الگ بلاک بنانے کی ضرورت

   
۳ فروری ۲۰۰۷ء

صدر جنرل پرویز مشرف کے انڈونیشیا کے دورہ کے موقع پر دنیا کے اس سب سے بڑے مسلم آبادی والے ملک کے صدر سوسیلو بمبانگ یودھویونو کے ساتھ ان کی مشترکہ پریس کانفرنس کے حوالے سے یہ خوش کن خبر گزشتہ روز سامنے آئی ہے کہ ان دونوں رہنماؤں نے ہم خیال مسلم ممالک کا الگ بلاک بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف ان دنوں بہت سے مسلم ممالک کے دورے پر ہیں اور مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کے رہنماؤں سے تبادلۂ خیالات کے بعد وہ مشرقِ بعید گئے ہیں جہاں انہوں نے آبادی کے حوالے سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا کے صدر کے ساتھ گفتگو کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔ انہوں نے اپنے اس دورہ کا مقصد فلسطین کے مسئلہ کے حل کے لیے مضبوط اور سب کے لیے قابل قبول آواز بلند کرنا اور لبنان و عراق میں بد اَمنی کا خاتمہ بیان کیا ہے۔

اس دورے میں مختلف مقامات پر صدر پاکستان نے جن خیالات کا اظہار کیا اور مسائل کے حل کے لیے جن تجاویز پر مسلم حکمرانوں سے بات چیت کی ان سب سے قطع نظر ہم اس کے ایک پہلو پر کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ پاکستان اور انڈونیشیا نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ با اثر اور ہم خیال ممالک کے رہنماؤں کا ایک گروپ قائم کیا جائے جو عالم اسلام کے درمیان ہم آہنگی اور مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے حل کے لیے کام کرے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ انڈونیشیا کے صدر جناب سوسیلو بمبانگ یودھویونو نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ عالم اسلام کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے علماء کی بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے۔ جبکہ دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہم دونوں نے محسوس کیا ہے کہ اب عمل کا وقت آگیا ہے اور خاموشی کا وقت گزر گیا ہے، اگر آواز بلند نہ کی تو صورتحال مزید خراب ہو گی جس پر قابو پانے کی ضرورت ہے کیونکہ مسلمانوں اور پوری دنیا کے لیے یہ اہم وقت ہے۔

جہاں تک با اثر مسلمان ممالک کے حکمرانوں کا ایک مستقل گروپ یا بلاک قائم کرنے کا تعلق ہے اس کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جا رہی ہے۔ ماضی میں پاکستان، ایران اور ترکی پر مشتمل ’’آر سی ڈی‘‘ کا قیام اسی جذبہ کے ساتھ عمل میں آیا تھا اور اسلامی سربراہ کانفرنس بھی اسی عزم کے ساتھ وجود میں آئی تھی لیکن ہمارے نزدیک اس سلسلہ میں سب سے بڑی رکاوٹ جس کی وجہ سے آر سی ڈی اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکی اور اسلامی سربراہ کانفرنس بھی ایک نمائشی ادارے سے زیادہ کوئی مقام حاصل نہیں کر پائی وہ یہ ہے کہ اس وقت مسلم ممالک میں جو لوگ حکمران ہیں ان کی اکثریت آزادانہ ذہن نہیں رکھتی اور مغرب کے قائم کردہ یک طرفہ بین الاقوامی نظام کے جال اور طلسم سے گلوخلاصی کی ضرورت محسوس نہیں کر رہی۔ مغرب نے سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، سیاست، عسکریت، تجارت اور دیگر شعبوں میں تو برتری اور اجارہ داری قائم کر ہی رکھی ہے مگر اس سے کہیں زیادہ اجارہ داری کا ماحول اس نے فکر و فلسفہ اور تہذیب و ثقافت کے میدان میں قائم کر رکھا ہے اور ہمارے حکمران طبقات اس اجارہ داری سے مرعوب اور بے بس ہو کر امت مسلمہ کو اسی راستے پر زبردستی چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمارے نزدیک اصل مسئلہ یہ ہے کہ ذہن آزاد ہوں اور فکر مرعوب نہ ہو تو باقی تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ لیکن ذہن و فکر ہی سپراندازی پر آمادہ ہو چکے ہوں تو نہ الگ بلاک سے کچھ بنے گا اور نہ ہی حکمرانوں کا کوئی گروپ قائم کرنے سے کسی مثبت پیش رفت کی توقع کی جا سکتی ہے۔

علماء کی بین الاقوامی کانفرنس کا فائدہ بھی اسی صورت میں ہوگا جب ذہن و فکر کی آزادی کو اصل ہدف قرار دیا جائے گا۔ اس لیے کہ علمائے کرام کسی نئی کانفرنس میں کوئی نئی رائے نہیں دیں گے، وہ تو ہر مسلمان ملک میں ایک بات تسلسل سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارا اصل مسئلہ فکری آزادی اور تہذیبی تشخص کا ہے مگر ہمارے حکمران طبقوں نے اسلام سے آزادی اور مغربی فکر و فلسفہ کی اتباع کو ’’آزادیٔ فکر‘‘ کا نام دے رکھا ہے اور مسلمان ممالک کے تمام وسائل اسی مقصد کے لیے صرف ہو رہے ہیں۔ علماء کی بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائے یا ہم خیال مسلم حکمرانوں کا کوئی گروپ قائم ہو جائے، اس وقت تک کوئی قدم صحیح سمت نہیں ہوگا جب تک مغرب کی فکری اور تہذیبی غلامی کو مسترد کر کے قرآن و سنت کی بنیاد پر اور خلفائے راشدین کی طرز پر فکری آزادی کا راستہ اختیار نہیں کیا جائے گا۔

آزادی قرآن و سنت اور اپنے ماضی سے نہیں بلکہ مغرب کی فکری غلامی اور تہذیبی پیروی سے حاصل کرنا ہوگی۔ صدر پرویز مشرف اور صدر یودھو یونو عالم اسلام کے بڑے لیڈر ہیں، وہ اگر امت مسلمہ کی صحیح سمت رہنمائی کا عزم کر لیں تو ان کے پاس صلاحیت اور وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے لیکن اگر خدانخواستہ ہم خیال حکمرانوں کے نئے گروپ یا بلاک کا نتیجہ بھی مغرب کے فکری اور تہذیبی غلبے کو مضبوط کرنا ہی نکلے تو امت مسلمہ کی اس مزید بدقسمتی پر افسوس کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے؟

   
2016ء سے
Flag Counter