عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ اور اسرائیل کی ہٹ دھرمی
اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو ٹھکرا کر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ بدستور اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر قائم ہے اور اپنے یکطرفہ ایجنڈے کے بارے میں اپنی مرضی کے خلاف کسی کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عالمی عدالت نے فلسطینی علاقے میں باڑ کی تعمیر کے اسرائیلی اقدام کو ناجائز قرار دے دیا ہے لیکن اسرائیل نے اسے ’’حفاظت کے حق‘‘ کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ اور ’’حفاظت کے حق‘‘ کے نام پر اسے اپنے اس نوعیت کے اقدامات کے لیے مغربی دنیا اور خاص طور پر امریکی قیادت کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ فلسطین کا تاریخی پس منظر اور عالم اسلام کا اصولی موقف
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ عبد اللہ کی اس تجویز پر دنیا بھر میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے کہ اگر اسرائیل عربوں کے مقبوضہ علاقے خالی کر دے تو سعودی عرب اسے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے۔ شہزادہ عبد اللہ کی پیشکش عرب اسرائیل سیاست میں ایک اہم پیشرفت ہے کیونکہ اگر اسرائیل کے مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرنے کی صورت میں سعودی عرب اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیتا ہے تو دنیا کے باقی مسلم ممالک سے اسرائیل کو تسلیم کرانے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خود انسان نے کیا ترقی کی ہے؟
میڈیا آج کے دور کی ایک بڑی طاقت ہے جو قوموں اور افراد کی ذہن سازی اور فکر و کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کی کارفرمائی دنیا میں ہر طرف اور ہر سطح پر دکھائی دیتی ہے۔ ذرائع ابلاغ ہر دور میں اہم رہے ہیں اور اسلام نے بھی ان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ قرآن کریم نے اپنی تعلیم کا آغاز ہی قلم کے ذکر سے کیا ہے جبکہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے خطابت، شعر و شاعری اور ابلاغ کے دیگر ذرائع اسلام کی دعوت و تبلیغ اور دفاع و تحفظ کے لیے مسلسل استعمال ہوتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم کا ایک بڑا اعجاز
سورۃ العنکبوت کی آیت ۴۸ میں اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے قبل آپ نہ کوئی کتاب پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی لکھ سکتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک پیدا کر سکتے تھے۔ یعنی اگر جناب رسول اللہ ’’امّی‘‘ نہ ہوتے اور لکھنا پڑھنا جانتے ہوتے تو مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل سکتا تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں اور کہیں سے یہ حکمت و دانش کا ذخیرہ مل گیا ہے جسے قرآن کی شکل میں پیش کر کے یہ دعویٰ کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نسلی تعصب ۔ شاہ اردن سے ایک مؤدبانہ سوال
اردن کے فرمانروا شاہ عبد اللہ نے کہا ہے کہ ’’میں اس تعصب کو مسترد کرتا ہوں کہ اسرائیلی بچے کا خون فلسطینی بچے کے خون سے مقدس اور قیمتی ہوتا ہے‘‘۔ شاہ اردن کو یہ بات مشرق وسطیٰ میں فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان جاری خونی کشمکش کے بارے میں امریکی طرز عمل کی صاف طور پر نظر آنے والی ترجیحات کے حوالے سے کہنا پڑی جس میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی فوج کشی کو ’’دفاع کا حق‘‘ اور مظلوم فلسطینیوں کی طرف سے ردعمل اور جوابی کاروائیوں کو ’’دہشت گردی‘‘ قرار دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عورت کا مقام اور اسلام
اخبارات میں جو رپورٹیں شائع ہوئی ہیں ان میں بطور خاص قابل ذکر باتیں یہ ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں غیرت اور کاروکاری کے عنوان پر ہر سال سینکڑوں عورتوں کا قتل ہوتا ہے۔ بھارت میں اولاد نرینہ کی خواہش میں ہزاروں بچیوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ میں اوسطاً روزانہ تین خواتین شوہر یا بوائے فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً تیس ہزار خواتین حمل اور اس کی پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں اسقاط حمل کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد اوسطاً پانچ لاکھ سالانہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فلسطین کی حمایت میں روس، عرب اور یورپی ممالک کا متوقع اتحاد
ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کی حمایت میں روس، عرب اور یورپی ممالک کا اتحاد وجود میں آنے والا ہے، جبکہ فلسطین پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف روس اور یورپی یونین کے بعض ملکوں کے درمیان خفیہ اتحاد ہو گیا ہے۔ ان یورپی ممالک نے روس کو یقین دلایا ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اسٹینڈ لیں گے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روس نے اسلامی و یورپی ملکوں کے سربراہوں سے رابطے کیے ہیں اور اسرائیلی مظالم رکوانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
رمضان المبارک کی آمد اور دینی حلقوں کے تحفظات
اسلام آباد میں پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا عبد الرؤف محمدی کی چٹھہ بختاور کی جامع مسجد میں جمعہ پڑھانے کی پاداش میں گرفتاری و رہائی اور بعض دیگر خطباء کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائی سے جمعۃ المبارک کے حوالہ سے سرکاری ہدایات کا مسئلہ سنجیدہ غوروفکر کا متقاضی ہو گیا ہے۔ جبکہ رمضان المبارک کی آمد اور مساجد میں نماز باجماعت اور نماز تراویح کی ادائیگی کی متوقع صورتحال دینی حلقوں کی بے چینی اور اضطراب میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہبی جماعتیں اور قومی سیاست
سوال: دینی جماعتیں منتشر کیوں ہیں، سیاست اور عوام میں ان کا کردار مؤثر کیوں نہیں ہوا؟ جواب: ہمارے مشرقی معاشرے میں عوام کی مذہب کے ساتھ غیر متزلزل کمٹمنٹ ہے، معاشرے کا فرد عمل میں جیسا بھی ہو مگر خود کو دین و مذہب کے دائروں کا پابند سمجھتا ہے، اس میں بنیادی کردار علماء اور مذہبی جماعتوں کا ہے کہ انہوں نے آسمانی تعلیمات پر خود بھی حتی الوسع عمل کیا ہے اور عوام کو بھی جوڑے رکھا ہے۔ یہ ایک مستقل پہلو ہے کہ ’’کردار مؤثر کیوں نہیں ہوا‘‘ یہ مؤثر اور فیصلہ کن پوزیشن میں بھی ہو سکتا ہے اور ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی حلقوں کا بڑھتا ہوا اضطراب
کرونا بحران کی سنگینی اور وسعت میں مسلسل اضافہ کے باوجود احتیاطی تدابیر اور علاج و معالجہ کے انتظامات کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد و طبقات کو ضروری کام کاج کی مختلف شعبوں میں سہولت دی جا رہی ہے مگر مسجد و مدرسہ اور نماز باجماعت و جمعۃ المبارک پر پابندیوں کا دائرہ دن بدن تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ حتٰی کہ رمضان المبارک کے بارے میں ابھی سے سرکاری حلقوں کی طرف سے ہدایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں کہ سابقہ پابندیوں کے ساتھ ساتھ نماز تراویح کے لیے بھی مسجدوں میں گنجائش نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 149
- 150
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »