کیا سزائے موت کا قانون ختم کیا جا رہا ہے؟

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۱ جون ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سزائے موت کا قانون برطانیہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدوں میں ایک رکاوٹ ہے، حکومت پاکستان نے تعزیرات پاکستان میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان بیرون ملک پاکستانیوں کی ہر صورت حوالگی چاہتا ہے تاکہ پاکستانی قانون کے مطابق ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۹ء

قومی اسمبلی میں سودی نظام کے خلاف بل

کچھ عرصہ قبل قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبد الاکبر چترالی نے ایوان میں سودی نظام کے خاتمہ کے لیے ایک بل پیش کیا جو مجلس قائمہ کے سپرد کر دیا گیا ہے اور اس کی رپورٹ کے بعد کسی وقت بھی وہ اسمبلی میں زیر بحث آسکتا ہے، سودی نظام کے خاتمہ کے لیے طویل عرصہ سے ملک میں مختلف سطحوں پر جدوجہد جاری ہے: دستور پاکستان میں حکومت پاکستان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ سودی نظام ختم کر کے ملک کے معاشی نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کرے، عدالت عظمیٰ ملک میں رائج سودی قوانین کو خلافِ دستور قرار دیتے ہوئے حکومت کو انہیں ختم کرنے کی ہدایت کر چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۹ء

آزادی مارچ کی سیرت کانفرنس میں حاضری

۹ نومبر کا دن خاصا مصروف گزرا، رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع کی وجہ سے جامعہ نصرۃ العلوم میں اسباق کی چھٹی تھی اس لیے صبح نماز فجر کے بعد ہی سفر شروع کر دیا اور احباب کا ایک قافلہ بھی ساتھ بن گیا۔ حافظ نصر الدین خان عمر، حافظ شاہد میر، حافظ اسامہ قاسم، حافظ محمد قاسم، حافظ فضل اللہ اور حافظ محمد بن جمیل خان شریک سفر تھے۔ ہم گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر دوپہر تک ٹیکسلا پہنچے جہاں برادرم صلاح الدین فاروقی نے حضرت مولانا سید نفیس شاہؒ کی یاد میں قائم مسجد نفیس میں ظہر کے بعد سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نشست کا اہتمام کر رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۱۹ء

قانون کی یکساں عملداری اور اسوۂ نبویؐ

۵ ستمبر کو ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کی سالانہ محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شرکت و خطاب کا موقع ملا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ جناب طارق جاوید مہمان خصوصی تھے، جبکہ اس موقع پر ڈسکہ بار کی طرف سے ایک جج اور دو وکیل صاحبان کو قرعہ اندازی کے ذریعے عمرہ کے تین ٹکٹ دیے گئے۔ یہ خوش نصیب جج سردار کمال الدین، طاہر رؤف ایڈووکیٹ اور عامر مختار بٹ ایڈووکیٹ ہیں، اللہ تعالٰی سب کو قبولیت و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ اس موقع پر میری گزارشات کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ ستمبر ۲۰۱۹ء

کیا امریکہ مشرق وسطیٰ سے نکلنا چاہتا ہے؟

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۵ اکتوبر ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کو خون آلود مٹی قرار دیتے ہوئے خطے سے نکلنے کا عہد کیا ہے، وائٹ ہاؤس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کی خون آلود مٹی چھوڑ دے گا، امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بہت امریکی سروسز کے ممبران مارے گئے، امریکہ کو اب مزید دنیا کے پولیس مین کے طور پر رہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۹ء

ڈسکہ میں مولانا سمیع الحق شہیدؒ سمینار

مولانا سمیع الحق شہیدؒ ہماری ملی و دینی جدوجہد کی تاریخ کے ایک مستقل باب کا عنوان ہیں اور ان کی خدمات کا اس مختصر گفتگو میں تفصیلی تذکرہ ممکن نہیں ہے، البتہ چند باتیں عرض کر دیتا ہوں کہ مولانا سمیع الحق شہیدؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلو ہیں جن میں سے ہر ایک پر کام کی ضرورت ہے اور ان کے تلامذہ و رفقاء کو اس کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔ مثلاً ایک پہلو یہ ہے کہ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحق رحمہ اللہ تعالٰی کے فرزند و جانشین ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی علمی، سیاسی و تحریکی جدوجہد کے رفیق کار بھی رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۲۰۱۹ء

اتاترک کی تقلید سے کچھ حاصل نہیں ہوگا

صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالتے ہی مصطفی کمال اتاترک کو اپنا آئیڈیل قرار دے کر کسی ابہام کے بغیر اپنی پالیسی ترجیحات کا جو دوٹوک اعلان کیا تھا، وہ اس پر بدستور قائم ہیں اور ان کی اب تک کی پالیسیوں اور اعلانات کا تسلسل اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ ان کی زبان پر اقتدار کے پہلے روز مصطفی کمال اتاترک کا نام محض اتفاقی طور پر نہیں آ گیا تھا، بلکہ اس کے پیچھے شعور اور عزائم کا ایک بھرپور پس منظر کارفرما تھا۔ اس لیے دینی اقدار و شعائر اور اسلام کے روایتی ڈھانچے کے حوالے سے وہ وقتاً فوقتاً جو کچھ بھی کہتے ہیں، ہمارے لیے غیر متوقع نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ دسمبر ۲۰۰۴ء

عالمی یہودی کانگریس سے صدر مشرف کا خطاب

صدر جنرل پرویز مشرف نیویارک کے ہنگامہ خیز دورے سے واپس پہنچ کر اسلام آباد میں اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو گئے ہیں مگر نیویارک میں ان کے دورے کے حوالے سے مختلف امور پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کی نجی محفلوں کے علاوہ نیویارک سے شائع ہونے والے مقامی اردو اخبارات میں صدر پرویز مشرف کی باتوں پر دلچسپ تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ اخبارات اگرچہ زیادہ تر اشتہارات پر مشتمل ہوتے ہیں اور مساجد اور اسٹوروں میں مفت تقسیم کیے جاتے ہیں لیکن پاکستانی کمیونٹی کے ایک بڑے حصے میں پڑھے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء

جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ: چند گزارشات

صدر جنرل پرویز مشرف آئندہ ماہ امریکہ جا رہے ہیں جہاں وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے، متعدد عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کریں گے اور اخباری اطلاعات کے مطابق وہ یہودیوں کی ایک آرگنائزیشن کے تحت پروگرام میں بھی شریک ہوں گے جہاں وہ اسلام میں اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر پر گفتگو کریں گے۔ جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس اس حوالے سے خاصا اہم ہے کہ اس میں اقوام متحدہ کے نظام میں بعض اہم اصلاحات زیر غور آنے والی ہیں جن میں سلامتی کونسل کی مستقل نشستوں میں توسیع بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۰۵ء

حجاب پر پابندی — ثقافتی جنگ کا ایک مورچہ

روزنامہ اسلام لاہور میں ۲۰ مئی ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی دو خبریں ملاحظہ فرمائیں: ’’فرانس مسلمان خواتین کے پردے پر پابندی سے متعلق اقدامات میں مزید ایک قدم آگے بڑھ گیا، فرانس کی سینٹ نے بچوں کو سکول لانے والی ماں کے اسکارف پہننے پر بھی پابندی کا قانون منظور کر لیا، فرانس کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں مسترد ہونے والے بل کو سینٹ نے ۱۸۶ ووٹوں سے پاس کیا جب کہ بِل کی مخالفت میں ۱۰۰ ووٹ پڑے، ۱۵۹ اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لیے آنے والی خواتین کے اسکارف پر پابندی سے متعلق بل دائیں بازو کی اسلام مخالف ری پبلکنز پارٹی نے پیش کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter