سپریم کورٹ میں وفاق المدارس کی آئینی درخواست

   
۱۷ اگست ۲۰۰۷ء

میں اس وقت جدہ میں ہوں، پرسوں ۱۳ اگست کو عشاء کی نماز کے وقت یہاں پہنچا ہوں، یوم آزادی یہیں گزارا ہے اور آج ۱۵ اگست کو مدینہ منورہ روانہ ہونے سے قبل یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ مولانا عبد العزیز کے بھانجے عامر صدیق اور ہمشیرگان محترمات کی پریس کانفرنس کی رپورٹ میں نے سفر کے دوران پڑھی ہے جس میں انہوں نے مولانا عبد العزیز کی طرف سے اپنے وکیل کی تبدیلی اور وفاق المدارس العربیہ کی جدوجہد پر اطمینان کے اظہار کا اعلان کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان کے بعض نمائندے ان کے اور علمائے کرام کے درمیان اختلافات اور غلط فہمیوں کا باعث بنے ہیں۔

میرے نزدیک یہ دونوں باتیں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے حوالے سے دینی جدوجہد کے مستقبل کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ مولانا عبد العزیز نے شوکت عزیز صدیقی صاحب کو اپنے خاندان کی طرف سے وکیل مقرر کیا ہے جو لال مسجد آپریشن کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی رٹ میں وفاق المدارس کے بھی وکیل ہیں اور اس طرح وفاق المدارس کی عدالتی جدوجہد اور مولانا عبد العزیز کی قانونی تگ و دو میں عملی ہم آہنگی کا امکان واضح ہوتا دکھائی دینے لگا ہے، جو نہ صرف یہ کہ خوش آئند ہے بلکہ عدالتی جدوجہد کے منظم اور مربوط طور پر آگے بڑھے کے لیے ضروری بھی ہے۔ اسی طرح مولانا عبد العزیز اور ان کے اہل خاندان کو اس امر کا احساس ہو جانا بھی اطمینان بخش ہے کہ اس سارے عمل کے دوران میں کچھ لوگ مولانا عبد العزیز اور ان کے خاندان کے ساتھ ملک کی اعلٰی دینی قیادت، بالخصوص وفاق المدارس کے راہنماؤں کے مثبت روابط میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔

مجھے کسی خاص شخصیت سے غرض نہیں اسی لیے میں کسی کا نام نہیں لے رہا، لیکن اپنے کم و بیش چالیس سالہ تجربہ کی بنیاد پر لال مسجد کا تنازع شروع ہونے کے دن سے ہی مجھے یہ شدت کے ساتھ محسوس ہوتا رہا ہے کہ کچھ لوگ درمیان میں ضرور موجود ہیں جو اس مقصد کے لیے متحرک ہیں کہ وفاق المدارس کی قیادت، ملک کی دینی جماعتوں اور خاص طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی کے سرکردہ علمائے کرام سے مولانا عبد العزیز، غازی عبد الرشید شہید اور ان کے اہل خاندان کو دور رکھا جائے اور غلط فہمیوں اور بے اعتمادی کی ایسی فضا قائم کر دی جائے کہ ملک کی عمومی دینی قوت نہ تو اس خاندان کے کام آ سکے اور نہ ہی ان کی جدوجہد کو کوئی ایسا رخ دے سکے جو اس دینی محنت کے مثبت طور پر آگے بڑھنے کا ذریعہ بن جائے۔ ایسے افراد دونوں طرف موجود ہو سکتے ہیں، اس لیے اگر اس پہلو سے پوری صورتحال کا ازسرنو جائز لے لیا جائے تو میرے خیال میں مطلع مزید صاف ہو سکتا ہے اور باہمی اعتماد کی فضا میں مستقبل کے تحریکی امکانات کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وفاق المدارس نے اپنی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں پیش کی جانے والی معزز ارکان کی شکایات، اعتراضات، تجاویز اور مطالبات کا جائزہ لینے کے لیے ۱۸ اگست کو کراچی میں مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کر رکھا ہے جو ظاہر ہے کہ خاصی اہمیت کا حامل ہوگا، لیکن میں ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے اس میں شریک نہیں ہو سکوں گا، اس لیے اس اجلاس کے ممکنہ ایجنڈے کے بارے میں کچھ ضروری گزارشات اس کالم کے ذریعے پیش کر رہا ہوں۔ البتہ اس سے قبل اس رٹ درخواست کا اردو ترجمہ قارئین کی معلومات کے لیے درج کر رہا ہوں جو لال مسجد کے آپریشن کے خلاف وفاق المدارس کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب اور سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی ہے اور اسے سماعت کے لیے منظور کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ان سطور کی اشاعت تک غالباً سامنے آ چکا ہوگا۔ وفاق المدارس کے صدر محترم اور سیکرٹری جنرل کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں پیش کی جانے والی درخواست کا اردو ترجمہ یہ ہے:

’’بخدمت جناب محترم چیف جسٹس، پاکستان سپریم کورٹ، اسلام آباد

جناب عالی!

  • درخواست دہندہ وفاق المدارس کے صدر اور جنرل سیکرٹری ہیں، جو پاکستان کے دینی مدارس کا ایک وفاق ہے جو دینی مدارس کے نصاب اور ملک بھر میں منعقد کیے جانے والے امتحانات سے متعلق امور کی نگرانی کرتا اور انہیں کنٹرول کرتا ہے اور تقریباً دس ہزار دینی مدارس وفاق المدارس کے ساتھ الحاق رکھتے ہیں۔
  • لال مسجد/جامعہ حفصہ میں انتہائی غیر انسانی، افسوسناک، ظالمانہ اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے۔ انتظامیہ کے اس غیر قانونی ایکشن کے نتیجے میں، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، سینکڑوں انسانی جانوں کو، جن میں لڑکے، لڑکیاں اور بزرگ شامل ہیں، بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ جبکہ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے اور کسی بھی حال میں قانون سے ہٹ کر اسے اس کی زندگی یا آزادی سے محروم نہ کیا جائے۔
  • پاکستان کے قوانین یہ قرار دیتے ہیں کہ جو شخص بھی کسی کے قتل کا ذمہ دار ہو، اس کے ساتھ ملک کے قانون کے مطابق معاملہ کیا جائے، چنانچہ مسٹر جسٹس محمد نواز عباسی کی طرف سے چیف جسٹس آف پاکستان کے نام لکھے گئے نوٹ اور اس کے نتیجے میں (عدالت کے) سو موٹو ایکشن نمبر ۹، ۲۰۰۷ میں کہا گیا ہے کہ:

    ’’معصوم شہریوں کا قتل، خواہ ان دہشت گردوں کے ہاتھوں ہو یا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کے ہاتھ سے، صریح طور پر ’’قتل عمد‘‘ کے دائرے میں آتا ہے اور اس طرح کے قتل کی انفرادی ذمہ داری کے علاوہ ان تمام لوگوں کو بھی، جو اس واقعے کے ذمہ دار ہیں، قانونی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔‘‘

  • انتظامیہ کے کہنے پر (جامعہ حفصہ) کے طلبہ نے اپنے آپ کو انتظامیہ کے سامنے پیش کر دیا تھا۔ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جو شخص سرنڈر کر دے گا، اس کے خلاف کوئی فوج داری مقدمہ قائم نہیں کیا جائے گا، لیکن انتظامیہ اپنے اس وعدے سے منحرف ہو گئی ہے جس کے نتیجے میں چالیس سے زیادہ طلبہ ابھی تک سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ انتظامیہ یہ بات بھی چھپا رہی ہے کہ گم شدہ افراد کہاں ہیں؟
  • قانون کی رو سے قرآن مجید کی بے حرمتی ایک جرم ہے، جیسا کہ سیکشن ۲۹۵ بی میں درج ہے۔ ’’آپریشن سائیلنس‘‘ کرنے والے افراد کے ہاتھوں قرآن مجید کی بے حرمتی نے پوری قوم کے جذبات کو مجروح کیا ہے اور جس طریقے سے لاشوں کو ٹھکانے لگایا گیا اور انہیں مسخ کیا گیا، اس نے بھی ہر شہری کو مضطرب کر دیا ہے۔
  • جامعہ حفصہ کو غیر قانونی طور پر مسمار کرنے کے بعد ارباب حل و عقد، قتل کیے جانے والے افراد کی لاشوں کو چھپانے/موقع سے غائب کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور اس طرح منہدم عمارت کی جگہ پر موجود ملبے کو وہاں سے ہٹانے اور موجود شواہد کو بگاڑنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
  • ان امور کے ذمہ دار افراد کی یہ کارروائی قانون کے عمل کو خراب کرنے اور انسانی حقوق میں مداخلت کے مترادف ہے۔

اس لیے مودبانہ درخواست کی جاتی ہے کہ:

  1. درج ذیل افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جائے:

    جنرل پرویز مشرف، چیف آف آرمی اسٹاف،

    وزیر داخلہ،

    کور کمانڈر، ہیڈ کوارٹر، ایکس کورز، راولپنڈی،

    چیف کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور آئی جی اسلام آباد۔

  2. مسمار کی جانے والی عمارت کے ملبے کو جوں کا توں رہنے دیا جائے اور جب تک باقاعدہ تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی، نہ تو ملبے میں موجودہ شواہد کو بگاڑا جائے اور نہ اسے وہاں سے ہٹایا جائے۔
  3. ذمہ داران کے خلاف سیکشن ۲۹۵ بی کے تحت قرآن مجید کی دانستہ توہین اور لاشوں کی بے حرمتی کرنے کے فوج داری مقدمات درج کیے جائیں۔
  4. سرنڈر کرنے کے بعد گرفتار کیے جانے والے افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
  5. انتظامیہ کو حکم دیا جائے کہ وہ تمام گم شدہ افراد سے متعلق معلومات مہیا کرے۔ ‘‘

یہ لال مسجد آپریشن کے خلاف وفاق المدارس کی رٹ درخواست کا متن ہے جس کے ذریعے وفاق المدارس نے اس حوالے سے اپنی آئندہ جدوجہد کا رخ متعین کر لیا ہے اور میرے خیال میں وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کو اپنے ۱۸ اگست کے اجلاس میں اسی عدالتی و قانونی جدوجہد کو سنجیدگی اور ربط و نظم کے ساتھ آگے بڑھانے کی حکمت عملی طے کرنی چاہیے، کیونکہ یہ عدالتی جنگ اگر صحیح طریقے سے لڑی گئی تو اس کے انتہائی دور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ باقی رہی بات عوامی تحریک کی تو میں اس سلسلے میں اپنے اس موقف پر پورے شرح صدر کے ساتھ قائم ہوں کہ یہ وفاق المدارس کا کام نہیں بلکہ دیگر دینی جماعتوں کی ذمہ داری ہے، البتہ اگر وفاق المدارس دینی جماعتوں کو اس سلسلے میں مشاورت کے لیے جمع کرنے کی غرض سے داعی اور میزبان کا کردار ادا کرنا چاہے تو اس میں بظاہر کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter