دینی مدارس اور برطانوی وزیر اعظم کے خیالات

لندن کے بم دھماکوں کے بعد عالمی حلقوں میں جو ارتعاش پیدا ہوا ہے، اس نے ایک بار پھر دینی مدارس کو بین الاقوامی میڈیا میں گفتگو کا موضوع بنا دیا ہے اور نہ صرف پاکستان میں متعدد دینی مدارس پر چھاپوں کا سلسلہ ازسرنو شروع ہو گیا ہے بلکہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ایجنڈے میں بھی دینی مدارس اب پہلے نمبر پر نظر آ رہے ہیں۔ لندن کے بم دھماکوں کی دنیا کے ہر باشعور شخص نے مذمت کی ہے کہ اس طرح کسی ملک کے پراَمن شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا بہرحال کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی اسناد: ایک پہلو یہ بھی ہے

میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث کر کے ۱۹۴۳ء میں گکھڑ (ضلع گوجرانوالہ) آئے اور تب سے یہیں ہیں۔ وہ یہ واقعہ خود سناتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی بار انتخابات کا مرحلہ آیا اور ووٹروں کی فہرستیں مرتب ہوئیں تو ان کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں تھا۔ پوچھا گیا تو پتہ چلا کہ چونکہ آپ سرکاری قانون کی رو سے اَن پڑھ (ناخواندہ) ہیں اور انتخابی قواعد کی رو سے ووٹ دینے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے، اس لیے آپ کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جولائی۲۰۰۳ء

وفاق المدارس کا کامیاب کنونشن

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ ہماری توقعات سے بڑھ کر کامیاب رہا اور وفاق کی قیادت نہ صرف اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی بلکہ اس نے اپنی دوٹوک پالیسی اور موقف کا ایک بار پھر کھلم کھلا اظہار کر کے دنیا کو یہ پیغام دینے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے کہ دینی تعلیم اور اس کے آزادانہ نظام کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے اور کردارکشی کی مسلسل مہم نے دینی مدارس کے اعصاب پر اثر انداز ہونے کے بجائے ان کے لیے مہمیز کا کام دیا اور وہ پہلے سے زیادہ حوصلہ و عزم اور جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے مشن پر کار بند ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۲۰۰۵ء

وفاق کا اجلاس اور روزنامہ پاکستان کا اداریہ

بات اگر روزنامہ پاکستان کے ادارتی نوٹ کی نہ ہوتی تو لال مسجد اور وفاق المدارس کے مسئلہ پر مزید کچھ لکھنے کا ارادہ نہ تھا، کیونکہ اس کے بارے میں جو کچھ لکھ چکا ہوں، بعض تند و تلخ جوابات کے باوجود اس میں کسی اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ میں مناظرانہ اسلوب اور طعن و تشنیع کی زبان کا عادی نہیں ہوں اور اپنی بات وضاحت کے ساتھ بیان کر کے فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا کرتا ہوں کہ وہ دونوں طرف کی بات پڑھ لیں اور پھر اس کے مطابق جو رائے وہ قائم کر سکیں، کر لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اگست ۲۰۰۷ء

قومی تعلیمی کمیشن کے سوالنامہ کے جوابات

(حکومت پاکستان کے قائم کردہ قومی تعلیمی کمیشن کی خصوصی کمیٹی نمبر ۵ کے کنوینر جناب جسٹس (ریٹائرڈ) محمد ظہور الحق کی طرف سے دینی مدارس اور عصری اسکولوں و کالجوں کے نصاب و نظام میں ہم آہنگی کے سلسلہ میں ماہرین تعلیم کو ارسال کیے جانے والے سوالنامہ کا مولانا زاہد الراشدی کی طرف سے جواب۔) سوالنامہ: محترم و مکرم، السلام علیکم! حکومت پاکستان نے شریعت کے نفاذ کے لیے اپنی کاوشوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ شریعت بل ۱۹۹۱ء کے تحت قومی تعلیمی کمیشن برائے اسلامائزیشن تشکیل دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۲ء

جامعہ حفصہ کی طالبات کا احتجاج اور اعتدال کی راہ

اسلام آباد میں حکومت کی طرف سے گرائی جانے والی مساجد کا مسئلہ حکومت اور علماء کے درمیان مذاکرات اور بظاہر ایک سمجھوتے تک پہنچ جانے کے باوجود زیادہ گھمبیر اور پریشان کن ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں تک مسجدوں کو گرانے کا تعلق ہے، اس کے بارے میں اصولی موقف گزشتہ کالم میں ہم بیان کر چکے ہیں اور اب بھی اسی موقف پر قائم ہیں کہ اگر کسی مناسب اور موزوں سرکاری زمین پر علاقہ کے لوگوں نے اپنی ضرورت کے تحت مسجد بنا لی ہے اور مسجد بن جانے کے بعد سرکاری محکموں نے اپنی ڈیلنگ میں اسے مسجد کے طور پر قبول کر لیا ہے تو وہ شرعی مسجد بن گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ فروری ۲۰۰۷ء

مولانا عبد العزیز کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان

جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات اور مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے خطیب مولانا عبد العزیز کی مسلسل تگ و دو کا جو نتیجہ سامنے آیا ہے، اس پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم اس سے قبل اس مہم کے حوالے سے اس کالم میں معروضات پیش کر چکے ہیں اور گفتگو کو آگے بڑھانے سے قبل اس کا خلاصہ ایک بار پھر قارئین کے سامنے پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ جہاں تک اسلام آباد کی مساجد کے تحفظ، ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اور معاشرہ میں فواحش و منکرات کے سدباب کے حوالے سے ان کے موقف اور مطالبات کا تعلق ہے تو ان سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۲۰۰۷ء

سانحہ لال مسجد اور احتجاج کا موزوں طریقہ کار

گزشتہ ہفتے گوجرانوالہ شہر کے کچھ سرکردہ علمائے کرام میرے ہاں جمع ہوئے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سانحہ کے حوالے سے کوئی مؤثر احتجاجی پروگرام ہونا چاہیے اور ہمیں اس سلسلے میں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھے اس بات سے مکمل اتفاق ہے اور سانحہ لال مسجد میں جو کچھ ہوا ہے، میں خاموش تماشائی کے طور پر اسے دیکھتے رہنے کے حق میں نہیں ہوں مگر سوال یہ ہے کہ اس کا صحیح پلیٹ فارم کون سا ہے اور معروضی صورتحال میں کس عنوان اور فورم سے احتجاج منظم کرنا اور آواز بلند کرنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ جولائی ۲۰۰۷ء

دینی مدارس کی تقریبات اور انتظامیہ کا رویہ

دینی مدارس میں سالانہ تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے اور ختم بخاری شریف و دستاربندی کے عنوانات سے پروگرام شروع ہو چکے ہیں جن کا سلسلہ رمضان المبارک تک جاری رہے گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ یہ دینی مدارس کے تعلیمی نوعیت کے پروگرام ہوتے ہیں جن میں معاونین کے ساتھ ساتھ طلبہ و طالبات کے والدین اور دیگر متعلقہ احباب کو شریک کرنے کا اہتمام بھی کر لیا جاتا ہے جس سے یہ پروگرام ایک طرح کے سالانہ تعلیمی کانووکیشن کی صورت اختیار کر جاتے ہیں۔ مگر ’’دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘ کے مصداق ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۲۰ء

روہنگیا مسلمان ۔ عالمی عدالت انصاف کا ایک مستحسن فیصلہ

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۴ جنوری ۲۰۲۰ء کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’عالمی عدالت انصاف نے میانمار حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کا حکم دے دیا، نسل کشی کے خلاف ۱۹۴۸ء کے کنونشن کے تحت افریقی ریاست گیمبیا کی درخواست پر اقدامات کی منظوری دیتے ہوئے عالمی کورٹ کے جج عبد القوی احمد یوسف نے درخواست گزار ملک کو مقدمے کی کاروائی مزید آگے بڑھانے کی اجازت دے دی ہے، عدالت نے میانمار کی حکومت کو پابند بنایا کہ وہ مسلمان کمیونٹی کے خلاف اپنی فوج کے ظالمانہ اقدامات روکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۲۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter