مولانا مفتی محمودؒ کا یادگار قومی کردار

جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان ۱۵ اکتوبر ہفتہ کو کنونشن سنٹر اسلام آباد میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں قومی سطح کی ایک تقریب کا اہتمام کر رہی ہے جو وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس پر جے ٹی آئی کی قیادت تبریک و تشکر کی مستحق ہے۔ مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے رخصت ہوئے چار عشروں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر ان کی نہ صرف یاد دلوں میں تازہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۲۲ء

اسوۂ نبویؐ اور رفاہی ریاست

پہلے یہ دیکھیں کہ ریاست اور رفاہی ریاست میں کیا فرق ہوتا ہے؟ کسی بھی ملک کی حکومت اور ریاست کے تین چار بنیادی کام سمجھے جاتے ہیں: (۱) سرحدوں کی حفاظت (۲) ملک میں امن قائم کرنا (۳) ظلم زیادتی ہو تو انصاف فراہم کرنا (۴) لوگوں کو ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکنا (۵) اور لوگوں کو زندگی کی سہولتیں زیادہ سے زیادہ فراہم کرنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ ستمبر ۲۰۲۲ء

ٹرانس جینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء ۔ پاکستان شریعت کونسل کا تجزیہ و تجاویز

ٹرانس جینڈر (تحفظ حقوق) ایکٹ ۲۰۱۸ء مئی ۲۰۱۸ء میں منظور کیا گیا۔ پارلیمنٹ نے اس قانون کو منظور کرنے کا ادعا یہ لکھا ہے کہ ٹرانس جینڈر لوگوں کو دیگر شہریوں کے مساوی حقوق حاصل ہوں اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس قانون کےمطابق ٹرانس جینڈرز کو قانونی طور پر منظور اور تسلیم کر لیا گیا ہے اور ان کو وہی حقوق حاصل ہونگے جو دوسرے مرد و خواتین کو حاصل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۲۲ء

مولانا قاری عبد الحلیمؒ اور مولانا ظفر احمد قاسمؒ

ماضی کو یاد رکھنا اور بزرگوں کو یاد کرنا یہ تو قرآن کریم کا حکم بھی ہے اور اسلوب بھی۔ قرآن کریم نے حکم دیا ’’ذکرھم بایام اللہ‘‘ کہ گزرے ہوئے دنوں کو یاد کر کے لوگوں کو نصیحت کریں۔ یعنی پچھلے دنوں میں اچھے لوگوں نے کیا کیا تھا، برے لوگوں نے کیا کیا تھا، اچھے کاموں کا انجام کیا ہوا تھا، برے کاموں کا نتیجہ کیا ہوا تھا۔ پچھلے زمانوں اور لوگوں کو یاد کریں اور اس کے ساتھ نصیحت کریں، سبق حاصل کریں۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۲۰۲۲ء

ٹرانس جینڈر ایکٹ ۲۰۱۸ء ـ۔ ملی مجلسِ شرعی پاکستان کا موقف

ٹرانس جینڈر پرسن کے حوالے سے ایک قانون پر کچھ دنوں سے دینی حلقوں میں بحث چل رہی ہے۔ یہ قانون ۲۰۱۸ء میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے پاس ہوا تھا جس کا عنوان تھا ”خواجہ سرا اور اس قسم کے دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ“ خواجہ سرا ملک میں بہت کم تعداد میں موجود ہیں۔ کچھ اوریجنل ہیں ، کچھ تکلف کے ساتھ ہیں اور کچھ کو اب مزید تکلف کے ساتھ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی

مدینہ منورہ میں ایک علاقہ اشعریوں کا محلہ کہلاتا تھا۔ حضرت ابو موسی اشعریؓ اور ان کے ساتھ چند خاندان غزوہ خیبر کے موقع پر یمن سے ہجرت کر کے آئے تھے اور آکر مدینہ منورہ میں آباد ہوگئے تھے، وہاں انہوں نے الگ جگہ لے کر اپنا محلہ بسایا تھا جو اشعریوں کا محلہ کہلاتا تھا۔ یمن سے آنے والے اس مہاجر قبیلے کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین حوالوں سے تعریف کی ہے، ایک دفعہ ان کو ڈانٹا تھا اور دو حوالوں سے ان کی تعریف کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد اور تنظیمِ اسلامی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے سود کو ہر شریعت میں حرام ٹھہرایا تھا اور قرآنِ مجید میں بنی اسرائیل پر لعنت کے جو اسباب ذکر ہوئے ہیں ان میں یہ بھی ذکر ہے ’’واخذھم الربٰوا وقد نھوا عنہ‘‘۔ ان کے ملعون ہونے کے اسباب میں ایک یہ بھی تھا کہ ان کو سود سے منع کیا گیا تھا لیکن وہ سود کا کاروبار کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۲۲ء

دعوتِ دین کے تقاضے اور داعی کی صفات

میسج ٹی وی کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم موضوع پر، جو وقت کی ضرورت ہے، گفتگو کرنے کا موقع فراہم کیا۔ داعی کی صفات کیا ہونی چاہئیں اور دعوت کے تقاضے کیا ہیں؟ اس پر بات کرنے سے پہلے بطور تمہید عرض کرنا چاہوں گا کہ ایک طرف دعوت ہے اور ایک طرف دفاع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۲ء

دفاعِ پاکستان اور تحفظِ ختمِ نبوت

۶ ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان اور ۷ ستمبر یومِ تحفظِ ختمِ نبوت ہے، ان دونوں کے ساتھ ہماری تاریخ وابستہ ہے اور دینی و ملی روایات وابستہ ہیں، اس موقع پر تقریبات ہوتی ہیں، وطن کے شہداء اور ختم نبوت کے شہداء کو یاد کیا جاتا ہے، جن کی قربانیوں کی بدولت ہمارا ملک بھی محفوظ ہے اور عقیدہ بھی بحمد اللہ محفوظ ہے۔ ۶ ستمبر ۱۹۶۵ء کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو اس کا ہدف لاہور پر قبضہ کرنا تھا۔ پاک فوج کے جوانوں نے بڑی قربانیوں کے ساتھ ملک کا دفاع کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ ستمبر ۲۰۲۲ء

توہینِ رسالت ﷺ کا سنگین جرم اور اس کی سزا کے تقاضے

ملزم کے خلاف استغاثہ کا موقف یہ ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ایسے گروپوں سے منسلک چلا آرہا تھا جن میں نعوذ باللہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کھلم کھلا گستاخی کی جاتی رہی ہے، اس لیے وہ اس سنگین جرم میں ملوث ہے اور سزا کا مستحق ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام، حضرات صحابہ کرامؓ، ازواجِ مطہراتؓ اور اہلِ بیتِ عظامؓ کی کسی بھی درجہ میں اہانت، تحقیر اور گستاخی سنگین اور شنیع جرم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۲۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter