(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
صدرِ مملکت کا خطاب آپ نے بھی سنا اور پڑھا، میں نے بھی۔ لمبی گفتگو کا موقع نہیں ہے، میں صرف دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں:
(۱) ایک تو مدارس کے حوالے سے انہوں نے یہ بات بہت اچھی کہی ہے جو کہ باعثِ خوشی ہے کہ ’’ہم مدارس کو سرکاری تحویل میں لے کر خراب نہیں کرنا چاہتے‘‘۔ یعنی آپ کی تحویل میں جو چیزیں جاتی ہیں وہ خراب ہی ہوتی ہیں۔ اس اعتراف پر میں صدر صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی بات پر قائم رکھے۔
مدارس کے نصاب میں تبدیلی کے حوالے سے میں نے پہلے بھی کئی بار عرض کیا ہے، اور اب چونکہ آرڈیننس آنے والا ہے تو پھر یہ واضح کر دیتا ہوں کہ دو باتیں الگ الگ ہیں:
- ایک ہے دینی مدارس میں ضروریات کی بات، تاریخ کا مطالعہ، انگریزی زبان، کمپیوٹر کی تعلیم وغیرہ۔ اس کے لیے تو ہم خود مدارس سے باتیں کرتے ہیں اور انہیں یہ چیزیں اپنے نصاب میں شامل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اب تو کئی مدارس نے ان ضروری علوم کو اپنے نصاب میں شامل بھی کر لیا ہے، جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔
- لیکن جناب ہم ایک بات کی حمایت نہیں کریں گے۔ ایسی تبدیلی ہم نہیں کریں گے جس سے مولوی، مولوی نہ رہے اور اس کا فنکشن ہی تبدیل ہو جائے۔ انہوں نے پہلے بھی یہ بات کہی تھی کہ دینی مدارس میں سائنس پڑھائی جائے۔ اگر انجینئرنگ کالج میں میڈیکل سائنس نہیں پڑھائی جاتی، لاء کالج میں انجینئرنگ نہیں پڑھائی جاتی، اور میڈیکل کالج میں لاء نہیں پڑھایا جاتا، تو کیا مولوی اور خطیب کو سائنسدان بنانا ضروری ہے؟ زندگی کے مختلف شعبوں میں تقسیم کا نظام قائم رکھیے اور اجتماعی دھارے کے نام پر مولویوں کو سائنسدان بنانے کی کوشش نہ کریں کہ وہ سائنسدان تو نہ بن سکیں گے اور مولوی بھی نہ رہیں گے۔ براہِ کرم عقل اور دانش کی بات کریں، جو بات آپ ٹھیک کریں گے ہم اس کی حمایت کریں گے، اور جو بات ٹھیک نہیں ہو گی اس سے ہم اختلاف بھی کریں گے اور اسے قبول بھی نہیں کریں گے۔
(۲) دوسرا انہوں نے بہت سی تنظیموں پر پابندی لگائی ہے، میں نے پرسوں بھی اخبارات کے ایک فورم میں اس پر بات کی تھی۔ کہتے ہیں کہ جناب یہ ’’لشکرِ طیبہ‘‘ اور ’’جیش محمد‘‘ وغیرہ دہشت گرد ہیں۔ ایک چھوٹے سے سوال کی اجازت ہے؟ اِن کو ہتھیار چلانا سکھایا کس نے ہے؟ جن کیمپوں میں انہوں نے ٹریننگ لی تھی وہ سب آپ کی سرپرستی میں چلتے رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا پڑا ہے کہ جب یہ ٹریننگ لے کر روس کے خلاف لڑ رہے تھے تب یہ مجاہد تھے، اب یہی لوگ امریکہ اور انڈیا کے ظلم کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں تو دہشت گرد ہیں۔ اگر یہ دہشت گرد ہیں تو ان کو ٹریننگ دینے والے اور ان کو ہتھیار مہیا کرنے والے ان سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ اگر دہشت گردوں پر پابندی لگا رہے ہیں تو ان پر بھی پابندی لگائیں جنہوں نے یہ دہشت گرد بنائے ہیں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ بھٹو صاحب نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگائی تھی اور سپریم کورٹ میں ریفرنس پیش کیا تھا اور صفائی کا موقع دیا تھا۔ اس لیے آپ جس تنظیم پر بھی پابندی لگائیں آپ کا حق ہے، لیکن سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کریں اور ان تنظیموں کو اپنی صفائی کا موقع دیں۔ لیکن امریکی طریقہ کار نہ اپنائیں کہ ’’جو ہم چاہیں گے کریں گے، ہمارا کہنا ہی دلیل ہے اور ہمارا کرنا ہی ثبوت ہے‘‘۔ یہ یکطرفہ کاروائی اور ون مین شو کو ہم قبول نہیں کرتے۔ دلیل کے ساتھ اور انصاف کی بات کریں، قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے جو قدم بھی آپ اٹھائیں گے ہم اس کی حمایت کریں گے۔

