الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام علمی و تحقیقی سرگرمیاں

میرے بڑے بیٹے اور الشریعہ اکادمی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ محمد عمار خان ناصر نے ڈاکٹریٹ کی ہے اور پنجاب یونیورسٹی نے ان کو پی ایچ ڈی کی ڈگری ایوارڈ کر دی ہے۔ یہ خوشی کا موقع ہے اور اس خوشی میں ہم نے آپ کو دعوت دی ہے اور چائے کا انتظام کیا ہے۔ میں اس موقع پر تین حوالوں سے اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا تاکہ یہ ریکارڈ میں آ جائے۔. سب سے پہلے ایک باپ کی حیثیت سے کہ ایسے موقع پر باپ سے زیادہ خوشی کس کو ہوگی۔ عمارخان عالم دین ہے، مدرس بھی ہے، پی ایچ ڈی بھی ہوگیا ہے اور کام بھی کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اکتوبر ۲۰۱۹ء

وکلاء حضرات سے چند ضروری گزارشات

ہماری بنیادی دعوت تو وہی ہے جو دنیا بھر میں سب مسلمانوں کے لیے ہے کہ ہم سب کو دین کے اعمال اور ماحول کی طرف واپس آجانا چاہیے کیونکہ دین کے اعمال اور ماحول سے ہٹ کر ہم نے بہت خسارہ اٹھایا ہے۔ اور اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور پریشانیوں کا سب سے بڑا سبب یہی ہے کہ ہم دین کے اعمال، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرز زندگی پر قائم نہیں رہے، جس کی بے برکتی نے ہمیں ہر طرف سے گھیر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اکتوبر ۲۰۱۹ء

قادیانیت ہدف کیوں؟

صدر جنرل پرویز مشرف کے پرسنل سیکرٹری اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جناب طارق عزیز کے حوالے سے ایک بار پھر قادیانیت کا مسئلہ منظر عام پر آیا ہے اور لاہور کے بعض علمائے کرام کی طرف سے اس مطالبہ نے اب تک زیر لب ہونے والی باتوں کو باقاعدہ خبر کی زبان دے دی ہے کہ جناب طارق عزیز کے والد بزرگوار کا جنازہ پڑھنے والے مسلم حکام کو تجدید ایمان کرنی چاہیے کیونکہ وہ قادیانی تھے۔ اس کے جواب میں طارق عزیز صاحب کے فرزند شعیب عزیز کا بیان آیا ہے کہ ان کی فیملی کا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۰۳ء

سانحہ ساہیوال اور دہشت گردی کے خلاف جنگ

سانحۂ ساہیوال کے بعد جس سوال نے قوم کو سب سے زیادہ پریشان کر دیا ہے وہ یہ ہے کہ کیا سرکاری اہل کاروں کو یہ کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے کہ وہ جسے چاہیں مشکوک سمجھ کر دہشت گرد قرار دیں اور پھر اسے گولیوں سے بھون کر رکھ دیں۔ جو لوگ اس سانحہ میں فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں ان میں سے ایک فیملی کو ابتدائی تحقیقات میں بے گناہ قرار دیا گیا ہے جبکہ ڈرائیور ذیشان کے بارے میں ابھی تک صرف شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گرد تھا، اس کے دہشت گرد ہونے کا کوئی ثبوت ابھی تک پیش نہیں کیا جا سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۹ء

افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی

ایک عرصہ سے کان جو خبر سننے کے لیے ترس رہے تھے آج اس کا آغاز ہو گیا ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے پروگرام کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت آدھی امریکی فوج پہلے مرحلہ میں واپس جائے گی اور باقی نصف فوج کی واپسی کا بھی جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۲ دسمبر کو شائع ہونے والی خبر ملاحظہ فرمائیں جو رائٹرز اور اے ایف پی کے حوالہ سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۹ء

دہشت گردی کے حوالہ سے عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ

جب عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کا طبل بجایا گیا تھا اور تین درجن کے لگ بھگ ممالک یہ ڈھول بجاتے ہوئے میدان جنگ میں کود پڑے تھے تو یہ سوال عالمی سطح پر اٹھایا گیا تھا کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی کوئی تعریف طے کر لی جائے تاکہ غیر متعلقہ اور بے گناہ افراد و طبقات اس کا شکار نہ ہوں۔ کیونکہ بین الاقوامی برادری مظلوم اقوام کی آزادی کا حق تسلیم کرتی آرہی ہے اور معاندانہ ریاستی جبر کے خلاف جائز حد تک مزاحمت کے حق کو بھی روا سمجھا جاتا ہے، جبکہ مبینہ دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ میں اس کا کوئی فرق ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۹ء

فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے تقاضے

برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران یکم اکتوبر ۲۰۰۴ء کو آکسفورڈ کی مدینہ مسجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کے موقع پر فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے چند ضروری تقاضوں پر کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ان کا خلاصہ قارئین کی دلچسپی کے لیے درج ذیل ہے۔ بعد الحمد والصلوٰۃ! محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم کی سورۃ القمر کی ایک آیت تلاوت کی ہے، اس کی روشنی میں کچھ ضروری گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ دو باتیں فرمائی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۲۰۰۴ء

’’غیر قانونی‘‘ مساجد کو مسمار کرنے کا مسئلہ

اسلام آباد میں مبینہ طور پر غیر قانونی مساجد میں سے چند مساجد کو مسمار کرنے اور دیگر مساجد کو گرانے کا نوٹس دیے جانے سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، وہ ایک نئے بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے اور دینی جماعتوں کا احتجاج اس سلسلے میں منظم ہوتا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مساجد اور کچھ مدارس اجازت کے بغیر تعمیر ہوئے ہیں جو غیر قانونی ہیں اور قانون کے مطابق انھیں مسمار کرنا ضروری ہے۔ سرکاری حلقوں کی طرف سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئی تمام مساجد اور مدارس کو شہید کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۰۷ء

”گینگ ریپ“ پر سزائے موت اور علماء کرام

گزشتہ دنوں قومی اسمبلی نے ’’گینگ ریپ‘‘ پر سزائے موت کا قانون منظور کیا تو اس پر بعض سرکردہ علماء کرام نے یہ اعتراض کر دیا کہ سزائے موت کا یہ قانون شرعی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا اس لیے اسے عجلت میں منظور نہ کیا جائے اور اس پر سرکردہ علمائے کرام سے رائے لی جائے۔ ’’اجتماعی آبروریزی‘‘ کے واقعات کچھ عرصہ سے جس کثرت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں اس کی روک تھام کے لیے قومی اسمبلی کو اس قانون کی ضرورت محسوس ہوئی ہے اور وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اجتماعی آبروریزی کے حیاسوز واقعات کی روک تھام کے سلسلہ میں اپنے وعدہ کی تکمیل کے لیے یہ قانون منظور کرایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اپریل ۱۹۹۷ء

جنرل مشرف کی مجوزہ سیاسی اصلاحات

صدر جنرل پرویز مشرف نے ریڈیو اور ٹی وی پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے وہ نئی نہیں ہیں بلکہ یہ اس دستوری آنکھ مچولی کا لازمی حصہ بن چکی ہیں جو قیام پاکستان سے لے کر اب تک مسلسل جاری ہے، اور جس میں ہمارے حکمران طبقات باری باری طاقت کو اپنے ہاتھ میں لینے اور پھر اسے کنٹرول میں رکھنے کا تجربہ کرتے آرہے ہیں۔ گورنر جنرل غلام محمد سے اس کھیل کا آغاز ہوا اور اسکندر مرزا، جنرل محمد ایوب خان، جنرل محمد یحییٰ خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے ادوار سے گزرتا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۰۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter