ملتِ اسلامیہ کی پستی اور اس کے اسباب

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۲۳ نومبر ۲۰۰۱ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

روایت ہے مؤطا امام مالک کی، راوی ہیں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، اور ارشادِ گرامی ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ فرمایا کہ یاد رکھو! ’’ما نقض قوم العہد الا سلط اللہ علیہم عدوا‘‘ جو قوم بھی عہد توڑ دے، ایک قوم نے وعدہ کیا ہو اور وہ یہ وعدہ توڑ دے، اُس پر اللہ کی طرف سے دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔

ذرا تھوڑا سا توقف کر کے غور فرمائیے کہ کیا ہم نے بھی بحیثیت قوم کوئی وعدہ کیا تھا یا نہیں؟ جوانوں کو تو شاید یاد نہیں ہوگا، بوڑھوں کو یاد ہوگا۔ ہم نے بھی بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ سے ایک وعدہ کیا تھا، ایک ہاتھ میں قرآن شریف تھا اور دوسرے ہاتھ میں بخاری شریف تھی، اور ہم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ یااللہ! تو ملک دے دے، تیرا قانون ہم چلائیں گے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے ہماری دعا قبول فرمائی یا نہیں؟ اور کیا ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا؟

گزشتہ پچاس سال میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کے ساتھ ہم نے کیا معاملہ کیا؟ اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’سلط اللہ علیہم عدوا‘‘ کہ ایسی قوم پر دشمن مسلط ہوگا۔ کیا ہماری قوم پر دشمن مسلط ہونے میں کوئی کسر باقی رہ گئی ہے؟ جب ہم اپنے پورے جذبے اور جوش کے ساتھ پوری قوم کے سامنے کھڑے ہو کر یہ کہتے ہیں کہ جناب ہمیں یہ فیصلہ کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار ہی نہیں تھا، ہمارے پاس کوئی چوائس ہی نہیں تھی، فیصلہ ہمارے ہاتھ میں تھا ہی نہیں، تو آپ ہی بتائیے کہ دشمن اور کیسے مسلط ہوتا ہے؟ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ہماری قوم کا جرم بھی سامنے ہے اور اس کی سزا بھی۔ اور یہ جو سزا شروع ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، یہ تو ابھی ابتدا ہے، ’’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘‘۔

آج دیکھیے کہ فلسطین کا مسئلہ کتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اس نے تمام عربوں کو جکڑا ہوا ہے، پوری دنیائے اسلام کو جکڑا ہوا ہے۔ اس کی تفصیل بہت لمبی ہے لیکن مختصراً‌ آپ کے سامنے عرض کر دیتا ہوں کہ آج سے ۸۰ سال پہلے فلسطین میں ایک بھی یہودی خاندان آباد نہیں تھا، آج جسے یہ اسرائیل کہتے ہیں۔ جب یہودیوں نے جگہ خریدنی شروع کی اور فلسطینیوں نے بیچنا شروع کی تو علماء کرام نے روکا کہ بھئی یہودیوں پر فلسطین کی زمین مت بیچو۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ علماء نے فتویٰ دیا اور منع کیا کہ بھئی یہودیوں کو فلسطین کی زمین مت بیچو، ان کا پروگرام یہ ہے کہ یہ یہاں پر اپنی ریاست بنائیں گے اور پھر بیت المقدس پر قبضہ کر لیں گے۔ علماء کے فتویٰ کا فائدہ فلسطینیوں کو صرف یہ ہوا کہ زمینوں کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ یہودیوں نے دو گنا قیمتیں دینی شروع کر دیں، تین گنا قیمتیں دینی شروع کر دیں، مولوی چیختے چلاتے رہ گئے کہ خدا کے لیے یہ زمینیں مت بیچو۔ ہمارے ہاں ہندوستان سے علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کی قیادت میں ایک وفد گیا، فلسطینیوں کو سمجھانے کے لیے کہ خدا کے واسطے یہودیوں کو زمینیں مت بیچو۔ انہوں نے کہا کہ میری زمین ہے میں بیچوں یا نہ بیچوں، مولوی کا اس میں کیا کام ہے؟ یہ مولوی بس فتوے دینے میں لگے ہوئے ہیں۔

آج آپ نے اس کا نتیجہ دیکھ لیا؟ یہودیوں نے مہنگے داموں وہاں زمینیں خریدیں، آج یہودیوں کے قبضے میں جو زمین ہے اس میں سے چالیس فیصد زمین ان کی خریدی ہوئی ہے۔ یہودی وہاں آکر آباد ہوئے، منظم ہوئے، ریاست بنائی، اس کے بعد انہوں نے عربوں کو مارا پیٹا، ان کے علاقوں پر قبضہ کیا، بیت المقدس پر قبضہ کیا۔ یوں آج اسرائیل پورے عرب کا سب سے بڑا غنڈہ بن کر بیٹھا ہوا ہے، اور جو اس کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس کے سینے میں خنجر گھونپتا ہے۔ کیا آپ حضرات کو یہ بات سمجھ میں آئی ہے؟ ’’ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم‘‘ (الشوریٰ ۳۰) جو مصیبت بھی تمہارے سامنے آتی ہے، تمہاری کسی حرکت کا نتیجہ ہوتی ہے، تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے، تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔

ہماری مثال بھی آپ کے سامنے ہے۔ ہم آج جب یہ کہتے ہیں کہ ہم مجبور تھے۔ کیوں جی ہماری آخری دلیل یہی ہے نا؟ ہماری آخری دلیل یہی ہے کہ ہم ساتھ دینے پر بے بس ہیں، مجبور ہیں، ساتھ نہ دیتے تو پتہ نہیں کیا ہوتا۔ ذرا اِس بات پر غور فرمائیے، جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم مجبور تھے، مجبور ہو کر ہم نے اپنے دوست ذبح کیے اور ذبح کروائے، اپنے بھائی مروائے اور خود اپنے ہاتھوں مارے، ایک اسلامی ریاست کا تیاپانچہ کر دیا، جن کے متعلق ہم کہتے ہیں کہ کابل میں گزشتہ پچاس سال میں پہلی مرتبہ پاکستان دوست حکومت آئی تھی، اس دوست حکومت کو کس کے ہاتھوں کس نے مروایا؟ دلیل ہماری یہ ہے کہ ہم بے بس تھے، کوئی راستہ نہیں تھا، مجبور تھے، کوئی اور چارہ نہیں تھا۔

ہم مجبور کیوں تھے، جبر کیا تھا؟ ذرا اِس کے ایک سبب پر غور فرمائیے، وہ یہ ہے کہ ہم نے پیسے لے کر کھائے ہوئے ہیں، ہم ان کے مقروض ہیں۔ کیا آج ہماری مجبوری کی سب سے بڑی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم نے گزشتہ پچاس سال میں قرضے لے لے کر کھائے ہیں، اور آج ان قرضوں نے ہماری معیشت ہی نہیں، سیاست ہی نہیں بلکہ ہماری غیرت کو بھی جکڑ رکھا ہے۔ یہ قرضے لیے کس نے، کھائے کس نے، اور کس کس کے بینک اکاؤنٹس میں ہیں؟

ہم تو شروع دن سے یہ کہتے رہے کہ خدا کے لیے خلفائے راشدین کا طرزِ حکومت اپناؤ، سود کے نظام پر مت چلو، مغربی نظامِ معیشت کی پیروی مت کرو، یہ قرضے اور سود تمہیں تباہ کر دیں گے۔ الحمد للہ تیس سال سے تو یہ بات میں خود یہاں منبرِ رسول پر بیٹھ کر کہہ رہا ہوں، مجھ سے پہلے بزرگ بھی یہی بات کہتے رہے ہیں کہ یہ سود کے قرضے تمہیں برباد کر کے رکھ دیں گے۔ کیا انہوں نے ہمیں برباد کر دیا ہے یا نہیں؟ کیا اس سود کی معیشت نے ہمارا بیڑا غرق نہیں کر دیا؟ کیا ان قرضوں نے ہمیں ہمارے دشمن کے ہاتھوں غلام بنا کر نہیں رکھ دیا؟ خدا جانے سوئس بینکوں میں کس کس کے نام پر کون کون سے اکاؤنٹس بنے ہوئے ہیں، ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ یہ قرضے کس کس کی ہوس کی بھینٹ چڑھے ہیں۔ لیکن اس کی سزا کون بھگت رہا ہے؟ اس کی سزا ہماری قوم اور ہمارا ملک بھگت رہا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ارشادِ گرامی کا یہی مطلب ہے ’’ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم‘‘ کہ مصیبتیں آتی ہیں تو اپنی حرکتوں پر نظر ڈالو، میں نے تو ایک نظام بنا دیا ہے اور اسے چلانے کا طریقہ بھی بتلا دیا ہے، جہاں اس نظام کی خلاف ورزی کرو گے تو اس کے نتائج بھی بھگتو گے۔ میرے پیغمبر تمہیں یہ بتانے کے لیے آتے رہے ہیں کہ یہ کام کرو اور یہ نہ کرو، فلاں عمل فائدہ مند ہے اور فلاں نقصان دہ ہے۔ آج عالمِ اسلام عمومی طور پر اور ہم بالخصوص جس بحران سے دوچار ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں غیرت نصیب فرما دیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج غیرت نام کی کوئی چیز ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اعمال اور اپنی کارگزاریوں کا محاسبہ کرنے کی توفیق عطا فرما دے۔

ہمارے ہاں ایک تاثر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اگر طالبان حق پر تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کیوں نہیں کی، انہیں پسپائی کیوں اختیار کرنا پڑی؟ لمبی تفصیل کا وقت نہیں ہے لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی منشا اور حکمت ہے۔

  • کیا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حق پر تھے یا نہیں؟ اگر وہ ذبح ہوگئے تھے تو کیا اُن کا موقف غلط ثابت ہوگیا؟ حضرت امام حسینؓ اپنے بچوں اور خاندان سمیت میدانِ کربلا میں شہید ہوگئے تھے، کیا شکست کھا جانے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کا موقف غلط تھا اور وہ حق پر نہیں تھے؟ کیا سلطان ٹیپوؒ حق پر تھا یا نہیں؟ اور کیا اسے فتح ہوئی تھی یا شکست؟
  • کیا سلطان ٹیپو کی شکست سے اُس کا مشن اور اس کا موقف غلط ثابت ہو جاتا ہے؟ وہ بھی ایک اسلامی ریاست کا سربراہ تھا، وہ خود بھی شہید ہوگیا تھا اور اس کی اسلامی ریاست بھی ختم ہو گئی تھی۔ کیا ہم یہ کہیں گے کہ چونکہ سلطان ٹیپوؒ شہید ہو گیا تھا اور محصور کی اسلامی ریاست ختم ہو گئی تھی اس لیے وہ حق پر نہیں تھا۔
  • کیا شہدائے بالاکوٹ حق پر تھے یا نہیں؟ وہ بھی تو ذبح ہوگئے تھے۔ کیا ان کے ذبح ہونے سے، ان کے شکست کھانے سے ان کی جدوجہد غلط ثابت ہوتی ہے؟

اس سے بھی اگلی بات یہ کہ آپ وقتی واقعات پر بھی نظر مت رکھیے، اس لیے کہ سلطان ٹیپوؒ کی اور شہدائے بالاکوٹؒ کی جدوجہد آخر کار رنگ لائی تھی اور انگریزوں کو یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ یہ قوم ان کے پاؤں برصغیر میں کبھی ٹکنے نہیں دے گی، اور بالآخر وہ یہاں سے رخصت ہوئے۔ یہ کس کا موقف تھا کہ انگریز برصغیر سے نکل جائے؟ اور کیا اس موقف نے یہ جنگ بالآخر جیتی یا نہیں؟ تحریکوں میں، آزادی کی جدوجہد میں ایسی پسپائیاں ہوتی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب سلطان ٹیپو کی ریاست تھی، تب بھی اس کا موقف ٹھیک تھا، اور جب اس کی ریاست ختم ہو گئی تھی، تب بھی اس کا موقف ٹھیک تھا۔ جنگوں میں فتح و شکست سے موقف کا تعلق نہیں ہوتا۔ ان شاء اللہ العزیز جس طرح برطانیہ کے انگریز یہاں نہیں رہے تھے، امریکہ کے انگریز بھی نہیں رہیں گے، یہ ہمارے ایمان کا موقف ہے، یہ اسلام کا موقف ہے۔

2016ء سے
Flag Counter