روزِ محشر ایک قوم کو بھوکا رکھنے کا سوال

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۵ جنوری ۲۰۰۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کے دن حشر کے میدان میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی، ایک بندہ پیش ہوگا، اس پر فردِ جرم پیش کی جائے اور جو جو الزامات ہوں گے وہ بیان کیے جائیں گے کہ اس نے یہ یہ کام کیے ہیں۔ ایک بات اللہ تعالیٰ خود فرمائیں گے کہ اے میرے بندے! کیا تجھے یاد ہے کہ فلاں وقت میں بھوکا تھا، میں نے تم سے کھانا مانگا تھا لیکن تم نے مجھے کھانا نہیں دیا۔ وہ شخص کہے گا یا اللہ! آپ اور بھوک؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہاں، تمہارے پڑوس میں فلاں شخص بھوکا تھا، تم نے اس کی پروا نہیں کی، تم اسے کھلاتے تو دراصل مجھے کھلاتے۔ اسی طرح فرمائیں گے کہ فلاں وقت میں بے پردہ ہو گیا تھا، میں نے تم سے لباس مانگا تھا لیکن تم نے مجھے لباس نہیں دیا۔ وہ شخص کہے گا کہ یا االلہ! آپ اور بے پردگی؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہاں، تمہارے پڑوس میں فلاں شخص ننگا تھا، تم اسے لباس دیتے تو دراصل مجھے دیتے۔

ہم خدا کے گھر میں بیٹھے ہیں، ذرا کچھ دیر کے لیے سوچیے کہ ایک شخص بھوکا ہے اور میری غفلت سے وہ بھوکا رہ گیا ہے، اللہ رب العزت قیامت کے دن اس کے متعلق مجھ سے پوچھیں گے کہ تیرے پڑوس میں فلاں شخص بھوکا تھا اور تیری غفلت کی وجہ سے بھوکا رہ گیا تھا۔ تم نے اسے بھوکا نہیں رکھا، مجھے بھوکا رکھا تھا۔ اور جن لوگوں کے پڑوس میں ایک پوری قوم کو بھوکا مارنے کا پروگرام بنا لیا گیا ہو، کیا ان سے کوئی سوال نہیں ہوگا؟ آج افغانستان کی پوری قوم کو بین الاقوامی بدمعاشوں نے بھوکا رکھنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ وہ ہمارے پڑوسی بھی ہیں، ہمارے مسلمان بھائی بھی ہیں، ہمارے مشکل وقت کے ساتھی بھی ہیں۔ پوری دنیائے کفر متحد ہو گئی ہے کہ ان کو بھوکا مار دو، ان کے ساتھ لین دین مت کرو، ان کے جہاز ملک سے باہر نہ جائیں اور کوئی جہاز باہر سے اندر نہ آئے، ان کے ساتھ کوئی تجارت نہ کرے اور باہر کی دنیا سے کوئی چیز وہاں نہ پہنچے۔

میں صرف اتنی بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اپنے آپ سے، آپ حضرات سے، پوری قوم سے اور ہمارے حکمرانوں سے بھی، کہ اللہ تعالیٰ اگر ایک آدمی کے بھوکا رہ جانے کی وجہ سے ہم سے پوچھیں گے، ایک پوری قوم اگر ہماری غفلت اور ہماری بے حمیتی کی وجہ سے بھوکی رہ گئی تو کیا ہمارے گریبان پر قیامت کے دن خدا کا ہاتھ نہیں ہوگا؟ اس پر غور فرما لیجیے۔ آج ان بیچاروں کو صرف اس جرم کی سزا مل رہی ہے کہ وہ خدا کا نام بھی لیتے ہیں اور خدائی احکامات کو اپنی زندگیوں میں نافذ بھی کرتے ہیں۔ ہم میں اور ان میں یہی فرق ہے کہ قرآن ہم بھی پڑھتے ہیں، ایمان ہمارا بھی ہے، دعوے ہم بھی کرتے ہیں، لیکن وہ ان سب کے ساتھ ساتھ عمل بھی کرتے ہیں۔

آج یہ ہماری شرعی ذمہ داری ہے جس کے بارے میں حشر کے میدان میں ہم سے پوچھا جائے گا، پڑوسی ہونے کے حوالے سے، مسلمان ہونے کے حوالے سے، اور ان پر ہونے والے اس عالمی ظلم کے حوالے سے، سب سے پہلے ہم قیامت کے دن مسئول کے طور پر کھڑے ہوں گے۔ اس لیے اپنے افغان بھائیوں کی مدد کیجیے، جو کچھ بھی دے سکتے ہیں، دیں۔ ان کے نمائندے لاہور میں بھی ہیں، اسلام آباد میں بھی ہیں، اس امید پر کہ ہمارے پاکستانی بھائی ہماری جو مدد کریں اسے ہم براہ راست وصول کریں اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو۔ آپ جو کچھ بھی دے سکتے ہیں، نقدی دے سکتے ہیں، قربانی کا حصہ بجھوا سکتے ہیں، وہاں قربانی کر سکتے ہیں، اپنے گھر کے فالتو کپڑے بجھوا سکتے ہیں، گھر کے فالتو برتن دے سکتے ہیں، لحاف دے سکتے ہیں، خیمے دے سکتے ہیں، ان کا پتہ معلوم کر کے وہاں پہنچائیں اور قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں سرخرو ہوں۔ اللہ تعالیٰ مجھے، آپ کو اور ساری قوم کو اس کی توفیق دے۔ آمین۔

2016ء سے
Flag Counter