عالمی بین المذاہب کانفرنس اسلام آباد

   
۲۵ نومبر ۲۰۱۵ء

آج ۲۴ نومبر کو جناح کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ’’یونائیٹ‘‘ کے زیر اہتمام عالمی بین المذاہب کانفرنس کا آغاز ہو رہا ہے جو ۲۵ نومبر کی رات تک جاری رہے گی۔ اس میں چوبیس ممالک سے سات بڑے مذاہب سے تعلق رکھنے والے اصحاب علم و دانش شریک ہوں گے۔ ’’یونائیٹ‘‘ کے چیئرمین کراچی کے متحرک اور صاحب فکر عالم دین مفتی ابوہریرہ محی الدین ہیں جو علمی و فکری میدان میں مسلسل سرگرم عمل رہتے ہیں اور دینی مدارس کے فضلاء کو عصر حاضر کے تقاضوں سے روشناس کراتے ہوئے ان میں اسلام، پاکستان اور مسلمانوں کے لیے محنت اور خدمت کا ذوق بیدار کرنا ان کی تگ و دو کا خصوصی دائرہ ہے۔

جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی نشانیوں میں ایک بڑی علامت ’’یتقارب الزمان‘‘ بیان فرمائی ہے جس کا ترجمہ زمانے کا ایک دوسرے کے قریب ہونا ہے۔ جبکہ محاورے میں اس کا مفہوم یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ’’فاصلے سمٹتے چلے جائیں گے‘‘۔ آج کا دور اس کا مصداق دکھائی دیتا ہے کہ جدید مواصلاتی نظام اور سہولتوں نے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کو اس طرح ایک دوسرے سے پیوست کر دیا ہے کہ دنیا کے کسی کونے میں رونما ہونے والا کوئی واقعہ آنًا فانًا دنیا بھر میں نہ صرف پھیل جاتا ہے بلکہ معاشرتی اور سیاسی طور پر اثر انداز بھی ہوتا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سفر معراج کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے ایک شخص کو عذاب میں مبتلا دیکھنے کا مشاہدہ بیان فرمایا ہے جس کے عذاب کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ وہ جھوٹ گھڑ کر ’’یبلغ بہ الآفاق‘‘ اسے دنیا کے کناروں تک پہنچا دیتا تھا۔ کسی بات کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دینے کی یہ بات اب سے ایک صدی قبل شاید کسی کی سمجھ میں نہ آتی ہو مگر آج اس عمل پر ہر اس شخص کو رسائی حاصل ہے جو میڈیا یا سوشل میڈیا کا استعمال جانتا ہے۔

چنانچہ جوں جوں فاصلے سمٹ رہے ہیں اور خیالات و افکار ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے کے ساتھ انسانی معاشرہ میں نت نئی تبدیلیوں کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کا ان سے متاثر ہونا اور ان کی وجہ سے نئے نئے مسائل کا سامنا کرنا بھی ان کے مشاہدات و تجربات کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ یہ بات ایک واضح حقیقت کا درجہ رکھتی ہے کہ مذہب نہ صرف انسان کی بنیادی روحانی، اخلاقی اور نفسیاتی ضرورت ہے بلکہ انسان کے ذہن و قلب کو قابو میں لانے اور اس کے خیالات و جذبات کا رخ موڑنے کا سب سے زیادہ مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ اس لیے فاصلوں کے مسلسل سمٹتے چلے جانے کے نتیجہ میں سامنے آنے والی گلوبل سوسائٹی میں مذہب کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے اور بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ انسانی سوسائٹی کو مذہب کے معاشرتی کردار سے الگ تھلگ کر دینے کا مغربی فلسفہ دھیرے دھیرے فرسودہ تصور کیا جانے لگا ہے۔ اس پس منظر میں مختلف مذاہب کے راہنماؤں کا وقتاً فوقتاً مل بیٹھنا اور انسانی سوسائٹی کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے ساتھ ساتھ باہمی اختلافات کے اظہار کو ان کے حقیقی دائروں میں محدود رکھنے کے راستے تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور کسی بھی مذہب کے صاحبِ فکر و دانش راہنما کی اہم ذمہ داری بن گیا ہے۔

اسلام ایک عالمی مذہب ہے کہ عقائد و احکام اور روایات و اقدار کے حوالہ سے اس کی دعوت پہلے دن سے ہی کسی قوم، نسل یا علاقہ کے لیے نہیں بلکہ پوری نسل انسانی کے لیے ہے۔ جبکہ اسلام کے احکام و روایات کی عملداری طویل عرصہ تک انسانی معاشرے کے وسیع دائرے میں قائم رہی ہے جس کے ثمرات و فوائد کئی حوالوں سے آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں سمیٹے جا رہے ہیں۔ اور اسلام کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اگر انسانی سوسائٹی ایک بار پھر مذہب کے معاشرتی کردار کی ضرورت محسوس کرنے جا رہی ہے تو مذہب کی اصل تعلیمات یعنی آسمانی وحی اور صاحب وحی پیغمبر کی تشریحات کا محفوظ ذخیرہ صرف اسلام کے پاس ہے۔ اور وہ محض کتابوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی دنیا کے ہر خطے میں اس کے مظاہر کھلی آنکھوں سے دیکھے جا رہے ہیں۔

یہ حقیقت بھی آج کے زندہ مشاہدات کا حصہ ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات یعنی قرآن کریم اور سنت نبویؐ کو آج کی فکری، علمی اور نفسیاتی ضروریات کے تناظر میں پیش کرنے کا اہتمام کیا جا سکے تو کسی بھی انصاف پسند اور حقیقت شناس شخص کے لیے اسلام کی دعوت کو نظر انداز کر دینا ممکن نہیں ہے۔ مگر اس کے لیے دعوت کا ماحول اور افہام و تفہیم کا لہجہ و اسلوب لازمی شرط کی حیثیت رکھتے ہیں جو باہمی قتل و قتال اور دہشت گردی کی فضا میں ممکن نہیں ہے اور مختلف مذاہب کے راہنماؤں اور پیروکاروں کے درمیان رابطہ و مفاہمت اور مکالمہ کا فروغ اس کا ناگزیر تقاضہ ہے۔ ہمارے خیال میں بین المذاہب مکالمہ کا فروغ جہاں اس لیے ضروری ہے کہ مذاہب کے درمیان کشیدگی، شدت پسندی اور محاذ آرائی کو کم کر کے انسانی سوسائٹی کو مذہب کے نام پر باہمی تصادم سے بچایا جائے اور مذہب کے معاشرتی کردار کو نسل انسانی میں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی اور مورچہ بندی کا ذریعہ بننے سے روکا جائے تاکہ مذہب کا معاشرتی کردار انسانی سوسائٹی کے لیے خوف اور نفرت کا پیغام بننے کی بجائے امن و سلامتی اور فلاح و بہبود کی نوید ثابت ہو۔ وہاں یہ باہمی مکالمہ اس لیے بھی ہماری ملی و دینی ضرورت بن چکا ہے کہ اس سے دنیا بھر میں اسلام کی دعوت کو عام کرنے اور قرآن و سنت کے پیغام و تعلیمات کو دنیا کے تمام انسانوں اور طبقات تک پہنچانے کی راہ ہموار ہوگی۔

ان جذبات کے ساتھ ہم ’’عالمی بین المذاہب کانفرنس‘‘ کے انعقاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس میں تشریف لانے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب کے علمی و فکری راہنما ’’گلوبل انسانی سوسائٹی‘‘ کی حقیقی فکری، روحانی اور تہذیبی ضروریات کا ادراک و احساس کرتے ہوئے نسل انسانی کو صحیح سمت راہنمائی کی کوئی صورت نکالیں گے۔

   
2016ء سے
Flag Counter