دینی جدوجہد کے ناگزیر تقاضے اور ہمارا اصل محاذ

بعد الحمد والصلوٰة۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ مختلف دینی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ حضرات کے اس اجتماع میں شرکت اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ اجتماع سات ستمبر کو مینار پاکستان لاہور کے وسیع میدان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلہ میں منعقد ہوا ہے اور اس میں کانفرنس کو بھرپور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مختلف پروگرام تشکیل دیے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۱ء

دینی مدارس کی اسناد کا توجہ طلب مسئلہ

ہری پور ہزارہ کے حضرت مولانا حکیم عبد السلامؒ ہمارے محترم بزرگوں میں سے تھے، تحریک آزادی کے نامور راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا ہے، میری ان سے نیازمندی رہی ہے اور کئی بار ان کی خدمت میں حاضری اور شفقتیں سمیٹنے کی سعادت ملی ہے۔ ان کے فرزند میجر (ر) محمد طارق مرحوم محکمہ تعلیم سے وابستہ رہے ہیں اور ایک دور میں ثانوی تعلیمی بورڈز کی کسی مشترکہ کمیٹی کے سیکرٹری کے طور پر انہوں نے خدمات سر انجام دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۲۱ء

چھ اگست – یومِ تحفظِ نظامِ خاندان

ملی مجلس شرعی پاکستان کی طرف سے گھریلو تشدد کی روک تھام کے قوانین کے حوالے سے جاری کیے گئے سرکلر کا متن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ گھریلو تشدد کی روک تھام کا قانون مختلف صوبوں میں اس سے قبل متعلقہ اسمبلیوں سے منظور ہو کر نافذ ہو چکا ہے جبکہ اسلام آباد کی حدود کے لیے اس قانون کا بل ابھی منظوری کے مراحل میں ہے ۔اس قانون کا مقصد گھر کی چار دیواری کے اندر ہونے والے مبینہ تشدد کو روکنا اور اسے قابل سزا جرم قرار دینا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۲۱ء

تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا پس ِ منظر اور نئی حکومت سے توقعات

ریاست آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مکمل ہو گئے ہیں اور حسبِ روایت پاکستان میں برسراقتدار جماعت پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن میں واضح پوزیشن حاصل کر کے آئندہ مدت کے لیے حکومت سازی کا محاذ سنبھال لیا ہے، جبکہ اپوزیشن نے حسبِ روایت دھاندلی کے الزامات کے ساتھ نتائج قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، لیکن اگر باقی سب کچھ بھی حسبِ روایت ہوا تو اگلی ٹرم میں آزاد جموں و کشمیر کے حکمران تحریک انصاف کے عنوان سے ریاست میں حکومت کے فرائض سرانجام دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۲۰۲۱ء

سوویت یونین، افغانستان اور امریکی اتحاد

یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی جنگ کے اگلے راؤنڈ کی نشاندہی کر دی تھی اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے نئے علاقائی ایجنڈے مختلف عالمی حلقوں میں تشکیل پا رہے تھے۔ اسلام آباد میں لیفٹ کے کچھ دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں یہ بات زیربحث آگئی کہ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی ہے وہ امریکہ کی جنگ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۲۰۲۱ء

متنازعہ اوقاف قوانین اور گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل

متنازعہ اوقاف قوانین کا مسئلہ ابھی چل رہا ہے کہ گھریلو تشدد کی روک تھام کے نئے بل نے ملک بھر کے دینی اور تہذیبی حلقوں کو ایک نئی پریشانی سے دوچار کر دیا ہے اور ان دونوں حوالوں سے بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں دو اہم محافل میں شرکت کا موقع ملا جن کی روشنی میں اس بارے میں تازہ ترین صورتحال قارئین کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ ۱۸ جولائی کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۲۱ء

حدیث و سنت کی قانونی حیثیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا ایک انٹرویو گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید اور سنت و حدیث کی قانونی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔ طویل انٹرویو ہے، انہوں نے کیا کہا ہے اور کیا کہنا چاہتے ہیں وہ ایک طرف، مگر اس سے جو کچھ سمجھا گیا ہے اور جو سمجھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں قانون کی بنیاد قرآن کریم ہے، حدیث و سنت کی کچھ چیزیں ہیں، لیکن عموماً حدیث و سنت قانون کی بنیاد نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جون ۲۰۲۱ء

موجودہ حالات میں ملی مجلس شرعی کا موقف

پاکستان کے اسلامی تشخص، تہذیب و تمدن اور دستور و قانون کے اسلامی پہلوؤں کے حوالہ سے بین الاقوامی سیکولر حلقوں کا دباؤ اور ملک کے اندر سیکولر لابیوں کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ اہل دین کے ارباب شعور و دانش میں اس کا احساس و ادراک پوری طرح دکھائی نہیں دے رہا اور ملی و دینی معاملات میں جدوجہد کا ماحول کمزور پڑتا جا رہا ہے ۔ اس سلسلہ میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کے جملہ ارباب ان دنوں تشویش اور سوچ بچار میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جون ۲۰۲۱ء

مسلم حکمرانوں کی ایک اہم ذمہ داری

قرآن کریم کو زیر زبر پیش اور دیگر علامات کے بغیر عرب لوگ تو صحیح پڑھ لیتے ہیں مگر غیر عربوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، جبکہ تلفظ اور اعراب کی غلطی کی وجہ سے بسا اوقات قرآن کریم کے الفاظ کا معنی الٹ ہو جاتا ہے اور ایسا پڑھنے والے کی بے خبری میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کیلئے عوامی بیداری کی ضرورت

۳ جون کو لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ اور ۵ جون کو ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے اجلاسوں میں شرکت ہوئی اور مختلف دینی راہنماؤں اور احباب کے ساتھ پیش آمدہ امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ اہم عنوانات کم و بیش ملک بھر کے دینی حلقوں میں مشترکہ طور پر درپیش ہیں اور آراء و خیالات میں بھی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، البتہ اجتماعی جدوجہد کے لیے علماء کرام اور دینی کارکن ہر جگہ کسی متحرک قیادت کے سامنے آنے کے منتظر ہیں بلکہ بعض حلقوں میں اس سلسلہ میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۲۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter