عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمیدؒ ثانی کی یادداشتیں (۲)

   
۱۱ ستمبر ۱۹۹۹ء

عثمانی خلیفہ سلطان عبد الحمید مرحوم کی یادداشتوں کا گزشتہ ایک کالم میں ذکر کیا تھا، ان میں سے کچھ اہم امور کا دو تین کالموں میں تذکرہ کرنے کو جی چاہتا ہے تاکہ قارئین اس بات کو سمجھ سکیں کہ خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کن حالات میں اور کن لوگوں کے ہاتھوں ہوا۔ یہ یادداشتیں سلطان عبد الحمید دومؒ کی ذاتی ڈائری کے ان صفحات پر مشتمل ہیں جو خلافت سے معزولی کے بعد نظر بندی کے دوران انہوں نے قلمبند کیے۔ یہ پہلے ترکی زبان میں مختلف جرائد میں شائع ہو چکی ہیں اور عربی میں ان کا ترجمہ اور انہیں ایڈیٹ کرنے کا کام عرب دنیا کی معروف درسگاہ ’’عین شمس یونیورسٹی‘‘ کے استاد پروفیسر محمد حرب نے کیا ہے۔ اور انہیں دو سو صفحات سے زائد خوبصورت کتاب کی شکل میں ’’دارالوثائق ص ب ۲۸۱۲ السالمیۃ الکویت‘‘ نے شائع کیا ہے۔

’’مذکرات السلطان عبد الحمید‘‘ نامی اس کتاب کے مقدمہ میں مصنف نے سلطان عبد الحمید کے تعارف اور اس دور کے حالات پر روشنی ڈالی ہے، اس لیے پہلے اس کا خلاصہ ذکر کر دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ سلطان عبد الحمید کی ولادت ۱۸۴۲ء کو ہوئی جب ان کے والد سلطان عبد المجید خلیفہ تھے۔ سلطان عبد المجید پہلے عثمانی خلیفہ ہیں جنہوں نے انقلاب فرانس اور یورپ کے صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں رونما ہونے والے فکری اور نظریاتی رجحانات کو خلافت عثمانیہ کی حدود میں آنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے ۱۸۵۴ء اور ۱۸۵۶ء میں دو فرمان جاری کیے جن میں سیاسی تنظیموں کے قیام کی اجازت دی گئی اور سیاسی و جمہوری عمل کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ ان کے بارے میں مقدمہ نگار کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وزیر رشید پاشا کے زیر اثر تھے جس کا تعلق فری میسن سے تھا اور اس نے ترکی میں مغربی فکر کے فروغ کے لیے مسلسل کام کیا۔

سلطان عبد المجید کی وفات کے بعد ان کے بھائی سلطان عبد العزیز تخت پر متمکن ہوئے اور ان کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے مرحوم بھائی کے ہم خیال تھے اور مغربی فکر و فلسفہ کے فروغ کی حمایت کرتے تھے۔ انہی کے دور میں ’’انجمن نوجوانان ترکی‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا جو ترکی معاشرہ کو مغربی فلسفہ میں مکمل طور پر ڈھالنے کے لیے وجود میں آئی۔ ۱۸۶۰ء میں تشکیل پانے والی اس سیاسی جماعت نے ۱۸۷۵ء تک یہ پوزیشن حاصل کر لی کہ اس کی کوششوں سے سلطان عبد العزیز کو معزول کر کے شاہی خاندان کے ۳۶ سالہ نوجوان سلطان مراد کو تخت نشین کر دیا گیا جس کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے کہ وہ برطانوی ولی عہد کا ذاتی دوست، فری میسن کا رکن، اور انجمن نوجوانان ترکی کے پروگرام کا پرجوش حامی تھا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ اس کے تخت نشین ہونے کے چند روز بعد اس کے پیش رو معزول سلطان عبد العزیز کو قتل کر دیا گیا اور یہ مشہور کر دیا گیا کہ اس نے خودکشی کر لی ہے۔ اس کا اثر سلطان مراد پر یہ ہوا کہ اس کا دماغ مختل ہوگیا اور وہ تخت پر بیٹھنے کے بعد ۹۰ دن تک کسی پبلک تقریب میں شریک نہ ہو سکا۔ حتیٰ کہ اسے معزول کرنے اور اس کی جگہ سلطان عبد الحمید کو تخت نشین کرنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہا۔ چنانچہ سلطان مراد کی معزولی کے بعد ۱۸۷۶ء تک خلیفۃ المسلمین کے طور پر انہوں نے فرائض سر انجام دیے اور پھر انہیں بھی معزول کر کے نظر بند کر دیا گیا۔

سلطان عبد الحمید کے بارے میں مصنف کا کہنا ہے کہ وہ مغربی فلسفہ کی مفید باتوں کو قبول کرنے کے حق میں تھے اور اس کی روشنی میں اپنے نظام میں ضروری تبدیلیاں لانے کے لیے تیار تھے۔ جیسا کہ خود سلطان عبد الحمید کی ایک تحریر کا انہوں نے حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ:

’’یہ کہنا درست نہیں ہے کہ میں مغرب کی طرف سے آنے والی ہر تبدیلی کا مخالف ہوں۔ البتہ میں جلد بازی کے حق میں نہیں ہوں کیونکہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ نرمی اور اعتدال کے ساتھ فطری رفتار سے ضروری تبدیلیوں کو قبول کیا جائے اور ہمیں جن باتوں میں اللہ تعالیٰ نے برتری دے رکھی ہے انہیں آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیا جائے۔ اسلام ترقی کا مخالف نہیں ہے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ داخلی ضروریات کو ترقی کی بنیاد بنایا جائے اور بیرونی قوتوں کے اغراض و مقاصد کو خاطر میں نہ لایا جائے۔‘‘

مقدمہ نگار کے بقول سلطان عبد الحمید کو دو طرف سے خطرات کا سامنا تھا۔ ایک خلافت عثمانیہ کے معاملات میں یورپی ممالک کی دلچسپی اور اس کے خلاف بیرونی سازشیں، جبکہ دوسرا اندرونی طور پر انجمن نوجوانان ترکی کا محاذ جو ان سے پہلے دو خلیفوں کو معزول کرا چکا تھا اور سلطان عبد الحمید کے گرد بھی ان کی سرگرمیوں کا حصار موجود تھا۔ مصنف نے لکھا ہے کہ دو واقعات نے سلطان عبد الحمید کو اور زیادہ چوکنا کر دیا۔ ایک یہ کہ سلطان عبد الحمید کو اپنے ڈھب پر پوری طرح نہ آتے دیکھ کر ایک بار پھر سلطان مراد کو خلیفہ بنانے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوگئی۔ اور دوسرا واقعہ یہ کہ سلطان عبد الحمید کو جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد باہر نکلتے ہوئے قتل کرنے کی کوشش کی گئی جس میں وہ بچ گئے۔

لیکن اس سب کچھ کے باوجود سلطان عبد الحمید ہی کے دور میں خلافت عثمانیہ کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل ہوا اور ’’دیوان ملکی‘‘ کی جگہ ’’باب عالی‘‘ کو بنیادی درجہ دے دیا گیا۔ ’’باب عالی‘‘ وزراء کی ایک کونسل پر مشتمل تھا جس کا سربراہ صدر اعظم کہلاتا اور سلطان کے بیشتر اختیارات کو یہ کونسل استعمال کرتی تھی۔ جبکہ شیخ الاسلام کو تیسرے درجہ میں مشیر کے طور پر برقرار رکھا گیا جو برائے نام تھا اور آہستہ آہستہ ایک نمائشی منصب ہو کر رہ گیا۔ سلطان عبد الحمید نے اس کے علاوہ اور بھی تبدیلیاں قبول کیں اور خلافت عثمانیہ کے نظام میں سب سے زیادہ تبدیلیاں انہی کے دور میں لائی گئیں۔ مگر چونکہ وہ مغربی ثقافت کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے اور یورپی حکومتوں کے بہت سے عزائم اور ارادوں کی راہ میں رکاوٹ تھے اس لیے ان تبدیلیوں کے باوجود انہیں راستہ سے ہٹانا ضروری ہوگیا۔

اسی دوران ۱۳ اپریل ۱۹۰۹ء کو استنبول میں خانہ جنگی کا ایک واقعہ ہوا جس میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ سلطان عبد الحمید کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور ان پر یہ الزام بھی عائد کیے گئے کہ انہوں نے قتل عام کی سازش کی ہے اور قرآن کریم کے نسخوں کو نذر آتش کیا ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی سلطان عبد الحمید کو معزول کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور وہ ایک محل میں نظر بند کر دیے گئے۔

خلافت عثمانیہ کے ڈھانچے میں تبدیلی اور سلطان عبد الحمید کی معزولی کا یہ پس منظر تو وہ ہے جو ’’مذاکرات السلطان عبد الحمید‘‘ کے مصنف پروفیسر محمد حرب نے مقدمہ میں بیان کیا ہے جسے ہم نے اختصار کے ساتھ ذکر کر دیا ہے۔ خود سلطان عبد الحمید نے اس بارے میں کیا لکھا ہے ان کی کچھ تفصیلات دو تین کالموں میں قارئین کی خدمت میں پیش کی جائیں گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter