علماء کرام اور جدوجہدِ آزادی

   
جامعہ اسلامیہ محمدیہ، فیصل آباد
۶ اگست ۲۰۲۶ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اگست کے دوران ملک بھر میں قومی آزادی اور قیامِ پاکستان کے حوالہ سے عمومی اور خصوصی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے قومی آزادی کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ کہ قوموں کی آزادی اور آزاد ریاست کا قیام صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ دین کا تقاضہ اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں بھی شامل ہے، جیسا کہ قرآن کریم نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کی جدوجہدِ آزادی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام جب اپنی دعوت لے کر فرعون کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت کے بعد سب سے پہلا تقاضہ یہ کیا کہ ’’فارسل معنا بنی اسرآئیل ولاتعذبہم‘‘ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے اپنے وطن واپس جانے دو اور غلامی کے عذاب سے نجات دو۔ اس پر فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طعنہ دیا کہ تم ہمارے گھر میں پلے بڑھے ہو اور جاتے ہوئے ایک بندہ بھی قتل کر گئے تھے، اب کیسے ہمارے سامنے آگئے ہو؟ اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا تمہارا ہم پر یہی احسان ہے کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے؟

اس کا واضح مطلب ہے کہ غلامی عذاب ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا اور قوم کو نجات دلانا بھی حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے مقاصدِ بعثت میں شامل ہے۔ اور جب انبیاء کرام علیہم السلام کے فرائض میں شامل ہے تو ان کے وارث علماء کرام کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قوم کی آزادی کے حصول اور تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔

دوسری بات یہ عرض کروں گا کہ ہمارے ہاں برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں کی آمد اور ملک پر ان کے قبضہ کے خلاف دو صدیوں تک جو جنگِ آزادی لڑی گئی ہے، علماء اسلام نے اسی جذبہ کے ساتھ اس میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ اور جس طرح انہوں نے آزادئ وطن کے لیے جدوجہد میں نمایاں حصہ لیا ہے اسی طرح قومی خودمختاری اور آزادی کے تحفظ کے لیے ان کا میدان میں رہنا ضروری ہے اور علماء کرام کو اس میدان میں متحرک رہنا چاہیے۔

تیسری بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں آزادی کی جنگ کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف جدوجہد سے ہوا تھا جو تجارت کے نام سے اس علاقہ میں آئی تھی اور آہستہ آہستہ یہاں کے سیاسی و انتظامی معاملات میں دخل اندازی شروع کر دی تھی، بالکل اسی طرح جیسے آج آئی ایم ایف ملکی معاملات اور قومی امور کو گرفت میں لینے کے لیے آگے بڑھ رہی ہے۔

اس کے خلاف سب سے پہلی مزاحمت ۱۷۵۷ء میں بنگال کے نواب سراج الدولہ شہیدؒ نے کی تھی اور دوسری بڑی مزاحمت ۱۸۰۱ء میں میسور کے سلطان ٹیپو شہیدؒ نے کی تھی۔ یہ دونوں مزاحمتیں ریاست کی طرف سے تھیں کہ نواب سراج الدولہؒ اور سلطان شیپوؒ دونوں اپنے علاقے کے حکمران تھے اور انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے استعماری عزائم کے خلاف جنگ لڑ کر اپنا فرض ادا کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ علماء کرام اور دینی حلقوں نے ان سے تعاون کیا تھا جبکہ جنگ کی قیادت ریاست کے حکمرانوں نے کی تھی۔ مگر اس کے بعد ۱۹۲۱ء کے لگ بھگ دہلی کے مغل حکمران شاہ عالم ثانی نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے مصالحت کر کے دہلی کا انتظامی کنٹرول اس کے حوالے کر دیا تو علماء کرام کو میدان میں آنا پڑا کیونکہ ریاستی حکومت بیرونی مداخلت کے مقابلہ سرنڈر ہو گئی تھی اور اس نے غیر ملکی تسلط کو قبول کر لیا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد علماء کرام آگے بڑھے اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے جانشین و فرزند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے متحدہ ہندوستان کو ’’دارالحرب‘‘ قرار دے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے دیا جس پر ملک کے مختلف حصوں میں علماء کرام میدان میں آئے اور آزادی کی جنگیں لڑیں۔ بالاکوٹ کا معرکہ، بنگال میں حاجی شریعت اللہؒ کی جنگِ آزادی، سرحد میں حاجی صاحب ترنگ زئیؒ اور فقیر ایپیؒ کی جنگ، سندھ میں پیر پگارا شہیدؒ کی مسلح جدوجہد، پنجاب میں سردار احمد خان کھرل شہیدؒ کا معرکہ اور ۱۸۵۷ء کی ملک گیر جنگِ آزادی اسی کا حصہ تھے۔

چوتھی بات یہ عرض کرتا ہوں کہ آزادی کی یہ جنگ دو مراحل میں لڑی گئی تھی۔ ایک مسلح جہاد کا دور تھا جس کا تذکرہ میں نے کیا ہے اور یہ حضرت شیخ الہندؒ کی تحریک ریشمی رومال تک تسلسل کے ساتھ جاری رہی، جبکہ اس کے بعد اس نے سیاسی جنگ کی صورت اختیار کر لی اور قومی آزادی کے اسی مقصد کے لیے ہتھیار اٹھانے کی بجائے سٹریٹ پاور اور سول سوسائٹی کے دائرے میں سیاسی جدوجہد کی گئی۔ جس کا آغاز تحریکِ خلافت سے ہوا جو مولانا محمد علی جوہرؒ کی قیادت میں آگے بڑھی اور اس نے پورے برصغیر میں تحریکِ آزادی کو پرامن سیاسی جدوجہد کا رخ دیا اور اس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور قوتوں نے کردار ادا کیا۔ جس کے نتیجے میں ۱۹۴۷ء میں نہ صرف انگریز حکمرانوں نے ملک کا اقتدار چھوڑ دیا بلکہ پاکستان کے نام سے مسلمانوں کی مستقل آزاد ریاست وجود میں آئی اور اس حوالہ سے ہم ۱۴ اگست کو ہر سال یومِ آزادی مناتے ہیں۔

پانچویں اور آخری بات یہ گزارش کروں گا کہ حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ کا وہ فتویٰ جس کی بنیاد پر یہ ساری جدوجہد ہوئی وہ ابھی ادھورا ہے اور میری علماء کرام سے گزارش ہوتی ہے کہ وہ اس کا پھر سے مطالعہ کریں۔ ’’فتاویٰ عزیزی‘‘ ملک کے اکثر دینی مدارس کی لائبریری میں موجود ہے اور اس میں یہ فتویٰ شامل ہے جسے ازسرنو پڑھنے کی ضرورت دن بدن اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس میں حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ نے دو باتوں کو بنیاد بنایا ہے۔ ایک یہ کہ اقتدار پر غیر مسلموں کا قبضہ ہو گیا ہے اور دوسرا یہ کہ انہوں نے اپنے قوانین نافذ کرنا شروع کر دیے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل ملک کا قانون و نظام ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ کی صورت میں تھا، جسے پہلے معطل اور پھر منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اس لیے جنگِ آزادی کا مقصد غیر ملکی حکمرانوں کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کے ساتھ ان کے نافذ کردہ نظام و قانون سے نجات اور حسبِ سابق شرعی نظام کی بحالی بھی تھا۔ ان میں سے ایک مقصد پورا ہوا ہے کہ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو ہم نے انگریز حکمرانوں سے آزادی حاصل کر لی، مگر قانون و نظام ابھی تک انہی کا چلا آ رہا ہے اور تمام تر کوششوں کے باوجود ہم ابھی تک ملک کے نظام و قانون کو شریعت اسلامیہ کے دائرے میں نہیں لا سکے۔ حالانکہ تحریکِ پاکستان میں ہم نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ ہم مسلمانوں کے لیے پاکستان کے نام سے الگ ریاست اسلام کے نام اور اسلام کے لیے حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس لیے آج تحریکِ آزادی کی عظیم قربانیوں اور مقاصد کا تقاضہ ہے کہ علماء کرام ایک بار پھر میدان میں آئیں اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں دستور کے مطابق اسلام کے نظام و قوانین کی عملداری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اللہ پاک ہم سب کو توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

2016ء سے
Flag Counter