مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

   
۸ جون ۲۰۰۴ء

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کی المناک شہادت اور ٹارگٹ کلنگ پر گزشتہ روز ملک بھر میں متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر یوم احتجاج منایا گیا۔ مختلف شہروں میں ہڑتال ہوئی، احتجاجی مظاہرے ہوئے اور جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں اس وحشیانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

مفتی نظام الدینؒ شامزئی سوات سے تعلق رکھنے والے ایک بے باک اور حق گو عالم دین تھے، انہوں نے جامعہ فاروقیہ کراچی میں تعلیم پائی اور وہیں تدریس و افتاء سے منسلک ہوگئے۔ سالہا سال تک مادر علمی میں خدمات سرانجام دینے کے بعد جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن سے وابستہ ہوئے اور آخر دم تک علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ کی قائم کردہ اس عظیم درسگاہ میں علمی و تدریسی فرائض سرانجام دیے۔ ان کی عمر کچھ زیادہ نہ تھی، باون برس کی عمر میں عروس شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ مگر اس مختصر عمر میں انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں اور علمی و دینی حلقوں میں جو مقام حاصل کیا وہ بلاشبہ قابل رشک ہے۔ ان کی تیز رفتاری کی وجہ اب سمجھ میں آتی ہے کہ وقت تھوڑا اور کام زیادہ تھا اور جسے تھوڑے وقت میں زیادہ کام کرنے کی ڈیوٹی سونپ دی جائے اس کی رفتار یہی ہوتی ہے۔

مفتی صاحبؒ سے پہلی ملاقات مجھے یاد نہیں کہ کب ہوئی تھی مگر آخری ملاقات تبلیغی اجتماع کے رائے ونڈ کے گزشتہ سال کے سالانہ اجتماع میں ہوئی جب والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر، حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا حسن جان، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر اور حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی پر مشتمل اکابر علماء کرام کے ایک وفد نے بھارت سے تشریف لانے والے تبلیغی جماعت کے بزرگوں حضرت مولانا سعد، حضرت مولانا زبیر، حضرت مولانا احمد لاٹ اور حضرت مولانا محمد ابراہیم آف گجرات سے بطور خاص ملاقات کی اور اہم امور پر ان بزرگوں کے درمیان گفتگو ہوئی۔ مفتی محمد جمیل خان، مولانا سعید احمد جلال پوری اور راقم الحروف بھی اس وفد میں شریک تھے۔ اس گفتگو میں زیر بحث آنے والے امور انتہائی اہم تھے مگر ان کا اظہار سردست ضروری نہیں ہے۔

اس کے بعد مولانا مفتی نظام الدین شامزئی سے غالباً کوئی ملاقات نہیں ہوئی، البتہ ایک پرانی ملاقات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے جب سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد نے ازبکستان کا دورہ کیا اور تاشقند، سمرقند اور خرتنگ کے مسلمانوں اور علماء سے ملاقاتیں کیں۔ اس وفد میں مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر اور مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی شامل تھے۔ چند روز رفاقت رہی اور اس دوران مفتی نظام الدین شامزئی کی جس بات نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کا علمی شغل تھا جو سفر کے دوران بھی جاری رہا۔ کسی موضوع پر علمی کام کر رہے تھے، ضروری کتابیں اور لکھنے پڑھنے کا سامان ساتھ رکھا ہوا تھا، جہاں موقع ملتا مطالعہ میں لگ جاتے اور جہاں گنجائش پاتے لکھنا شروع کر دیتے۔ مجھے یہ بات اچھی لگی اور بہت رشک آیا کہ میں کوشش اور خواہش کے باوجود اپنے مزاج کو اس رخ پر نہ ڈھال سکا۔ مجھے مطالعہ اور لکھنے کے لیے تنہائی درکار ہوتی ہے، رواروی میں اس طرح نہیں لکھ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کئی روز تک نہیں لکھ پاتا اور اہم عنوانات ذہن میں ہونے کے باوجود رہ جاتے ہیں۔

مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ کے نامہ اعمال میں بہت سی نیکیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس تھوڑی سی عمر میں انہیں بہت سے اعمال صالحہ سمیٹنے کا موقع اور توفیق عطا فرمائی ہے۔ ان کی خدمات کی فہرست لکھنے کے لیے اگر مجھے کہا جائے تو میں سب سے پہلے ان کے اس جرأت مندانہ کردار کا تذکرہ کروں گا جو انہوں نے پاکستان کے دینی حلقوں میں خلیج عرب میں امریکی افواج کی موجودگی کے خلاف بیداری اور احتجاج کی فضا پیدا کرنے کے لیے ادا کیا۔ یہ وقت وہ تھا جب سعودی عرب کے اکابر علماء کرام نے شاہ فہد کے نام ایک عرضداشت میں خلیج میں یہود و نصاریٰ کی فوجوں کے اجتماع کے خلاف احتجاج کیا اور حرمین شریفین کے محترم امام الشیخ علی حذیفی مدظلہ نے مسجد نبویؐ میں خطبہ جمعۃ المبارک کے دوران سابقہ روایت سے ہٹ کر مشرق وسطیٰ میں یہود و نصارٰی کے معاندانہ کردار کو موضوع بحث بنایا۔ پاکستان میں اس وقت سعودی حکومت کے احترام کی وجہ سے دینی حلقوں میں اس مسئلہ پر خاموشی جیسی کیفیت طاری تھی، ابتدا میں بعض کالموں میں اس مسئلہ کو چھیڑنے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی مگر حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز اور حضرت مولانا مفتی نظام الدینؒ شامزئی نے اس مسئلہ کو جس جرأت و حوصلہ اور عزم و ولولہ کے ساتھ اٹھایا اس نے اگلی پچھلی ساری کسریں نکال دیں۔ بلکہ مفتی نظام الدین شامزئی نے تو اسے زندگی کا مشن بنا لیا۔ اس حوالہ سے جب پاکستان کے دینی حلقوں میں پائی جانے والی موجودہ بیداری کو دیکھتا ہوں اور سابقہ حالات سے اس کا موازنہ کرتا ہوں تو میرا سر فرط عقیدت سے ان دونوں بزرگوں کے سامنے جھک جاتا ہے اور دل بے ساختہ انہیں دعائیں دینے لگتا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کی سرپرستی اور مسلسل پشت پناہی مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ کا دوسرا بڑا کارنامہ ہے جس کا تذکرہ ان کے بارے میں لکھے جانے والے مضامین میں کثرت کے ساتھ ہو رہا ہے، اس لیے میں اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ دوسرے بہت سے تجزیہ نگاروں کے ساتھ میں بھی اس بات سے متفق ہوں کہ مفتی نظام الدین شامزئی کی شہادت اور ٹارگٹ کلنگ کا تعلق انہی دو مسائل سے ہے۔ اور ان کی شہادت سے پہلے اور بعد میں جس فرقہ وارانہ دہشت گردی کا کراچی میں اہتمام کیا گیا وہ اس رخ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہے تاکہ مفتی نظام الدین شامزئی کا یہ قتل بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کے دھندلکوں میں گم ہو کر رہ جائے۔

راہِ حق میں مفتی نظام الدین شامزئی کا قتل پہلا قتل نہیں ہے، صرف کراچی کی حد تک اس سے قبل جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کے شیخ الحدیث مولانا انیس الرحمان درخواستیؒ شہید ہوئے، جامعہ فاروقیہ کے معزز اساتذہ نے جام شہادت نوش کیا، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اس دہشت گردی کا نشانہ بنے، حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ اور حضرت مولانا عبد السمیعؒ اس درندگی کی زد میں آئے، اور اب مولانا مفتی نظام الدینؒ شامزئی بھی اس شاہراہِ شہادت پر چلتے ہوئے اپنے ساتھیوں سے جا ملے ہیں۔ ان کی شہادت پر ہونے والے ملک گیر احتجاج سے ہم متفق ہیں، ان کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہنا ضروری ہے اور اس ٹارگٹ کلنگ کی پشت پر کارفرما اصل قوتوں کو بے نقاب کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ مگر اس سب کچھ کا نتیجہ حسب سابق رہے گا اور موجودہ سسٹم سے یہ توقع رکھنا عبث ہوگا کہ وہ اس وحشیانہ قتل کا سراغ لگانے اور اس قسم کی المناک وارداتوں کی روک تھام کے لیے کوئی کردار ادا کر سکے گا۔

چنانچہ اصل ضرورت مفتی صاحب شہیدؒ کے مشن کو زندہ رکھنے اور ان کی روایات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی ہے۔ اسلام کی سربلندی، دینی قوتوں کی بیداری، استعماری قوتوں کو بے نقاب کرنا، یہود و نصاریٰ اور ہنود کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے مسلمانوں کو باخبر رکھنا، نئی نسل کو مرعوبیت سے بچاتے ہوئے دشمن کے خلاف ذہنی اور فکری طور پر تیار کرنا، اور کسی ملامت و خوف و تحریص کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ہر محاذ پر حق کی آواز بلند کرتے رہنا ہر دور میں اہلِ حق کا شعار رہا ہے۔ مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ بھی اسی شعار کے نمائندہ تھے اور ان کے ساتھ محبت اور وفا کا تقاضا یہی ہے کہ اس شعار کا پرچم بلند رہے اور اس میں کوئی جھول نہ آنے پائے۔ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحبؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور بلند سے بلند تر درجات سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter