قرآنِ کریم اور سماج باہم لازم و ملزوم ہیں

   
۲۸ اگست ۲۰۱۶ء

سماج اور سوسائٹی کے حوالہ سے ایک اور پہلو پر کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ عام طور پر یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ انسان کی اجتماعی عقل غلطی نہیں کرتی اور سوسائٹی کی مشترکہ سوچ کے غلط ہونے کا امکان بہت کم ہوتا ہے، اس لیے سماجی ارتقاء جو شکل اختیار کر لے وہی حرف آخر قرار پاتا ہے، نہ ہی اس کی نفی کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کو ’’ریورس گیئر‘‘ لگ سکتا ہے۔ چنانچہ انسانی سوسائٹی کی موجودہ معاشرتی صورتحال کو اسی لیے معیار سمجھا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ اگر سماج کی اجتماعی غلطیوں میں سے کسی کی قرآن و سنت کی روشنی میں نشاندہی کی جاتی ہے تو یہ کہہ کر چپ کرانے کی کوشش شروع ہوجاتی ہے کہ یہ تو سماجی ترقی اور معاشرتی ارتقاء کے ثمرات ہیں جبکہ قرآن کریم اور سنت نبویؐ میں چودہ سو سال قبل کے سماج اور معاشرے کی بات کی گئی ہے، اس لیے آج کے مسائل کو آج کے سماج کے حوالہ سے ہی دیکھنا چاہیے۔ یوں ان معاملات میں قرآن و سنت کی بات کرنا گویا ’’آؤٹ آف ڈیٹ‘‘ قسم کی کوئی بات سمجھ لی جاتی ہے (نعوذ باللہ)۔ یہاں دو باتیں خصوصاً قابل توجہ ہیں۔

ایک یہ کہ کیا قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف چودہ سو سال قبل کے معاملات میں ہی نسل انسانی کی راہ نمائی کی ہے یا روئے زمین پر نسل انسانی کی بقا تک کے تمام ادوار کے مسائل کے بارے میں بھی راہنمائی کا سامان فراہم کیا ہے؟ اس لیے کہ جب ہم عقیدے کی بات کرتے ہیں تو یہ بات کم و بیش ہم میں سے ہر شخص کی زبان پر ہوتی ہے کہ حضرت محمدؐ قیامت تک کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اور قرآن کریم میں آئندہ کے ہر زمانہ کے لیے ہدایت اور راہ نمائی کا سامان موجود ہے۔ لہٰذا اگر ہمارا عقیدہ یہ ہے تو پھر آج کا سماج بلکہ اب سے صدیوں بعد کا سماج بھی پابند ہے کہ وہ قرآن و سنت سے راہ نمائی حاصل کرے اور اپنے معاشرتی ارتقاء اور سماجی ترقی کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لیتا رہے۔ تاکہ وہ معاملات جو رفتہ رفتہ خودبخود سماج کا حصہ بن جاتے ہیں ان میں سے آسمانی تعلیمات کے منافی امور کی چھانٹی کر کے سماج کو ان سے پاک کرنے کی جدوجہد کی جا سکے۔

دوسری بات یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہؐ تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونے والے ہزاروں انبیاء کرامؑ کی تعلیمات پر ایک نظر ڈال لی جائے کہ سماجی ارتقاء اور معاشرتی ترقی کے بارے میں ان کا طرز عمل کیا تھا اور انہوں نے سوسائٹی کے اجتماعی فیصلوں اور طرز عمل کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا تھا؟ اسے ہم قرآن کریم کے حوالہ سے دیکھیں تو کچھ اس طرح کا نقشہ سامنے آتا ہے کہ حضرت آدمؑ کے بعد انسانی سوسائٹی نے جو ترقی کی تھی اور اس دوران جو سماجی ارتقاء عمل میں آیا تھا، حضرت نوح علیہ السلام نے اسے من و عن قبول نہیں کیا تھا۔ بلکہ اگر اس سماجی ارتقاء کو من و عن باقی رکھنا مقصود ہوتا تو سرے سے حضرت نوحؑ کی بعثت کی بظاہر کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ حضرت نوحؑ کی تشریف آوری کا مقصد اس وقت تک کے ترقی یافتہ سماج اور سوسائٹی کے ارتقاء کی غلط باتوں کی نشاندہی کر کے انسانی معاشرہ کو ان سے نجات دلانا تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور اس ثابت قدمی کے ساتھ کیا کہ کم و بیش ایک ہزار سال تک اس سماج کی غلط روایات کے خلاف آواز بلند کرتے رہے، حالانکہ وہ اس وقت تک کا ترقی یافتہ سماج تھا اور کئی نسلوں کے معاشرتی ارتقاء پر اس کی بنیاد تھی۔

حضرت نوحؑ کے بعد مختلف زمانوں میں جتنے پیغمبر آئے انہوں نے سماج کے غلط عقائد و روایات کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ ان کے خلاف پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی۔ ان کی یہ صدا صرف غلط عقائد و عبادات اور مشرکانہ طریقوں کے خلاف نہیں تھی بلکہ غلط معاشرتی روایات و اقدار بھی ان کی جدوجہد کا ہدف تھے۔ مثال کے طور پر حضرت شعیب علیہ السلام نے جب تجارتی بد دیانتی اور ماپ تول میں کمی کے معاشرتی رجحان کی مذمت کی تو قوم نے بطور طنز ان سے کہا کہ اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں اس بات کا حکم دیتی ہے کہ ان نفعل فی اموالنا ما نشآ کہ تم ہمیں اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے ساتھ تصرف کرنے سے منع کرتے ہو؟

اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام نے شرک و کفر کے ساتھ ساتھ ’’ہم جنس پرستی‘‘ کی بھی مذمت کی اور قوم کو اس ملعون و مذموم حرکت سے منع کرتے رہے۔ جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تو فرعون نے باقاعدہ یہ طعنہ دیا کہ تم ہماری مثالی تہذیب کو مٹانے آئے ہو اور اپنی قوم سے کہا کہ موسیٰ اور ہارون تمہارے سامنے اس لیے آئے ہیں کہ تمہارے وطن پر قبضہ کر لیں۔ ویذھبا بطریقتکم المثلیٰ اور تمہارے آئیڈیل نظام اور تہذیب کو مٹا ڈالیں۔ لہٰذا یہ سمجھ لینا کہ حضرات انبیاء کرامؑ کا مقصد صرف توحید کا پرچار اور شرک کا خاتمہ تھا اور انہیں سماج اور سوسائٹی کے دیگر معاملات سے کوئی غرض نہیں تھی، انسانی تاریخ اور قرآن کریم سے افسوسناک حد تک بے خبری کی علامت ہے۔

اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور جدوجہد پر بھی نظر ڈال لیجیے کہ آنحضرتؐ نے اس وقت کے پورے جاہلی نظام اور تہذیب پر تنقید کی اور ہر شعبہ میں آسمانی تعلیمات کے منافی تہذیبی اقدار و روایات کی نفی کرتے ہوئے انسانی سوسائٹی کو ان سے نجات دلائی۔ ان میں شرک و بت پرستی کے ساتھ ساتھ (۱) شراب نوشی (۲) جوا (۳) سود (۴) فحاشی و عریانی (۵) زنا (۶) رقص و سرود (۷) ہم جنس پرستی (۸) رنگ و نسل کی بنیاد پر باہمی تفاخر (۹) قبائلی عصبیت اور (۱۰) لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے جیسی بہت سی دیگر سماجی لعنتیں شامل تھیں۔ حالانکہ یہ سب قدریں اس وقت تک کے معاشرتی ارتقاء کا نتیجہ تھیں اور ’’اپ ٹو ڈیٹ سماج‘‘ کا حصہ تھیں۔ حتیٰ کہ نبی اکرمؐ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں کل امر الجاھلیۃ موضوع تحت قدمی کا تاریخی اعلان فرمایا کہ آج جاہلی سماج کی تمام قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔

اس لیے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے کہ مذہب صرف عقیدہ و عبادت اور اخلاقیات کی بات نہیں کرتا بلکہ سماجی روایات و اقدار بھی اس کی محنت کا ہدف ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس حقیقت کو بھی ذہنوں میں ہر وقت تازہ رکھنے کی ضرورت ہے کہ اصل معیار سماجی ارتقاء نہیں بلکہ آسمانی تعلیمات ہیں، جبکہ وحی الٰہی کے منافی ہر سماجی قدر اور معاشرتی روایت ’’ردی کی ٹوکری‘‘ کی نذر کر دینے کے لائق ہوتی ہے اور اس کی اصل جگہ موضوع تحت قدمی ہی ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter