کرونا بحران اور مذہبی تعلیمات و روایات

کرونا وائرس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے آغاز میں ہم نے اپنی گزارشات میں چند باتوں کا تذکرہ کیا تھا۔ ایک یہ کہ یہ قدرتی وبا بھی ہو سکتی ہے اور جراثیمی جنگ کا حصہ بھی ہو سکتی ہے، مگر چونکہ اس کے اثرات پھیلتے جا رہے ہیں اس لیے پہلے تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے، اس کے بعد یہ بات بھی ضرور دیکھی جائے گی کہ یہ اگر سازش ہے تو کس نے کی ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں۔ دوسری بات یہ کہ قومی سطح پر ہماری یہ عادت سی بن گئی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۰ء

حضرت مولانا سعید احمد پالن پوریؒ

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحبؒ کی وفات کا صدمہ ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ صبح ساڑھے آٹھ بجے کے لگ بھگ حسب معمول نیند سے بیدار ہو کر موبائل فون کھولا تو کراچی کے ڈاکٹر ثناء اللہ محمود کے اکاؤنٹ پر حضرت مفتی صاحبؒ کے فرزند مولانا قاسم احمد پالنپوری کا میسج رنج و غم کا ایک نیا طوفان لیے نگاہوں کے سامنے موجود تھا کہ "انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ خبر صاعقہ اثر لکھی جا رہی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۲۰۲۰ء

علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ

مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ کی وفات کی خبر نے نہ صرف ان کے تلامذہ اور معتقدین بلکہ ان کی علمی جدوجہد اور اثاثہ سے با خبر عامۃ المسلمین کو بھی غم و اندوہ کے ایسے اندھیرے سے دوچار کر دیا ہے جس میں دور دور تک روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ علامہ صاحبؒ کی علالت کی خبریں چند دنوں سے آ رہی تھیں اور بستر سے اٹھتے ہوئے گر کر زخمی ہونے کی خبر نے پریشانی میں اضافہ کر رکھا تھا۔ مگر موت نے اپنے وقت پر آنا تھا، وہ آئی اور علامہ صاحبؒ ہزاروں بلکہ لاکھوں عقیدت مندوں کو سوگوار چھوڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مئی ۲۰۲۰ء

الشریعہ اکادمی کا درس نظامی کے مضامین پر مبنی 3 سالہ آن لائن کورس

اب ہم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے زیر اہتمام دینی مضامین کی تعلیم کے آن لائن سسٹم کا آغاز کر رہے ہیں تو وہی حکمت عملی ہمارے پیش نظر ہے کہ دینی مدارس کے مروجہ نصاب و نظام میں کوئی دخل دیے بغیر بلکہ اسے حسب سابق مکمل سپورٹ کرتے ہوئے الگ تجربے کے طور پر اس کا نظم تشکیل دیں تاکہ وہ حضرات جو عصری تعلیم سے بہرہ ور ہیں اور دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر اپنی مصروفیات اور دیگر اعذار کے باعث مدارس میں رہ کر وقت دینے کے متحمل نہیں ہیں، ان کے لیے ضروری دینی تعلیم کی کوئی قابل عمل صورت پیدا ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مئی ۲۰۲۰ء

مسلمانوں سے قرآن کریم کے چند تقاضے

رمضان المبارک قرآن کریم کا مہینہ ہے جس میں قرآن کریم کی سب سے زیادہ تلاوت کی جاتی ہے، سنا جاتا ہے اور عالم اسلام میں ہر طرف قرآن کریم کی بہار کا سماں ہوتا ہے۔ اللہ تعالٰی کی نازل کردہ یہ آخری کتاب قیامت تک نسل انسانی کی ہدایت اور راہنمائی کا محور و مرکز ہے اور ہر دور میں اس کا یہ فیضان جاری رہتا ہے۔ اس موقع پر قرآن کریم کے چند تقاضوں کی طرف خصوصی توجہ و تذکیر کی ضرورت ہے جو کلام اللہ نے خود ہم سے کیے ہیں، مثلاً: مکمل تحریر

۵ مئی ۲۰۲۰ء

سعودی عرب میں کوڑوں کی سزا کا خاتمہ

ایک تازہ خبر کے مطابق سعودی عرب نے اپنے ملک کے قانونی نظام میں کوڑوں کی سزا اور بچوں کے لیے موت کی سزا ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز کے حکم کے مطابق عدالت عظمٰی نے ماتحت عدالتوں کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ آئندہ کسی جرم میں کوڑوں کی سزا نہ دی جائے اور نابالغ بچوں کو موت کی سزا نہ سنائی جائے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض سعودی اداروں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایسا انسانی حقوق کے عالمی نظام کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے کیا گیا ہے جس کا ایک عرصہ سے تقاضہ چلا آ رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اپریل ۲۰۲۰ء

کرونا بحران کے بارے میں ایوان صدر کی مشاورت

صدر مملکت جناب عارف علوی نے کرونا بحران کے دوران مساجد میں نماز باجماعت بالخصوص رمضان المبارک کے دوران نماز تراویح اور دیگر معمولات کے حوالہ سے گزشتہ روز وسیع تر قومی مشاورت کا اہتمام کیا اور میں نے بھی گورنر ہاؤس لاہور میں دیگر علماء کرام کے ساتھ اس مشاورت میں شرکت کی۔ یہ اہتمام کرونا بحران کے آغاز میں ہو جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا اور بہت سی الجھنیں جنم نہ لیتیں مگر ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مصداق یہ سعی بھی تحسین کی مستحق ہے اور اس سے جناب صدر کے اس ذوق کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایوان صدر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۲۰ء

قادیانیت اور ’’انٹرنیشنل تحفظ ختم نبوت مشن‘‘

قادیانیت کا مسئلہ بنیادی طور پر پاکستان اور ہندوستان کا مسئلہ ہے لیکن چونکہ اس فتنہ کی تخم ریزی اور آبیاری برطانوی استعمار نے اپنے دور اقتدار میں نوآبادیاتی مقاصد کے لیے کی تھی، اور دنیا میں جہاں برطانوی اقتدار اور اثرات رہے ہیں وہاں اس فتنہ کے قدم بھی پہنچے ہیں۔ بالخصوص پاکستان کے اولین وزیرخارجہ چودھری ظفر اللہ خان نے اپنے دور وزارت میں وزارت خارجہ کو قادیانیت کی تبلیغ و توسیع کے لیے پوری طرح استعمال کیا ہے۔ اس لیے دنیا کے مختلف حصوں میں قادیانیت کے اثرات اور مراکز موجود ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء

اسامہ بن لادن اور یاسر عرفات

اے ایف پی کے مطابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات نے ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عرب مجاہد اسامہ بن لادن سے کہا ہے کہ وہ فلسطین کا نام استعمال نہ کریں۔ یاسر عرفات فلسطینی لیڈر ہیں اور اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب سے ہے، دونوں اپنے اپنے دعویٰ کے مطابق عرب کاز کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یاسر عرفات کی جدوجہد کا ہدف آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے اور اسامہ بن لادن کا ٹارگٹ یہ ہے کہ امریکی فوجیں خلیج عرب سے نکل جائیں تاکہ عرب ممالک کی خودمختاری بحال ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء

عالمی استعمار اور عرب قومیت

عراق نے اپنے اسلحہ کے ذخائر کے بارے میں دستاویزات اقوام متحدہ کی معائنہ ٹیم کے سپرد کر دی ہیں، اور اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کی ٹیم کے سربراہ نے کہہ دیا ہے کہ عراق میں ممنوعہ اسلحہ کی موجودگی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوا۔ جبکہ عراق کے صدر صدام حسین نے دس سال قبل کویت پر عراقی حملہ کے حوالہ سے کویت کے عوام سے معافی مانگ لی ہے لیکن اس کے باوجود عراق پر امریکی حملے کے امکانات میں کمی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے، اور امریکی حکمرانوں کے تیور یہ نظر آرہے ہیں کہ وہ بہرصورت عراق پر حملہ کر کے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۰۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter