دینی مدارس کیلئے حکومتی امداد ۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا مفتی محمودؒ کا موقف

سرکاری سطح پر ’’مدرسہ ایجوکیشن بورڈ‘‘ نے کام شروع کر دیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان مدرسہ بورڈ کے چیئرمین ہیں۔ اسلام آباد کے حاجی کیمپ میں اس کا ہیڈ آفس قائم ہو گیا ہے اور ڈاکٹر صاحب محترم کی طرف سے اخبارات میں ایک اشتہار کے ذریعے سے دینی مدارس سے اس بورڈ کے ساتھ الحاق کے لیے درخواستیں طلب کرنے کا اعلان بھی ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں گوجرانوالہ میں ایک حساس ادارے کے ذمہ دار افسر نے مجھ سے دریافت کیا کہ سرکاری بورڈ کے ساتھ الحاق کے سلسلہ میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۲۰۰۳ء

نفاذ شریعت کے لیے جامعہ حفصہ کا اقدام

۲۰ فروری کو راولپنڈی پہنچ کر سواں کیمپ کے ہمراہی ٹریول کے اڈے سے جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے لیے ٹیکسی پر جا رہا تھا کہ گوجرانوالہ سے ہمارے ایک صحافی دوست طاہر قیوم چودھری نے موبائل فون پر بتایا کہ صوبائی وزیر ظل ہما عثمان کو گوجرانوالہ میں کھلی کچہری کے دوران میں گولی مار دی گئی ہے اور انہیں انتہائی نازک حالت میں لاہور لے جایا گیا ہے۔ اس وقت اس سے زیادہ خبر نہ ملی، بہت پریشانی ہوئی اور اسی پریشانی کے عالم میں جامعہ اسلامیہ پہنچا جہاں مولانا قاری سعید الرحمن اور دیگر احباب منتظر تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۰۷ء

کلیۃ الشریعہ کے نصاب سے متعلق دو روزہ سیمینار

میں دو روز سے جامعۃ الرشید کراچی میں ہوں۔ ۲۰ اگست اتوار کو عزیزم حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ کے ہمراہ کراچی پہنچا تو سیدھا لانڈھی چلا گیا۔ معین آباد میں جامعہ عثمانیہ کے مہتمم مولانا حافظ اقبال اللہ نے علماء کرام کے ساتھ ایک نشست کا اہتمام کر رکھا تھا۔ مختلف احباب سے ملاقاتیں ہوئیں۔ لانڈھی سے متحدہ مجلس عمل کے ایم پی اے مولانا احسان اللہ ہزاروی بھی اس نشست میں شریک تھے، وہ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے ہیں، جمعیت علماء اسلام کے سرگرم رہنما ہیں اور پاکستان شریعت کونسل کی سرگرمیوں میں بھی ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۰۶ء

مغربی فلسفہ و تہذیب اور مسلم امہ کا رد عمل

موضوع پر گفتگو شروع کرنے سے قبل اس کے عنوان میں تبدیلی کی طرف اشارہ ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے جمہوریت کے ساتھ لادینی کا سابقہ حذف کر دیا ہے اور مطلق جمہوریت بلکہ مغربی تہذیب و ثقافت کے حوالے سے امت مسلمہ کے رد عمل اور موجودہ صورتحال پر گفتگو کا خواہش مند ہوں۔ مغرب نے اب سے کم و بیش تین سو برس قبل جمہوریت کا راستہ اختیار کیا تھا اور اس سے قبل کی صدیوں میں اسے جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا، یہ اس کا رد عمل ہے کہ وہ جمہوریت کی شاہراہ پر مسلسل آگے بڑھتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کا تعلیمی نصاب اور چند ناگزیر جدید تقاضے

دو تین روز جامعہ الہدیٰ نوٹنگھم کی تعلیمی مشاورت میں گزرے۔ یہ جامعہ ’’مدنی ٹرسٹ نوٹنگھم‘‘ کے زیر اہتمام مصروف عمل ہے جس کے چیئرمین میرپور آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے مولانا حکیم اختر الزمان غوری اور سیکرٹری سیاکھ آزاد کشمیر کے مولانا رضاء الحق ہیں۔ دونوں کا تعلق بڑے علمی خاندانوں سے ہے۔ غوری صاحب کے والد محترم مولانا حکیم حیات علی چشتیؒ کشمیر کے بزرگ علماء اور مشائخ میں سے تھے۔ حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا حافظ محمد صدیق آف بھر چونڈی شریف جیسے عظیم بزرگوں کی زیارت اور ان سے استفادہ کا شرف رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۲۰۰۴ء

سانحہ لال مسجد اور وفاق المدارس کا اجلاس

دو روز سے ملتان میں ہوں اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے ہنگامہ خیز اجلاس میں شریک ہوں۔ یہ اجلاس لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے المناک سانحہ کے بارے میں خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا اور اس کے بارے میں کئی دنوں سے خبریں آ رہی تھیں کہ اس میں خاصی گہماگہمی ہوگی، اس لیے کہ سانحہ لال مسجد کے حوالے سے وفاق المدارس کی جدوجہد کے بارے میں بہت سے احباب شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور تحفظات رکھتے ہیں جبکہ بعض حلقوں کی طرف سے شکوک و شبہات کا ماحول پیدا کرنے کی باقاعدہ کوشش بھی کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۲۰۰۷ء

وفاق المدارس العربیہ عوام کی عدالت میں

رجب ہمارے ہاں دینی مدارس کے تعلیمی نظام میں سال کا آخری مہینہ ہوتا ہے۔ شوال کے وسط سے شروع ہو کر رجب کے وسط تک عام طور پر تعلیم و تدریس کا سلسلہ جاری رہتا ہے، اس کے بعد امتحانات ہوتے ہیں اور پھر شوال کے وسط تک کے لیے سالانہ تعطیلات ہو جاتی ہیں۔ کچھ عرصے سے ان دنوں میں بخاری شریف کے اختتام کی تقریبات کثرت کے ساتھ ہونے لگی ہیں۔ بخاری شریف درس نظامی کے تعلیمی نصاب میں آخری کتاب ہے جس کی تعلیم مکمل ہونے کے ساتھ ہی طالب علم امتحان میں کامیابی کی صورت میں سند فراغت کے مستحق ہو جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۰۷ء

شرعی عدالتوں کے قیام کا جواز

متحدہ قومی موومنٹ نے گزشتہ دنوں کراچی میں لال مسجد اسلام آباد کے اس اعلان کے خلاف ریلی نکالی ہے جس میں شرعی عدالت کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے اور اس طرح الطاف بھائی نے شرعی احکام کی بالادستی اور نفاذ کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ جہاں تک لال مسجد اسلام آباد کی قائم کردہ شرعی عدالت کا تعلق ہے، اس کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں ہوئے اور نہ ہی اس کے طریقہ کار اور اس کے حدود عمل کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا سردست قبل از وقت ہوگا، اس لیے کہ یہ بات اس شرعی عدالت کے قواعد و ضوابط اور حدود کار سے واضح ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۰۷ء

ائمہ مساجد اور علماء کرام کی معاشرتی ذمہ داریاں

علماء کرام کے بارے میں ایک حدیث نبویؐ کی بنیاد پر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث ہیں، جبکہ ائمہ جس مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے ہیں اسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مصلیٰ سمجھا جاتا ہے، اور جس منبر پر خطبہ دیتے ہیں اسے منبر رسولؐ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے۔ اس حوالے سے علماء اور ائمہ اس معاشرہ میں جناب نبی اکرمؐ کی نیابت اور نمائندگی کے منصب پر فائز ہیں اور ہمیں اس منصب کی ذمہ داریوں اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو کہاں تک ادا کر رہے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کا نصاب تعلیم اور شیخ الاسلام حضرت مدنیؒ

بنگلہ دیش کے حالیہ سفر کے دوران سلہٹ کے دینی مدرسہ ’’مدینۃ العلوم دارالسلام‘‘ کی لائبریری میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا تحریر فرمودہ ایک نصاب تعلیم ملا جو انہوں نے اب سے کم و بیش ستر برس قبل دینی مدارس کے لیے ترتیب دیا تھا۔ پڑھ کر تعجب ہوا کہ جن ضروریات اور تقاضوں کی طرف ہم دینی مدارس کو آج توجہ دلا رہے ہیں، وہ پون صدی قبل حضرت مدنیؒ تفصیل کے ساتھ تحریر فرما چکے ہیں مگر ان امور کو جو توجہ دینی مدارس کی طرف سے حاصل ہونی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آرہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جنوری ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter