دنیائے انسانیت کی صورتحال ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں

   
۳ اپریل ۲۰۱۶ء

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے ۳۱ مارچ اور یکم اپریل کو میترانوالی (وزیر آباد) کا دورہ کیا اور مختلف مجالس میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر ان کی صدارت میں پاکستان شریعت کونسل کا ایک مشاورتی اجلاس ہوا جس میں مندرجہ ذیل قراردادوں کے ذریعہ موجودہ حالات کی روشنی میں پاکستان شریعت کونسل کے موقف کا اعادہ کیا گیا۔

  • یہ اجلاس اس وقت دنیائے انسانیت کی موجودہ صورتحال کو معاشرتی، تہذیبی اور معاشی ہر حوالے سے غیر تسلی بخش سمجھتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ خاندانی نظام و اقدار کی کمزوری، معاشی ناہمواری، مختلف اقوام و طبقات میں باہمی کشمکش اور ایک دوسرے پر برتری کا نفسیاتی ماحول، عسکری بالادستی کے بڑھتے ہوئے رجحانات، سیاسی تسلط کی نت نئی صورتیں، امیر و غریب اقوام و طبقات میں تیزی سے بڑھتا ہوا تفاوت، بداَمنی، دہشت گردی کے شرمناک مظاہر اور روحانی و فکری سکون سے انسانی سوسائٹی کی مسلسل محرومی جیسے عوامل نے گلوبل ہیومن سوسائٹی کے پر اَمن اور خوشحال مستقبل کے امکانات کو مخدوش کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کی وجہ ہمارے نزدیک وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات سے انحراف اور ہر قسم کے معاملات میں انفرادی اور اجتماعی انسانی خواہشات پر فیصلوں کا انحصار ہے جس پر نظرثانی کی ہر سطح پر ضرورت ہے۔ اس لیے یہ اجلاس دنیا بھر کے تمام مذاہب کے علمی و فکری راہنماؤں کو توجہ دلاتا ہے کہ مذہبی قیادتوں کا اس سلسلہ میں خاموش رہنا انسانیت کے مفاد میں نہیں ہے اور اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ انسانی سوسائٹی کو وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات و ہدایات کی طرف رجوع کی دعوت دی جائے اور اس کی راہنمائی کی جائے۔ اس کے ساتھ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ تمام مذاہب کی علمی و فکری قیادتیں باہم مل بیٹھ کر آسمانی تعلیمات کی مشترکہ اقدار کی نشاندہی کریں اور نسل انسانی کو فکری، تہذیبی اور معاشی خلفشار کی دلدل سے نجات دلانے کے لیے کردار ادا کریں۔
  • یہ اجلاس عالم اسلام کی موجودہ صورتحال پر تشویش و اضطراب کے ساتھ اس احساس کا اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ مسلم معاشروں اور ممالک میں سیاسی عدم استحکام، معاشی ناہمواری اور معاشرتی خلفشار مسلسل اضافہ پذیر ہے جس کی بنیادی وجہ مسلم حکمرانوں کے باہمی رابطوں اور مفاہمت کا فقدان، مسلم ممالک کی خودمختاری کی مخدوش صورتحال اور ان کے داخلی معاملات میں بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کی روزافزوں مداخلت ہے۔ بیشتر مسلم حکومتوں کی اپنے ریاستی اور معاشرتی معاملات میں قرآن و سنت کی راہنمائی سے بے توجہی ہمارے نزدیک تمام مسائل کی اصل جڑ ہے۔ جس کی وجہ سے مسلم ممالک اور معاشروں کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور یک رخی کا ماحول قصۂ ماضی بن کر رہ گیا ہے، مسلم حکومتوں اور ان کے عوام بالخصوص دینی حلقوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے اور یہی بات بہت سے مسلم ممالک میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا باعث بنی ہے۔ یہ اجلاس ضروری سمجھتا ہے کہ مسلم حکومتیں اور مسلمان معاشروں کی سیاسی و فکری قیادتیں اس صورتحال کا احساس کریں اور قرآن و سنت کے ساتھ مسلم عوام کے لازوال تعلق کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں اور احکامات کا رخ اسلامی تعلیمات کی طرف موڑیں تاکہ اپنے عوام اور دینی حلقوں کے ساتھ ان کا اعتماد بحال ہو۔ یہ اجلاس سمجھتا ہے کہ مسلم حکومتوں اور مقتدر طبقات کے ساتھ ان کے عوام بالخصوص دینی حلقوں کی بے تعلقی اور بے اعتمادی کی یہ فضا سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے جسے سمجھنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے حکمت و تدبر کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ یہ اجلاس عالم اسلام کے دینی و علمی مراکز کو توجہ دلانا چاہتا ہے کہ اس صورتحال کے حقیقت پسندانہ تجزیے کے لیے ملت اسلامیہ کے علمی و فکری قائدین کا مل بیٹھنا اور مشاورت و مفاہمت کے ساتھ امت مسلمہ کو اس افسوسناک صورتحال سے نجات دلانے کی کوشش کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس کے لیے عالم اسلام کے بین الاقوامی اداروں کو سنجیدہ پیشرفت کرنی چاہیے۔
  • یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ اسلام کے نام پر اور مسلمانوں کی مذہبی و تہذیبی شناخت کے تحفظ کے لیے دنیا کے نقشہ پر نمودار ہونے والی ریاست ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کا معاشرتی اور حکومتی رخ اس کے نظریاتی تشخص اور دستوری بنیادوں سے بتدریج موڑا جا رہا ہے، جس میں عالمی سیکولر اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سیکولر عناصر اور ریاستی اداروں میں ان کی کمین گاہیں مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی محافظ مسلح افواج اور اس کی نظریاتی سرحدوں کے پہرہ دار دینی حلقوں کے درمیان بے اعتمادی اور کشمکش کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے جو ملک کے استحکام اور سالمیت کے خلاف گہری سازش ہے۔
  • یہ اجلاس ملک کی سیاسی و عسکری قیادتوں اور دینی راہنماؤں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اس خلیج کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدات کے محافظین میں ہم آہنگی کے فروغ اور وطن عزیز کو اس کے نظریاتی مقاصد اور دستوری بنیادوں کے مطابق صحیح رخ پر چلانے کے لیے کردار ادا کریں گے اور پاکستان کو سیکولر ریاست کی شکل دینے کی کوششوں کو ناکام بنا دیں گے۔
  • یہ اجلاس ملک کے معاشرتی ماحول میں مغربی تہذیب اور ثقافت کے فروغ کے لیے این جی اوز کی مسلسل سرگرمیوں کو تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے معاشرہ کی مذہبی اقدار اور خاص طور پر خاندانی نظام کی مذہبی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر جو مہم جاری ہے وہ اسلام اور پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، اس کا جائزہ لینے اور بیرونی سرمایہ سے چلنے والی این جی اوز کے معاشرتی کردار پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ معاشرے کی مسلّمہ اقدار اور خاندانی نظام کا تحفظ صرف مذہبی حلقوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری قوم کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس لیے ملک کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں اور سماجی حلقوں کو اس طرف توجہ دینی چاہیے اور اپنی ثقافتی اقدار و روایات کو بیرونی ثقافتی یلغار سے محفوظ رکھنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
  • یہ اجلاس سانحہ گلشن پارک لاہور کی شدید مذمت کرتا ہے اور شہداء و زخمیوں کے خاندانوں کے ساتھ صدمہ میں شریک ہے۔ اللہ تعالٰی وطن عزیز کو دہشت گردی سے نجات دلائیں اور پاکستان کو امن و استحکام کے ساتھ ایک پر امن اور خوشحال اسلامی ریاست بنانے کے لیے ہم سب کو مخلصانہ محنت کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔
   
2016ء سے
Flag Counter