مغرب کو تیسرے نظام کی تلاش

   
اکتوبر ۱۹۹۸ء

روزنامہ جنگ لندن ۲۲ اگست ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں جناب آصف جیلانی نے ’’مغرب تیسری راہ کی کھوج میں‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں بتایا ہے کہ

’’مغرب طویل سرد جنگ کے ذریعے مارکسی سوشلزم کا نظام ناکام ثابت کرنے، اور پھر مارگریٹ تھیچر کی آزاد معیشت کے نتائج میں سخت مایوسی کے سامنے کے بعد اب ایک تیسری راہ کا متلاشی ہے۔

یہ خبریں ہیں کہ برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر بل کلنٹن ۲۱ ستمبر کو نیویارک میں ایک بین الاقوامی کانفرنس میں تیسری راہ کا نظریہ پیش کریں گے۔ اس کانفرنس میں اٹلی کے وزیراعظم رومانو پروڈی اور سویڈن کے وزیراعظم گوران پرسن بھی شرکت کریں گے۔ البتہ جرمن کے سوشل ڈیموکریٹک راہنما گیرہارڈ سروڈر اپنے ملک میں عام انتخابات کے پیش نظر اس کانفرنس میں شرکت نہ کر سکیں گے۔ یہ معنی خیز بات ہے کہ فرانس کے سوشلسٹ وزیراعظم لانیل جوسپان کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔‘‘

امریکہ کے صدر بل کلنٹن ان دنوں جس بحران کا شکار ہیں، اس کے پیش نظر ۲۱ ستمبر کی مذکورہ کانفرنس کے بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا انعقاد بھی عمل میں آتا ہے یا نہیں۔ البتہ اس خبر سے اتنی بات واضح ہو گئی ہے کہ مغرب نے صنعتی انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والے سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے ردعمل میں ابھرنے والے سوشلسٹ نظام کی ناکامی کو واضح طور پر محسوس کر لیا ہے، اور اب کسی ایسے متبادل نظام کی تلاش میں ہے جو اسے ان دونوں نظاموں کی تباہ کاریوں سے نجات دلا سکے۔

سرمایہ دارانہ و جاگیردارانہ نظام اور سوشلسٹ معیشت دونوں کی بنیاد مادی اخلاقیات پر ہے، جو آسمانی تعلیمات کی نفی کر کے سوسائٹی کے داخلی رجحانات کے حوالے سے ترتیب پاتی ہیں۔ اس لیے اپنے سرچشمہ اور بنیاد کے لحاظ سے ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ البتہ ایک نے آزادی اور انسانی حقوق کا لیبل لگا کر اپنا تعارف کرایا، اور دوسرے نے ریاستی جبر کے سہارے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ لیکن چونکہ دونوں نظام غیر فطری تھے اس لیے بالآخر ناکامی ہی ان کا مقدر تھی جو روشن صبح کی طرح پوری دنیا پر آشکارا ہو چکی ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ آزادی اور جبر دونوں انسانی معاشرہ کو صحیح رخ پر چلانے کے لیے ضروری ہیں، لیکن سوال ہے کہ ان کی حدود کا تعین کون کرے گا؟ ایک گروہ نے آزادی کو اصل قرار دیا اور اس کی حدود کے تعین کا اختیار سوسائٹی کو دے دیا کہ انسانی معاشرہ کا مجموعی رجحان جس امر کو چاہے آزادی کے نام سے اپنا حق قرار دے لے، اس کا نتیجہ انارکی کی صورت میں نکلا جو سب کے سامنے ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ نے اپنے نظام کی بنیاد جبر پر رکھی اور اس جبر کی حدود کا تعین سوسائٹی کے غالب طبقے کے ہاتھ میں دے دیا، لیکن یہ فلسفہ بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔

اب مغرب ’’تیسری راہ‘‘ کی تلاش میں ہے، لیکن اس حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ آزادی اور جبر میں توازن اور تناسب کے تعین کا اختیار بھی اگر انسانی سوسائٹی کے اپنے اختیار میں ہی رہا تو اس کا نتیجہ بھی سابقہ نظاموں سے مختلف نہیں ہو گا۔ اس لیے مغرب کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اس نے آسمانی تعلیمات سے انحراف کر کے جو ’’جھک ماری‘‘ تھی اس پر نظرثانی ضروری ہو گئی ہے۔ کیونکہ آسمانی تعلیمات ہی انسانی سوسائٹی کو باہمی حقوق کے منصفانہ توازن، اور آزادی اور جبر میں عادلانہ تناسب سے بہرہ ور کر سکتی ہے۔ اس کے سوا انسانی سوسائٹی کو سرمایہ داری اور سوشلزم کی تباہ کاریوں سے نجات دلانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter