دینی مدارس کے منتظمین سے ایک گزارش

ہمارے معاشرے میں عام آدمی کا تعلق دینی تعلیم کے ساتھ قائم رکھنے اور دینی علوم کی حفاظت و ترویج کے لیے دینی مدارس نے گزشتہ سو، سوا سو برس میں جو کردار ادا کیا ہے، وہ بلاشبہ ہماری ملی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اور کسی سرکاری امداد کے بغیر عام لوگوں کے رضاکارانہ تعاون سے انتہائی سادگی، قناعت اور کم سے کم خرچہ کے ساتھ اپنے اہداف میں پیشرفت کر کے دینی مدارس کے اس نیٹ ورک نے جو سب سے بڑا مقصد حاصل کیا ہے، وہ یہ ہے کہ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کے ارشاد کے مطابق یہ خطہ اسپین بننے سے بچ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ دسمبر ۱۹۹۸ء

دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے

علم انسان کا وہ امتیاز ہے جس نے انہیں فرشتوں پر فضیلت عطا کی اور معلّم وہ منصب ہے جسے سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر اپنے تعارف کے طور پر پیش کیا کہ ’’انما بعثت معلما‘‘ میں معلم اور استاذ بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ جب کہ رسول اکرمؐ پر نازل ہونے والی پہلی وحی قراءت، قلم اور تعلیم کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ اسی لیے اسلام میں تعلیم کے مشغلہ اور معلم کے منصب کو ہمیشہ عزت اور وقار کا مقام حاصل رہا ہے بلکہ دنیا کی ہر مہذب اور متمدن قوم میں معلم کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۶ء

وفاق المدارس کے ایک فیصلہ پر چند گزارشات

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ کی کارروائی کی رپورٹ اس وقت میرے سامنے ہے جو وفاق کے سہ ماہی مجلہ میں شائع ہوئی ہے۔ مدارس دینیہ کے حوالہ سے قومی اور عالمی سطح پر اس وقت جو سرگرمیاں سامنے آرہی ہیں، ان کے پیش نظر وفاق المدارس کی مجلس شوریٰ کے ان فیصلوں کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جن کا ذکر اس رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ وفاق المدارس کے فیصلوں میں پالیسی کے حوالہ سے سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ دینی مدارس کسی قسم کی سرکاری امداد قبول نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۲۰۰۳ء

دینی مدارس میں جدید فکر و فلسفہ کی تعلیم

۲۸ اپریل ۲۰۰۷ء کو لاہور میں ممتاز اہل علم و دانش کی ایک مجلس میں حاضری کا موقع ملا۔ اس کا اہتمام جوہر ٹاؤن میں واقع پنجاب قرآن بورڈ کے دفتر میں جامعہ خیر المدارس ملتان کے مہتمم مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کیا تھا اور ایجنڈا یہ تھا کہ جامعہ خیر المدارس ملتان نے لاہور میں جوہر ٹاؤن کے قریب اپنی ایک شاخ قائم کی ہے جس کے لیے تعمیر کا ایک مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور اس کے لیے تعلیمی پروگرام طے کرنے کی غرض سے قاری صاحب محترم نے ملک کے ممتاز ارباب علم و دانش کو اس مشاورتی نشست میں جمع کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مئی ۲۰۰۷ء

کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داری

حالیہ اسفار کے دوران مختلف مجالس میں کرونا وائرس اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالہ سے گفتگو کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ کرونا فلو طرز کی ایک وبائی بیماری کو کہا جاتا ہے جس کے وائرس کچھ دنوں قبل چائنہ میں پھیلنا شروع ہوئے اور ان کا دائرہ دن بدن وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک مہلک بیماری ہے جس نے پوری دنیا کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ وبائی بیماریاں دنیا میں مختلف مواقع پر رونما ہوتی آئی ہیں جن کا دائرہ اس سے قبل عام طور پر علاقائی ہوتا تھا، لیکن جوں جوں انسانی سوسائٹی گلوبل ہوتی جا رہی ہے یہ وبائیں بھی گلوبل رخ اختیار کرنے لگی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۲۰ء

نصاب تعلیم کی یکسانیت پر قومی تعلیمی کانفرنس

ملک میں تعلیمی نصاب و نظام کے دوہرے پن کو ختم کرنے اور خاص طور پر دینی و عصری تعلیم کے نصاب و نظام میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے قومی سطح پر جو کوششیں جاری ہیں میں ان کے مؤیدین اور ناقدین دونوں کی صف اول میں شامل ہوں۔ مؤیدین میں تو اس لیے کہ میں خود گزشتہ نصف صدی سے اس کا داعی چلا آرہا ہوں، اس دوران اس اہم قومی مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر میرے بیسیوں مقالات و مضامین متعدد جرائد اور اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۲۰۲۰ء

دینی تعلیم کے فروغ کے نئے رجحانات

بعض ضروری اسفار کے لیے اسباق کو جلدی سے سمیٹ کر ایک ہفتہ فارغ کرنا پڑا اور متعدد دینی مدارس کی سالانہ تقریبات میں شرکت کی سعادت حاصل ہو گئی۔ ۶ مارچ کو جمعۃ المبارک کے موقع پر جامعہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی جس میں حضرت مولانا انوار الحق حقانی اکوڑہ خٹک سے تشریف لائے اور بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا۔ ۷ مارچ کو صبح دس بجے جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی میں بخاری شریف کے آخری سبق کا پروگرام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ مارچ ۲۰۲۰ء

ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی بین الاقوامی سیرت کانفرنس

۵ مارچ جمعرات کو جی سی ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی تیسری سالانہ بین الاقوامی سیرت کانفرنس کی آخری نشست میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ سیرت کانفرنس پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن لاہور کے تعاون سے انعقاد پذیر ہوئی اور ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ کی وائس چانسلر محترمہ پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ کوثر کی سربراہی میں یونیورسٹی کے شعبہ عربی و علوم اسلامیہ نے اس کا اہتمام کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۲۰ء

۸ مارچ کا مبینہ ’’خواتین مارچ‘‘ اور حکومت کی ذمہ داری

۸ مارچ کو اسلام آباد میں خواتین کی بعض تنظیموں کی طرف سے عوامی مارچ کے اعلان کے بعد سے اس بارے میں اخبارات اور سوشل میڈیا میں خبروں اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے اور گزشتہ سال ہونے والی ریلی کی فری اسٹائل کیفیت بالخصوص ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کے سلوگن کے تناظر میں مختلف نوعیت کے جذبات و احساسات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں تک خواتین کے حقوق اور ان کے لیے دستور و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی جدوجہد اور عوامی مظاہرے کا تعلق ہے ان کے اس حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مارچ ۲۰۲۰ء

بخاری شریف اور عصر حاضر کی سماجی ضروریات

پہلی بات یہ کہ آج کے عالمی حالات اور فکری مباحث کے تناظر میں حدیث نبویؐ کی حجیت و مقام اور اہمیت و ضرورت کے علاوہ اس کا وہ تعارفی پہلو بھی بطور خاص اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں بیان کیا ہے کہ احادیث نبویہ علی صاحبہا التحیۃ والسلام دین کی کسی بھی بات تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہیں حتٰی کہ قرآن کریم تک رسائی بھی حدیث کے ذریعے ہی حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً نزول کے حوالہ سے قرآن کریم کی پہلی پانچ آیات سورۃ العلق کی ہیں جو ہمیں غار حرا کے واقعہ سے ملی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ فروری ۲۰۲۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter