السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟
بارشوں اور سیلاب سے متاثرین کی صورت حال انتہائی پریشان کن اور اضطراب انگیز ہے۔ یہ وقت بحث و مباحثہ کا نہیں، متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے جو کچھ بس میں ہو، کر گزرنے کا ہے۔ عربی ادب کی ایک کہاوت ہے کہ ایک شخص نہر میں ڈوب رہا تھا اور ایک شخص اس کو کنارے پر کھڑا ہو کر احتیاط نہ کرنے پر ملامت کر رہا تھا۔ ڈوبنے والے نے آواز دی: ’’میرے بھائی! پہلے مجھے ڈوبنے سے بچاؤ، پھر جتنی چاہے ملامت کر لینا۔‘‘
آج ہمیں یہی صورت حال درپیش ہے، ملک بھر میں مساجد کے ائمہ، خطباء اور منتظمین کو سب سے زیادہ اس کام کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور باہمی رابطہ و مشاورت کے ساتھ کوئی علاقائی مرکز قائم کر کے منظم اور مربوط محنت کرنی چاہیے۔
گوجرانوالہ میں مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ کو مرکز بنا کر جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی نے سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے اور مولانا مفتی نعیم اللہ، مولانا داؤد احمد، مولانا حافظ گلزار احمد آزاد، مولانا محمد ریاض خان سواتی اور مولانا حافظ فضل الہادی کی نگرانی میں کام شروع کیا ہے۔ سب احباب سے گزارش ہے کہ وہ اس کارِخیر میں شریک ہوں، بالخصوص مساجد کے ائمہ، خطباء اور منتظمین سے درخواست ہے کہ وہ باقی سب کاموں پر اسے ترجیح دیتے ہوئے سرگرم ہو جائیں تاکہ ہم اپنے متاثرہ اور بے یار و مددگار بھائیوں کی امداد و بحالی میں کچھ نہ کچھ حصہ ڈال سکیں۔
شکریہ، والسلام

