(ماہانہ فکری نشست سے خطاب کا خلاصہ)
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ پرسوں سات ستمبر کو ملک بھر میں ’’یومِ ختمِ نبوت‘‘ منایا گیا ہے۔ ہر سال اس موقع پر اجتماعات ہوتے ہیں، ریلیاں نکالی جاتی ہیں، سات ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کے تاریخی فیصلے کی یاد تازہ کی جاتی ہے اور فیصلہ کرنے والے قائدین اور طبقات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت کے مطالبات اور تقاضوں کو دہرایا جاتا ہے۔
مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزی تسلط کے ماحول میں جب نبوت کا اعلان کیا تو سب سے پہلا کام علماء کرام کا تھا جو انہوں نے بخوبی سرانجام دیا اور تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام نے علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ اور مولانا مظہر علی اظہرؒ کی سرکردگی میں نئی نبوت اور نئی وحی کے دعویٰ اور دیگر کفریہ عقائد کے باعث مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہوئے ملت اسلامیہ سے الگ ایک نیا مذہب اور امت قرار دیا اور پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہو گئی۔
دوسرے مرحلہ میں جدید فکر و دانش اور تعلیمات کے حاملین کی طرف سے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ نے اسی موقف کا اعلان کر کے اسے قدیم اور جدید دونوں طبقوں کا متفقہ موقف و عقیدہ قرار دیا اور اس وقت کی انگریزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کرنے کی بجائے ایک الگ اور غیر مسلم کمیونٹی کا درجہ دیا جائے۔
تیسرا مرحلہ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں آباد قادیانیوں کی سیاسی اور معاشرتی حیثیت متعین کرنے کا تھا جس پر تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام ایک بار پھر اکٹھے ہوئے اور مولانا سید ابوالحسنات قادریؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا سید محمد داؤد غزنویؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا مفتی جعفر حسینؒ اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے حکومت سے متفقہ مطالبہ کیا کہ پاکستان میں قادیانیوں کو مسلمانوں کے ساتھ شمار کرنے کی بجائے دستور و قانون میں ایک الگ اور غیر مسلم اقلیت کا درجہ دیا جائے۔ جس پر ۱۹۵۳ء میں ملک گیر تحریک چلی، ہزاروں افراد نے جامِ شہادت نوش کیا اور ہزاروں جیلوں میں گئے جن میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کے علاوہ تاجر برادری، وکلاء برادری، سیاسی جماعتوں کے راہنما اور دیگر طبقات بھی شامل تھے جس سے اس مطالبہ نے قومی مطالبہ اور تقاضہ کی حیثیت اختیار کر لی ۔ یہ تحریک مسلسل جاری رہی اور ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ نے متفقہ دستوری ترامیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیتوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔
اس کے ساتھ ہی ہر سطح کی عدالتوں میں اس قسم کے مقدمات زیربحث آتے رہے اور بالآخر سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی جس سے بظاہر یہ تحریک اپنے منطقی نتیجہ تک پہنچ گئی مگر قادیانیوں نے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور
- ایک طرف ملک کے اندر اس فیصلہ پر عملدرآمد کے ہر مرحلہ کا بائیکاٹ کیا، جیسا کہ مردم شماری میں خود کو غیر مسلم شمار کرنے سے انکار کے علاوہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قادیانیوں کے لیے مخصوص نشستوں کے الیکشن کا بھی بائیکاٹ کیا، جو اَب تک جاری ہے اور پارلیمنٹ اور عدالتِ عظمیٰ کے ان فیصلوں پر عملدرآمد میں مسلسل رکاوٹ ہے۔
- جبکہ دوسری طرف قادیانیوں نے بین الاقوامی اداروں کا رخ کیا اور پاکستان میں قادیانیت کے بارے میں ہونے والے فیصلوں اور قوانین کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معاہدات کی خلاف ورزی قرار دے کر اپنی مظلومیت اور محرومی کا ڈھنڈورا پیٹا جس پر بہت سے بین الاقوامی فورم اور لابیاں ان کی حمایت میں آ گئے اور مختلف بین الاقوامی اداروں اور فورموں میں یہ بحث اب تک جاری ہے اور اس کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
چنانچہ وہ علمی، قانونی اور سیاسی کشمکش جو اس سے قبل ملک کے اندر عوامی جلسوں، منتخب اداروں، عدالتوں اور فورموں پر ایک صدی جاری تھی، اس فیصلہ کے بعد وہ عالمی اداروں، بین الاقوامی معاہدات اور پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کا عنوان بن گئی۔ آج کی صورت حال یہ ہے کہ علمی مباحثوں، عوامی اجتماعات، قانونی و دستوری اداروں اور سیاسی ماحول میں تو علماء کرام، دینی و سیاسی جماعتوں، وکلاء اور تاجر برادری کے فورموں اور رائے عامہ کے محاذ پر تو یہ فیصلہ متفقہ قومی موقف کی حیثیت رکھتا ہے اور اس پر عملدرآمد کے مطالبات کیے جا رہے ہیں مگر بین الاقوامی اداروں اور حلقوں میں اس فیصلہ کے خلاف جاری کارروائیوں کا سامنا کرنے کا ماحول موجود نہیں ہے جس سے بیرونی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اور تحریک ختم نبوت کے ایک کارکن کے طور پر میری سب حلقوں سے مؤدبانہ درخواست چلی آ رہی ہے کہ اس محاذ کو قادیانیوں کے لیے خالی چھوڑ دینا ٹھیک نہیں ہے۔
قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ قومی فیصلہ ہے جس کا دفاع کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے اور ہم نے ایک موقع پر ایسا کیا بھی ہے کہ جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو حکومت پاکستان نے اس میں وفد بھیجا جس پر اکابر علماء کرام شامل تھے جنہوں نے جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں پاکستان کا موقف پیش کیا جس سے فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوا۔ اس کے علاوہ مجھے یاد نہیں کہ کسی بین الاقوامی فورم میں اس مسئلہ پر پاکستان کی طرف سے کوئی سرکاری وفد گیا ہو اور پاکستان کا موقف پیش کرنے کی زحمت کی گئی ہو۔
اس کے ساتھ ہی ناموس رسالتؐ کے تحفظ اور گستاخِ رسول کے لیے موت کی سزا کا قانون بھی بین الاقوامی اداروں میں اسی طرح زیربحث ہے اور ان دونوں قوانین کو ختم کرنے کا حکومت پاکستان سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے بلکہ اس کے لیے بیرونی دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اس پس منظر میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے دونوں قوانین کے حوالہ سے بین الاقوامی اداروں میں ہونے والی بحث میں ہمیں اسی طرح شریک ہونا چاہیے جیسے جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ میں ہم پیش ہوئے تھے اور اپنا موقف واضح کر کے صحیح فیصلہ کرانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے لیے میرے ذہن میں چار مراحل اور دائرے ہیں جو ہم سب کی توجہ کے طالب ہیں۔
- پہلا دائرہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ امت مسلمہ کے اجماعی عقیدہ اور موقف کا ہے، اس لیے مسلم حکومتوں کی نمائندہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کو آگے بڑھنا چاہیے اور اس کیس کی پیروی کرنی چاہیے۔ اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہے تو رابطہ عالمِ اسلامی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسلمانوں کا ایک مسلمہ عالمی ادارہ ہے اور عالمی سطح پر اس نے ہی سب سے پہلے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا اعلان کیا تھا، اس لیے یہ کیس رابطہ عالم اسلامی کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے۔ جبکہ اس کے علاوہ مؤتمر عالمی اسلامی کے عنوان سے بھی مسلمانوں کی ایک عالمی تنظیم موجود ہے، وہ بھی اس کیس کو اپنا کیس قرار دے تو وہ ایسا کر سکتی ہے۔
- دوسرے مرحلہ میں چونکہ قادیانیت اور ناموس رسالتؐ کے دونوں قوانین پاکستان میں نافذ ہیں اور اسی بنیاد پر ان کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے اس لیے حکومت پاکستان کو ان کیسوں میں خود فریق بننا چاہیے۔ جس دور میں محترم صاحبزادہ نور الحق قادری وفاقی وزیر مذہبی امور تھے پاکستان شریعت کونسل کے ایک وفد کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ہم نے باضابطہ درخواست کی تھی کہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے حوالے سے بین الاقوامی اداروں میں ہونے والے مباحثات و تنازعات میں پاکستان بحیثیت ریاست زیر بحث آتا ہے اس لیے حکومت پاکستان کو اپنے ملک اور دستور کے دفاع میں آگے بڑھنا چاہیے اور وفاقی وزارت مذہبی امور کا ایک مستقل شعبہ قائم ہونا چاہیے جو سرکردہ علماء کرام اور ماہرین قانون کی معاونت سے ان کیسوں میں ملک کا دفاع کریں۔
- تیسرے مرحلہ میں تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے کام کرنے والی دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ اگر کوئی اور ان مقدمات میں شریک ہونے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے تو وہ ایسا کوئی نظم اپنے اپنے طور پر یا مشترکہ طور پر بنا کر ان دونوں قوانین کے حوالے سے بین الاقوامی اداروں اور فورموں میں قادیانی سرگرمیوں کا تعاقب کریں اور اپنے موقف کو خود ان اداروں میں پیش کرنے کا اہتمام کریں۔
- جبکہ چوتھے مرحلہ میں مغربی مالک بالخصوص امریکہ اور یورپ میں مقیم پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ وہاں کے ماحول اور سہولیات کے دائرے میں این جی اوز بنائیں۔ اگر مغربی ممالک کی این جی اوز ہمارے ملکوں میں کام کر سکتی ہیں تو ہماری این جی اوز وہاں کام کیوں نہیں کر سکتیں؟ اس لیے وہاں رہنے والے مسلمان بالخصوص پاکستانی حضرات تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت اور دیگر دینی معاملات میں منظم طور پر اپنے عقیدہ و دین اور قوانین کے دفاع و تحفظ کا اہتمام کریں تو یہ وقت کا سب سے بڑا تقاضہ اور دینی و ملی خدمت ہو گی، اللہ پاک ہمیں اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

