فرانس ایک بار پھر مذہب دشمنی کے محاذ پر

   
۲۸ اکتوبر ۲۰۲۰ء

فرانس ایک بار پھر آسمانی تعلیمات اور مذہب کے خلاف محاذ جنگ پر ہے اور نہ صرف وحی الٰہی کے معاشرتی کردار کی نفی کرنے والوں کی قیادت کر رہا ہے بلکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام اور دینی حوالہ سے مقدس شخصیات کی توہین اور استہزاء کا پرچم بھی اس نے اٹھا رکھا ہے۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں اللہ تعالٰی نے انبیاء کرامؑ کے ساتھ طنز و استہزاء کا طرز عمل اختیار کرنے والی قوموں کی اس نوع کی حرکات اور پھر ان قوموں کے انجام کا ذکر کیا ہے۔ موجودہ صورتحال اس سے مختلف نہیں ہے بلکہ اسی کا تسلسل دکھائی دے رہی ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک مقدس شخصیات کو ان کی اقوام کی طرف سے جس اہانت اور استخفاف کا نشانہ بنایا گیا اگر اس سے متعلقہ قرآنی آیات مبارکہ کو ریسرچ کا موضوع بنایا جائے تو پی ایچ ڈی کا مقالہ تیار ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ کوئی نہیں صورتحال نہیں بلکہ حضرات انبیاء کرام علیہ السلام کو آغاز سے ہی اس طرز عمل اور رویہ کا سامنا رہا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اپنی حیات مبارکہ میں یہ معاملات درپیش رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو اس طرح دہرا رہی ہے کہ ایک طرف آسمانی تعلیمات اور انبیاء کرامؑ کی ذوات مقدسہ ہیں اور دوسری طرف آسمانی تعلیمات کی نفی اور انہیں پیش کرنے والی مقدس شخصیات کی اہانت و تحقیر ہے۔

مسیحی مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی اور سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے آسمانی تعلیمات کی عملی بے دخلی کا آغاز ’’انقلابِ فرانس‘‘ سے بتایا جاتا ہے، تب سے مغربی فکر و دانش اس مہم پر ہے کہ آسمانی تعلیمات کو دنیا میں ہر جگہ سوسائٹی کے اجتماعی اور معاشرتی معاملات میں کردار ادا کرنے سے روکا جائے، جس میں اسے بہت سے مذاہب کے پیروکاروں کو ہمنوا بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ مگر اسلام اور مسلمانوں کے ماحول میں آ کر اس کے قدم رک گئے ہیں بلکہ مسلمانوں کے مذہبی حلقے اس فکری اور تہذیبی یلغار کے سامنے وہی پوزیشن اختیار کرتے جا رہے ہیں جو دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کی یلغار کے سامنے ’’لینن گراڈ‘‘ کو حاصل ہو گئی تھی۔

عالم اسلام کی مجموعی صورتحال اس وقت یہ ہے کہ مسلم ممالک و اقوام کی باگ ڈور جن طبقات اور گروہوں کے ہاتھ میں ہے ان کی تمام تر منفی تگ و دو اور مہم جوئی کے باوجود عام مسلمان کی مذہب کے ساتھ نہ صرف کمٹمنٹ قائم ہے بلکہ وہ اسلامی تعلیمات کے معاشرتی کردار سے دستبردار ہونے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ جس کی ہمارے نزدیک وجہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات یعنی قرآن و سنت کے احکامات و ہدایات نہ صرف اصل حالت میں موجود و محفوظ ہیں بلکہ تعلیم اور عملدرآمد کے دائرے میں بھی ان کا تسلسل بہت حد تک قائم ہے، جس سے مسلمانوں کے معاشرتی ماحول کو الگ کرنے کا کوئی جتن کامیاب نہیں ہو پا رہا۔ اس صورتحال سے لامذہبیت کے علمبردار عالمی ادارے اور ان کے زیرسایہ مسلمانوں کے داخلی ماحول میں محنت کرنے والے ادارے، طبقات اور لابیاں یکساں طور پر جھنجھلاہٹ بلکہ جھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہیں۔ اور ہمارے خیال میں وقتاً فوقتاً توہین رسالتؐ کے اس قسم کے مذموم شوشے اس جلاہٹ کا اظہار ہیں جس پر ’’موتوا بغیظکم‘‘ کے سوا کوئی تبصرہ موزوں دکھائی نہیں دیتا۔ ورنہ جو کچھ فرانس کے صدر صاحب نے کیا ہے اس کی کوئی اور وجہ سمجھ میں نہیں آتی اور نہ ہی اس کی کوئی معقول توجیہ کی جا سکتی ہے۔

فرانسیسی صدر اور حکومت کی اس حرکت پر امت مسلمہ اور مسلم ممالک بالخصوص ترکی کا ردعمل فطری اور طبعی ہے اور ہم اس پر صدر ترکی جناب طیب اردوان سمیت ناموس رسالتؐ کے تحفظ کا عزم ایک بار پھر ظاہر کرنے والے تمام حلقوں اور اداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے جذبات کی صحیح ترجمانی کرنے پر ان کے شکرگزار ہیں۔ یہ مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کا مسئلہ ہے اور اسلامی تعلیمات و شخصیات کے تقدس و حرمت کا معاملہ ہے جس پر کسی قسم کی مداہنت اور کمپرومائز کی گنجائش نہیں ہے۔ اور اس موقع پر ہم ترکی کے محترم صدر جناب طیب اردوان کی گزشتہ روز کی نشری تقریر کے ان مندرجات کا بطور خاص تذکرہ کرنا چاہیں گے جن میں انہوں نے کہا ہے کہ:

’’ترک عوام فرانسیسی مصنوعات کا اسی طرح بائیکاٹ کریں جیسے قطر اور کویت کی سپر مارکیٹوں میں کیا جا رہا ہے۔ فرانس میں جس شخص کے پاس حکمرانی ہے وہ اپنے راستے سے ہٹ گیا ہے، وہ ایک مریض ہے اور اسے واقعی دماغ کے علاج کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فرانسیسی صدر کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاشزم تمہاری کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ فاشزم کو ہم نے جرمنی اور اٹلی میں دیکھا ہے، ہم نازی ازم دیکھ چکے ہیں، تم بالکل اسی راستے پر ہو جس پر وہ تھے۔ ہماری کتاب قرآن کریم نہ ہمیں فاشزم سکھاتی ہے اور نہ ہی نازی ازم، ہماری کتاب ہمیں سماجی انصاف سکھاتی ہے اور ہم اسی کی ہدایت کے مطابق سماجی انصاف کے راستے پر چلتے ہیں۔‘‘

ہم سمجھتے ہیں کہ جناب طیب اردوان کا یہ حقیقت پسندانہ تبصرہ صرف فرانس کے حکمرانوں کے لیے نہیں بلکہ بہت سے مسلم حکمرانوں کے لیے بھی سبق اور نصیحت کی حیثیت رکھتا ہے اور ہم سب کو اس طرزعمل کی روشنی میں اپنا آئندہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔

   
2016ء سے
Flag Counter