہو رہا ہے؟ ہماری امت کی مجموعی کیفیت اللہ کے راضی ہونے کی علامت ہے یا ناراض ہونے کی علامت ہے؟ جن قوموں سے خدا راضی ہوتا ہے کیا ان کا یہ حشر ہوتا ہے؟ مجھے اور آپ کو خود سوچنا چاہیے، اگر اللہ ہم سے راضی ہو تو ہمارا یہ حشر ہو جو دنیا میں ہو رہا ہے؟ فرمایا کہ اللہ کی ناراضگی کی پہلی عملی صورت کیا ہو گی کہ لڑیں گے۔
- دوسری صورت، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے جب اللہ میری امت پہ ناراض ہو گا تو اس کی ظاہری شکل کیا ہو گی کہ ’’سلط اللہ علیہم شرارہم‘‘ اللہ پاک امت کے شریر لوگ انہی پر مسلط کر دیں گے۔ کسی تشریح کی ضرورت ہے؟ یعنی قیادت شرفاء کے ہاتھ میں نہیں ہو گی۔ امت کی باگ ڈور شرفاء کے ہاتھ میں نہیں ہو گی۔ اللہ پاک خود چن چن کر امت کے شریر لوگ امت پر مسلط کر دیں گے۔ یہ دوسری شکل ہو گی اللہ کی ناراضگی کے اظہار کی۔ جب ایسی کیفیت ہو تو سمجھنا چاہیے کہ اللہ راضی نہیں ہے، اللہ پاک ہم پہ ناراض ہے۔
- تیسری شکل ان دونوں سے زیادہ خوفناک ہے۔ فرمایا ’’ثم یدعو خیارہم فلا یستجاب لہم‘‘ اچھے لوگ دعائیں کریں گے ان کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔ یہ نہیں کہ لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔ ’’ثم یدعو خیارہم‘‘ خیر والے چنے ہوئے اچھے لوگ دعائیں کریں گے ’’فلا یستجاب لہم‘‘ ان کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔ میں سمجھانے کے لیے عرض کیا کرتا ہوں کہ گھر کا بڑا کوئی ناراض ہو گیا ہے، ناراضگی کی ایک حد یہ ہوتی ہے آخر میں کہ ’’جاؤ میں کسی کی نہیں سنتا‘‘۔ یہ وہ حد ہے کہ اچھے لوگ دعائیں کریں گے، اللہ پاک نہیں سنے گا، ان کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوں گی۔ اس سے بڑی کوئی عذاب کی شکل ہے؟ فرمایا، اللہ کی ناراضگی کی یہ صورت ہو گی۔
آج ہمیں تینوں حوالوں سے دیکھ لینا چاہیے کہ ہمارا حال کیا ہے؟ اللہ پاک سے تو ہم ہر چیز مانگ رہے ہیں، لیکن خود بھی کوئی حرکت چھوڑنے کو تیار ہیں؟ گھر کا کوئی بڑا ناراض ہو گیا ہے اور اس حد تک چلا گیا ہے کہ میں نہیں سنتا کسی کی، تو پہلے اس کو راضی کرتے ہیں کہ پہلے اس سے تقاضے کرتے ہیں؟ کیوں جی؟ گھر کا بڑا بالکل ناراض ہے تو میں پہلے اس کی ناراضگی دور کروں گا یا پہلے اس کو فہرست پیش کروں گا کہ یہ مجھے چاہیے، یہ مجھے چاہیے، یہ بھی مجھے چاہیے۔ ہم ناراضگی دور کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کر رہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہے۔ اور وہ واقعتا ناراض ہے۔
اس وقت بین الاقوامی سطح پر امت کی حالت دیکھ لیں یا ہماری پاکستانی قوم کا حال دیکھ لیں۔ ہماری حالت خدا کے راضی ہونے کی علامت ہے؟ کیا ہم اللہ رب العزت کو ناراض سمجھ رہے ہیں اور اس کی ناراضگی دور کرنے کے لیے اپنی کوئی ایک بھی حرکت چھوڑنے کو تیار ہیں؟ میں ایک مثال دیتا ہوں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی قبولیت نہ ہونے کی ایک وجہ بیان فرمائی ہے۔ حدیث مبارکہ ہے، حضورؐ نے فرمایا، ایک آدمی آتا ہے اور بیت اللہ کا غلاف پکڑ کے روتا ہے، گڑگڑاتا ہے، دعائیں مانگتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’مطعمہ حرام ومشربہ حرام وملبسہ حرام فانی یستجاب لہ؟‘‘ کھانا اس کا حرام کا ہے، پینا اس کا حرام کا ہے، کپڑے اس کے حرام کے ہیں، دعا کہاں سے قبول ہو گی؟ دعائیں قبول نہ ہونے کا ایک سبب یہ ہے کہ حلال حرام میں فرق نہیں ہے، نہ کھانے میں، نہ پینے میں، نہ پہننے میں۔
ایک بات اور شامل کر لیں۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے بارے میں جہاں یہ فرمایا کہ ’’وعمل بہ‘‘ قرآن پاک پر عمل کرنا مسلمان کی ذمہ داری ہے تو اس کی ایک علامت بیان کی ہے کہ ’’فاحل حلالہ وحرم حرامہ‘‘ قرآن پاک نے جس کو حرام کہا ہے اس کو حرام سمجھتا ہے؟ اور جس کو حلال کہا ہے اس کو حلال سمجھتا ہے؟ قرآن پاک نے حلال حرام کے دائرے بیان کیے ہیں یا نہیں کیے؟ فرمایا، جو مسلمان قرآن پاک کے حلال حرام کے دائروں کی پرواہ نہیں کرتا اس کا قرآن پاک پہ عمل نہیں ہے۔ اور فرمایا کہ اگر حلال کا اہتمام ہے، خوراک میں، لباس میں، پینے میں، تو دعا کی قبولیت کی توقع کرنی چاہیے۔ اور اگر کھانے پینے اور لباس میں معاملات میں حلال حرام کا اہتمام نہیں ہے ’’فانیٰ یستجاب لہ‘‘ دعا کیسے قبول ہو گی؟ آج ہمارا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ دعا کی قبولیت کی سب سے بنیادی شرط حلال ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، بہت بڑے صحابی رسول ہیں۔ ان کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ بابا جی جو بات کہہ دیتے ہیں وہ اللہ پاک پوری فرما دیتے ہیں۔ مستجاب الدعوات ہیں۔ بعض بندے ایسے ہوتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا، کچھ اللہ کے بندے ایسے ہوتے ہیں جو دیکھنے میں کچھ نہیں لگتے لیکن ’’لو اقسم علی اللہ لابرہ‘‘ اللہ کا نام لے کر اللہ کی قسم اٹھا کر کوئی بات کہہ دیں تو اللہ پاک لاج رکھ لیتے ہیں۔ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بھی ایسا ہی تھا، جو بات کہہ دیتے تھے اللہ پاک پوری کر دیتے تھے۔ ایک آدمی نے پوچھا، یا حضرت، آپ کے بارے میں تجربہ بھی ہے، مشاہدہ بھی ہے، شہرت بھی ہے کہ آپ کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اس کی وجہ؟ سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ اور تو کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی لیکن ایک بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب سے کلمہ پڑھا ہے اس وقت سے لے کر آج تک (یہ درمیان میں کوئی بیس پچیس سال کا فاصلہ بنتا ہے) اس حلق سے ایک لقمہ بھی ایسا نیچے نہیں اترا جس کے بارے میں تسلی نہیں ہے کہ کہاں سے آیا ہے۔ میں نے مثال کے طور پر یہ بات کی ہے۔
اجتماعی اور مجموعی بات میں نے یہ کی ہے کہ کیا اللہ کی ناراضگی کو ہم محسوس کر رہے ہیں کہ اللہ ناراض ہے؟ دل میں بات آ رہی ہے کہ اللہ ناراض ہے؟ اور اللہ کی ناراضگی کے اسباب کا بھی ہمیں کچھ اندازہ ہو رہا ہے کہ کون کون سی حرکتوں سے ناراض ہیں؟ کیا ان میں سے کوئی ایک حرکت بھی چھوڑنے کو ہم تیار ہیں؟ ہمیں اسباب سارے اختیار کرنے چاہئیں لیکن سارا نظام جس کے ہاتھ میں ہے اس کو راضی کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں ناراضگی کے اسباب معلوم کرنے کی توفیق عطا فرمائے، توبہ کی توفیق عطا فرمائے، اپنے دروازے پر جھکنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری توبہ قبول فرما کر ہمارے حالات کی تبدیلی کے فیصلے فرمائے۔

