مدارس کی رجسٹریشن اور یکساں نصاب تعلیم کا مسئلہ

ملک بھر کے دینی مدارس کی محکمہ تعلیم کے تحت ازسرنو رجسٹریشن اور ’’لازمی یکساں تعلیمی نصاب‘‘ کے حوالہ سے دینی حلقوں بالخصوص اساتذہ و طلبہ میں بعض ابہامات کے باعث جو تشویش پائی جاتی ہے اس کا مختلف دائروں میں اظہار ہو رہا ہے اور اس کا سلسلہ دن بدن پھیلتا جا رہا ہے۔ گزشتہ اتوار کو جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور میں میری معمول کی حاضری کے موقع پر ملی مجلس شرعی پاکستان کے سیکرٹری جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد امین تشریف لائے اور ملک کے مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں آگاہی اور بیداری کو عام کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جنوری ۲۰۲۰

اسلامی اصولِ فقہ کا خط و کتابت کورس

اسلامی علوم میں ’’اصول فقہ‘‘ کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس علم میں ان اصول و ضوابط پر بحث کی جاتی ہے جن کے ذریعے قرآن و سنت سے احکام و مسائل کا استنباط کیا جاتا ہے اور اسلامی قوانین و ضوابط کی درجہ بندی اور تشریح کی جاتی ہے۔ آج کی اصطلاح میں اسے ’’اصول قانون‘‘ کے مترادف سمجھا جا سکتا ہے، لیکن آج کے معروف اصول قانون کی بہ نسبت ’’اصول فقہ‘‘ کا دائرہ زیادہ وسیع اور اس کے پہلو زیادہ متنوع ہیں۔ البتہ اس کی بنیادی نوعیت کو سمجھنے کے لیے اسے ’’اصول قانون‘‘ کی اصطلاح میں بیان کر دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مئی ۲۰۰۵ء

لال مسجد کا معاملہ اور مولانا عبد العزیز کا عمومی خط

لال مسجد اسلام آباد کے حوالے سے درپیش مسئلہ زیادہ سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکومتی حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اگر مفاہمت کا کوئی راستہ نہ نکلا تو آپریشن ناگزیر ہو جائے گا اور دوسری طرف لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز نے ملک بھر میں اپنے ہم خیال حضرات سے رابطے شروع کر دیے ہیں اور ان کی طرف سے مدارس کے طلبہ کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ اسلام آباد پہنچیں اور وہاں کی مختلف مساجد میں اعتکاف بیٹھیں، جس سے ان کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اسلام آباد میں جمع کر کے حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اپریل ۲۰۰۷ء

لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مذاکرات میں علماء کا رویہ: چند توضیحات

حامد میر صاحب ہمارے محترم دوست ہیں، تجربہ کار صحافی اور تجزیہ نگار ہیں، میرے محسن ہیں کہ کسی درجے میں چھوٹی موٹی کالم نگاری کر رہا ہوں تو اس کا باعث وہی ہیں کہ انہوں نے اور مولانا اللہ وسایا قاسم شہیدؒ نے مل کر مجھے اس راہ پر لگایا تھا۔ میں سالہا سال تک روزنامہ اوصاف، اسلام آباد میں حامد میر صاحب کی ٹیم کے ایک رکن کے طور پر ’’نوائے قلم‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتا رہا ہوں اور جب انہوں نے روزنامہ اوصاف سے علیحدگی اختیار کی تو میں بھی اوصاف کے ساتھ رفاقت قائم نہ رکھ سکا۔ حامد میر صاحب انتہائی باخبر صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جولائی ۲۰۰۷ء

عقلی مصالح کی بنیاد پر منصوص احکام میں اجتہاد

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ میں اس مسئلے پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے کہ شریعت کے اوامر و نواہی اور قرآن و سنت کے بیان کردہ احکام و فرائض کا عقل و مصلحت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں: ایک گروہ کا موقف یہ بیان کیا ہے کہ یہ محض تعبدی امور ہیں کہ آقا نے غلام کو اور مالک نے بندے کو حکم دے دیا ہے اور بس! اس سے زیادہ ان میں غور و خوض کرنا اور ان میں مصلحت و معقولیت تلاش کرنا کار لاحاصل ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ کا موقف یہ ذکر کیا ہے کہ شریعت کے تمام احکام کا مدار عقل و مصلحت پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۷ء

جامعۃ الرشید کی فکری نشستوں میں حاضری

جامعۃ الرشید نے عصر حاضر کے تقاضوں اور ضروریات کی طرف علمائے کرام کو متوجہ کرنے اور ان کی روشنی میں نئی کھیپ تیار کرنے کے لیے جو کام شروع کر رکھا ہے، وہ یقیناً دلی خوشی کا باعث بنتا ہے اور بے ساختہ دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو اپنے مقاصد میں کامیابی سے ہمکنار کریں۔ آمین یا رب العالمین۔ جامعہ کے اساتذہ کے ساتھ فجر کی نماز کے بعد طویل نشست ہوئی جس میں ملک کی عمومی صورتحال اور دینی جدوجہد کے علاوہ نوجوان علماء کی ذہنی، فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کے حوالے سے بہت سے امور زیر بحث آئے اور باہمی تبادلہ خیالات ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ ستمبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کا نظام و نصاب اور عصر حاضر کے تقاضے

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ ۱۸۵۷ء میں متحدہ ہندوستان کے باشندوں کی مسلح تحریک آزادی کی ناکامی اور دہلی پر باضابطہ برطانوی حکومت قائم ہونے کے بعد جب دفتروں اور عدالتوں سے فارسی زبان اور فقہ حنفی پر مبنی قانونی نظام کی بساط لپیٹ دی گئی تو فارسی اور عربی کے ساتھ فقہ اسلامی اور دیگر متعلقہ علوم کی تعلیم دینے والے مدارس کے معاشرتی کردار پر خط تنسیخ کھینچ دیا گیا اور ہزاروں مدارس اس نوآبادیاتی فیصلے کی نذر ہو گئے۔ اس پر حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی جماعت کے کچھ بچے کھچے درویش صفت بزرگوں نے دیوبند، سہارنپور، مراد آباد اور ہاٹ ہزاری میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۷ء

احکام شرعیہ کی تعبیر کا ایک اہم پہلو

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سہ ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران چار روز کے لیے صوبہ سندھ جانے کا موقع مل گیا اور کراچی، حیدر آباد، میرپور خاص اور پتھورو میں مختلف اجتماعات میں شرکت کے علاوہ بعض سرکردہ بزرگوں سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ حضرت مولانا فداء الرحمن درخواستی کا ارشاد تھا کہ میں جو مغربی فلسفہ اور انسانی حقوق کے حوالے سے باتیں کرتا رہتا ہوں، اس کے بارے میں جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن نارتھ کراچی میں دورۂ حدیث، درجہ موقوف علیہ اور تخصص کے طلبہ کے سامنے لیکچر دوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اپریل ۲۰۰۵ء

اہل علم کے ’’تفردات‘‘ اور توازن و اعتدال کی راہ

برادر محترم مولانا سعید احمد جلال پوری صاحب زید لطفکم۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ مزاج گرامی؟ گرامی نامہ موصول ہوا۔ یاد فرمائی کا شکریہ! آپ کا ارشاد بجا ہے اور ہم نے اس نمبر میں ایک مستقل باب ’’نقد و نظر‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر صاحب مرحوم کے تفردات کی نشاندہی کے لیے مخصوص کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں ہم ’’خطبات بہاولپور‘‘ پر کسی علمی نقد کی تلاش میں تھے کہ آپ کا گرامی نامہ موصول ہو گیا اور ہمارا کام آسان ہوگیا۔ اس پر آپ کا بطور خاص شکر گزار ہوں۔ فجزاکم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۲۰۰۳ء

رؤیت ہلال اور اختلاف مطالع

سرحد اسمبلی کی اس متفقہ قرارداد نے رویت ہلال کے مسئلہ پر ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے کہ مرکزی رویت ہلال کو توڑ دیا جائے اور رمضان المبارک اور عیدین وغیرہ کے نظام کو سعودی عرب کے ساتھ منسلک کر کے جس روز سعودیہ میں چاند کا اعلان ہو، اس کے مطابق روزہ اور عید کا پاکستان میں بھی اعلان کر دیا جائے۔ گزشتہ سال رمضان المبارک اور عید الفطر کے چاند کے حوالے سے صوبہ سرحد اور باقی ملک میں جو بدمزگی پیدا ہو گئی تھی اس کے پس منظر میں سرحد اسمبلی کی یہ متفقہ قرارداد خصوصی اہمیت کی حامل ہے جس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter