جمعہ کی تعطیل اور نماز جمعہ کا وقفہ
جمعہ کے روز ہفتہ وار تعطیل کا مسئلہ بہت اہمیت رکھتا ہے اور دینی حلقوں کا ایک عرصہ سے مطالبہ ہے کہ ہفتہ وار تعطیل جمعہ کے روز کی جائے جو فضیلت کا دن ہے اور نماز جمعہ اور خطبہ و خطاب وغیرہ اہتمام کے ساتھ پڑھنے اور سننے کے لیے بھی اس سے آسانی رہتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس سلسلہ میں قومی حلقوں میں بحث چلی تو بعض حضرات نے سوال اٹھایا کہ کیا جمعہ کے روز چھٹی کا قرآن و حدیث میں کوئی حکم موجود ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مرغوب الرحمنؒ
جمعرات کا دن اسلام آباد آنے جانے میں گزرا، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوہ اکیڈمی میں ظہر کے بعد اور پھر مغرب کے بعد دو لیکچر تھے، صبح نصرۃ العلوم میں سبق پڑھا کر روانہ ہوا اور رات بارہ بجے کے لگ بھگ واپسی ہوئی۔ اس دوران اخبارات نہ دیکھ سکا، جمعہ کے روز صبح موبائل فون چیک کیا تو اس میں ایک میسج کے ذریعے کسی دوست نے دار العلوم دیوبند (بھارت) کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب کی وفات کی خبر دے رکھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فرانس میں سڑکوں پر نماز
روزنامہ اسلام لاہور ۲۲ دسمبر ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے مسلم خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی کے بعد مساجد کے باہر سڑکوں پر نماز ادا کرنے پر بھی پابندی لگانے کا عندیہ دیا ہے اور کہا ہے کہ سڑکوں پر نماز کی ادائیگی قابل قبول نہیں اور مساجد بھر جانے کے بعد سڑکوں پر نماز کے لیے صف بندی فرانس کی سیکولر روایات کے خلاف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ کا پروگرام
۱۵ دسمبر ۲۰۱۰ کو اسلام آباد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ناموس رسالت ؐکے مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کی اور اس میں تمام مکاتب فکر اور دینی جماعتوں کے قائدین اور راہنماؤں نے شرکت کی۔ ایک عرصہ کے بعد مختلف مکاتب فکر کے راہنماؤں کا اس قدر بھرپور اور نمائندہ اجتماع دیکھنے میں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سود کے بارے میں سینٹ کا منظور کردہ بل
سینٹ آف پاکستان نے گزشتہ روز جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینٹر جناب سراج الحق کا پیش کردہ ایک مسودہ قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت اسلام آباد کی حدود میں سود کے نجی کاروبار کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق سینٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نجی طور پر ہر قسم کے لین دین کے حوالے سے سودی کاروبار پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کشمیری عوام کی جد و جہد اور ہماری ذمہ داریاں
مسئلہ کشمیر کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے وقت تقسیم کے فارمولا میں ریاستوں کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ دونوں ملکوں میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر لیں۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے ہندو راجہ نے ریاست کی غالب مسلم اکثریت کے جذبات کی پروا نہ کرتے ہوئے ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا جسے کشمیری عوام نے مسترد کرتے ہوئے مزاحمت کی جدوجہد شروع کر دی اور جہاد کے ذریعے مظفر آباد، باغ اور دیگر علاقوں کو آزاد کراتے ہوئے جب وہ سری نگر تک پہنچ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوسائٹی میں مذہبی اقدار کی واپسی اور پاپائے روم
روزنامہ پاکستان لاہور ۹ نومبر ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے اسپین کی حکومت کی طرف سے ہم جنس پرستوں کو شادی کی قانونی اجازت دینے پر شدید تنقید کی ہے اور روایتی خاندانی نظام کی حمایت کرتے ہوئے اسپین کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں کو باہمی شادی کی قانونی اجازت دینے کے قوانین پر نظر ثانی کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یورپ کو اصل خطرہ دہشت گردی سے یا بنیاد پرستی سے؟
سہ روزہ دعوت دہلی کے یکم نومبر ۲۰۱۰ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پروفیسر ایچ اے ہیلر نے جو ایک برطانوی یونیورسٹی میں نسلی تعلقات کے تحقیقی مرکز کے سر براہ ہیں ’’یورپ کے مسلمان‘‘ نامی اپنی کتاب میں کہا ہے کہ:
’’یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کی بحث سکیورٹی کے مسائل سے شروع ہوئی تھی اور اس کا تناظر القاعدہ جیسے گروپوں کا طرز عمل تھا۔ یورپی باشندوں کو خوف تھا کہ انتہاپسند مسلم گروپوں کی پرتشدد سر گرمیاں یورپ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوڈان میں مسیحی ریاست کا منصوبہ
انڈونیشیا میں مشرقی تیمور کو ریفرنڈم کے ذریعے الگ کر کے ایک عیسائی ریاست قائم کرنے کے عمل کو ابھی چند سال ہی گزرے ہیں کہ سوڈان میں دارفور کے جنوبی علاقہ کو سوڈان سے الگ کر کے ایک الگ مسیحی ریاست کی شکل دینے کے منصوبہ پر کام آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا ملک ہے جبکہ سوڈان رقبہ کے لحاظ سے براعظم افریقہ کا سب سے بڑا ملک ہے جس کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے اور مسلمانوں کا تناسب ۷۵ فیصد بتایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
طالبان کا وجود اور ان کے ساتھ مذاکرات
روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم کر لیتا تو اسے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ ہوسٹن کی ایشیا سوسائٹی ٹیکس سنٹر میں خطاب کے دوران سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ عالمی برادری کو طالبان کے حوالے سے حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، طالبان کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 196
- 197
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »