جہاد افغانستان اور ہماری ذمہ داریاں

آپ حضرات مختلف علاقوں سے اپنے معمولات، گھر بار، مصروفیات اور مشاغل چھوڑ کر ایک بے آب و گیاہ وادی کی سنگلاخ چٹانوں میں جمع ہیں۔ آپ کے یہاں جمع ہونے کا ایک مقصد ہے، وہ مقصد آپ دلوں میں لیے جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے ایمان کو حرارت دے رہے ہیں، اللہ تعالٰی آپ کے اس مقصد میں آپ کو اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو کامیابی عطا فرمائے، آمین۔ وہ مقصد یہ ہے کہ آج کے دور میں جہاد کا فریضہ مسلمانوں کی عملی زندگی سے نکل چکا ہے، وہ فریضہ مسلمانوں کے عملی زندگی میں دوبارہ آ جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۱ء

تحریک خلافت اور اس کے ناگزیر تقاضے

گزشتہ دنوں خلافت اسلامیہ کے احیا کے جذبہ کے ساتھ دو حلقوں کی طرف سے جدوجہد کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایک طرف تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد نے ’’تحریک خلافت‘‘ بپا کرنے کا عزم کا اعلان کیا ہے اور دوسری طرف مولانا مفتی غلام مسرور نورانی قادری کی سربراہی میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے خلافت کی بحالی کے لیے علماء اور عوام کو منظم کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ جہاں تک خلافت اسلامیہ کے احیا اور بحالی کا تعلق ہے یہ ایک انتہائی مبارک اور مقدس جذبہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۱۹۹۱ء

’’یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی‘‘

علامہ محمد اقبالؒ نے افغانستان پر برطانوی استعمار کی یلغار کی ناکامی پر فرنگیوں کے جذبات کی عکاسی ان الفاظ سے کی تھی ؎ ’’افغانیوں کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج ۔ ملّا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو‘‘۔ مگر جب افغانیوں کی غیرت ملی کا ترجمان اور محافظ ملّا فرنگی استعمار کے ہاتھوں افغانستان کے کوہ و دمن سے جلاوطن نہ ہو سکا تو یہ درد سر روسی استعمار نے اپنے کھاتے میں ڈال لیا۔ اور یہ سوچ کر افغانستان کو ملّا اور اس کے دین و ثقافت سے نجات دلانے پر کمر باندھ لی کہ برطانوی استعمار کی کامیابی کی راہ میں شاید جغرافیائی فاصلے رکاوٹ بن گئے ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۱۹۹۲ء

موجودہ حکومت اور سودی نظام

یہ اجتماع وفاقی شرعی عدالت کے اس تاریخی فیصلہ کو ملک میں قرآن و سنت کی بالادستی اور نفاذ کی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتا ہے جس کے تحت وفاقی شرعی عدالت نے ملک میں رائج تمام سودی قوانین کو قرآن و سنت کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کو ۳۰ جون تک ان کے متبادل اسلامی قوانین نافذ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ اجتماع اس سلسلہ میں حکومت پاکستان کے اس طرز عمل کو انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک قرار دیتا ہے کہ اسلام کے نفاذ کے نعرے پر برسرِ اقدار آنے والی حکومت اس فیصلہ پر عملدرآمد کرنے کے بجائے اس سے پیچھا چھڑانے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۱۹۹۲ء

نیو ورلڈ آرڈر۔ عالم اسلام کے خلاف سازش

میں صرف اجتماع میں شرکت اور آپ حضرات کے ہم نشینوں میں نام لکھوانے کے لیے حاضر ہوا ہوں، وقت مختصر ہے۔ دیگر حضرات علماء کرام بھی تشریف فرما ہیں اور بالخصوص مفتی صاحب دامت برکاتہم تشریف فرما ہیں، اس لیے کسی تمہید کے بغیر صرف دو مختصر باتیں عروض کروں گا۔ ایک تو اس وقت جہاد افغانستان کس پوزیشن میں ہے اس کا نقشہ تھوڑا سا سامنے ہونا چاہیے۔ ایک وقت وہ تھا جب افغانستان کے علماء نے جہاد کا آغاز کیا تو دنیا کے دانشور یہ کہتے تھے۔ یہ پاگل لوگ ہیں روس جیسی سپر پاور چٹان ہے ان سے سر ٹکرا ٹکرا کر تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۱۹۹۱ء

امریکی امداد کی ناقابل قبول شرائط

پاکستان کے لیے امریکی امداد کی بندش اس وقت قومی حلقوں میں زیر بحث ہے اور ملکی و بین الاقوامی پریس میں اس حوالہ سے خدشات و توقعات کے اظہار اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان ایک غریب ملک کی حیثیت سے اپنے معاشی توازن کو قائم رکھنے کے لیے بیرونی امداد حاصل کرنے پر مجبور ہے۔ اور خلیج کے حالیہ بحران نے پاکستان کی معیشت میں عدم توازن کے جن نئے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے ان کے پیش نظر بیرونی امداد کی ضرورت و اہمیت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دینی حلقے اور انتخابی سیاست

ملک میں عام انتخابات کی تیاری جاری ہے، متحارب سیاسی قوتیں ۲۴ اکتوبر کو منعقد ہونے والے الیکشن کے لیے امیدواروں کی نامزدگی اور اعلان کا کام کم و بیش مکمل کر چکی ہیں اور نئی صف بندی کے ساتھ انتخابی مہم کے میدان میں اترنے والی ہیں۔ اس انتخابی مہم میں ملک کے دینی حلقے شریک ہیں اور متعدد دینی جماعتوں کے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد الیکشن میں حصہ لیے رہی ہے، لیکن کسی مشترکہ دینی محاذ کے نام پر نہیں بلکہ مختلف حیثیتوں سے اور مختلف سہاروں کے ساتھ دینی جماعتیں انتخابی سیاست میں اپنا وجود قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۰ء

متحدہ مجلس عمل سے ہماری توقعات

سوال: پاکستان کے حالیہ عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟ جواب: متحدہ مجلس عمل کو میرے خیال میں دو وجہ سے عوام میں پذیرائی ملی۔ ایک ان کے اتحاد کی وجہ سے کہ پاکستان کی نصف صدی کی تاریخ گواہ ہے کہ دینی حلقوں اور مذہبی مکاتب فکر نے جب بھی متحد ہو کر کسی ملی کاز کے لیے قوم کو آواز دی ہے قوم نے انہیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ گزشتہ سال امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کو ختم کرنے اور اپنی کٹھ پتلی حکومت مسلط کرنے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

جہادِ افغانستان نازک موڑ پر

شعبان المعظم کے آخری ایام میں حرکۃ المجاہدین کی دعوت پر خوست جانے کا اتفاق ہوا اور افغان مجاہدین کے فوجی مراکز، (۱) مرکز حضرت عمرؓ (۲) مرکز خلیل (۳) مرکز رشید اور (۴) مرکز حضرت سلمان فارسیؓ دیکھنے کا موقع ملا۔ معروف افغان کمانڈر مولانا جلال الدین حقانی سے بھی ملاقات ہوئی۔ افغان مجاہدین ان دنوں نجیب حکومت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کے مرحلہ میں ہیں اور خوست شہر کو فتح کرنے کے لیے کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ خوست کا شہر اور چھاؤنی فوجی لحاظ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۱۹۹۱ء

امریکہ اور عالمِ اسلام

روزنامہ جنگ کراچی نے ۵ نومبر ۱۹۹۰ء کی اشاعت میں اپنے واشنگٹن کے نمائندہ خصوصی کے حوالے سے جہاد افغانستان کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان اس امر پر ۱۹۸۵ء میں ہی خفیہ مفاہمت ہو گئی تھی کہ افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد افغان مجاہدین کو اسلامی حکومت کے قیام کی منزل تک نہ پہنچنے دیا جائے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ امریکہ کے ممتاز سفارت کار آنجہانی آرنلڈ رافیل نے تیار کیا تھا جو پاکستان میں امریکہ کے سفیر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۱۹۹۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter