امریکہ کی ’’ٹی پارٹی‘‘

گزشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی کہ مسز سارہ پالن نے، جو امریکہ کے گزشتہ انتخابات میں نائب صدر کے منصب کے لیے امید وار تھیں، امریکہ کی پرانی ’’ٹی پارٹی ‘‘ کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ امریکی معاشرہ کو ماضی کی قدروں کی طرف واپس جانے کا پیغام دے رہی ہیں۔ ’’ٹی پارٹی ‘‘ برطانوی استعمار کے خلاف امریکی عوام کی جدوجہد آزادی کا سب سے پہلا فورم تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

افغانستان کی صورتحال اور سابق روسی صدر میخائل گورباچوف کا تجزیہ

افغانستان کی صورتحال کے بارے میں لندن کانفرنس کے موقع پر طالبان سے مذاکرات پر زور دینے کے بعد افغانستان میں اتحادی فوجوں نے دباؤ بڑھا دیا ہے اور طالبان راہنماؤں کی گرفتاریوں کی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے۔ لندن کانفرنس کا مقصد خود برطانوی حکومت کے نمائندے نے یہ بتایا ہے کہ افغانستان میں مذاکرات کا فیصلہ طالبان کی قوت کو تقسیم کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں طالبان کی ۸۰ فیصد اکثریت جنگ کی حامی نہیں ہے اور انہیں الگ کرنے کے لیے مذاکرات کا جال بچھایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

اچھی حکمرانی، مگر کیسے؟

۹ فروری ۲۰۱۰ء کو سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے والے معزز جج سردار محمد رضا خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ نظریہ درست نہیں ہے کہ انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ کا فریضہ ہے، اس غلط نظریہ کے باعث دوسرے سبھی متعلقہ اداروں نے خود کو ہلکا پھلکا سمجھنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ’’اچھی حکمرانی‘‘ پر توجہ ہی نہیں دی جا رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

سنکیانگ کے مسلمانوں کا مسئلہ

ایک اہم مسئلہ کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ جس کی سرحد ہمارے ملک کے ساتھ لگتی ہے اور جو کسی زمانے میں کاشغر کہلاتا تھا، ہمارے پرانے مسلم لٹریچر میں اس کا ایک اسلامی خطہ کے طور پر کاشغر کے نام سے ذکر موجود ہے لیکن بعد میں اسے سنکیانگ کا نام دیا گیا ہے، میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق وہاں مسلمانوں کے ساتھ معاملات بہت پریشان کن اور اضطراب انگیز ہیں کہ وہ ریاستی جبر کا شکار ہیں، انہیں مذہبی آزادی بلکہ شہری آزادیاں بھی حاصل نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۹ء

خلافتِ عثمانیہ اور ہمارے اکابر

جامعہ مظاہر علوم سہارنپور (انڈیا) کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی سید شاہد الحسنی سہارنپوری کا تحریر کردہ ایک کتابچہ گزشتہ روز نظر سے گزرا جس میں انہوں نے اب سے ایک صدی قبل بپا ہونے والی تحریک خلافت میں جامعہ مظاہر علوم کی سرگرمیوں اور کردار کا تعارف کرتے ہوئے اس دور کے کچھ فقہی مسائل اور مباحث کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ ہماری ملی تحریک اور جدوجہد آزادی کا ایک اہم ریکارڈ ہے جس کا مطالعہ ہر دینی کارکن کو کرنا چاہیے البتہ اس میں سے چند باتیں قارئین کے علم میں لانے کے لیے اس کالم میں نقل کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ فروری ۲۰۱۹ء

پلاٹوں کی سیاست: صوبائی حکومت اور حزب اختلاف کا ایک مستحسن فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۰۹ء شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صوبائی اسمبلی میں شیخ علاء الدین ایم پی اے کی طرف سے پیش کی جانے والے اس تجویز کو حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے مسترد کر دیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ارکان کی طرح صوبائی اسمبلی کے ارکان کو بھی لاہور میں حکومت کی طرف سے پلاٹ دیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

دینی مدارس پر چھاپوں کا نیا راؤنڈ

جامعہ محمدیہ اسلام آباد اور دیگر متعدد مدارس پر چھاپوں کے بعد دینی مدارس کے خلاف کاروائی کا ایک نیا راؤنڈ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مدارس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں طلبہ کو مبینہ دہشت گردی کی ٹریننگ دی جاتی ہے اور حکمرانوں کے بقول دہشت گرد ان مدارس کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل جنوبی پنجاب کے بہت سے مدارس پر چھاپے مارے گئے تھے لیکن ان چھاپوں سے کچھ حاصل نہ ہوا اور اساتذہ و طلبہ کی تفصیلی تلاشیوں کے بعد یہ دیکھنے میں آیا کہ ان غریبوں کے پاس کتابوں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

دنیا میں مسلمانوں کی تعداد اور ہماری مجموعی صورتحال

روزنامہ پاکستان لاہور کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے ہر چار میں سے ایک شخص مسلمان ہے اور ان کی مجموعی تعداد ایک ارب ستاون کروڑ ہے جس میں ساٹھ فیصد ایشیائی ملکوں میں رہتے ہیں۔ ’’فورم آف ریلیجین اینڈ پبلک لائف‘‘ کی رپورٹ تیار کرنے میں تین سال صرف ہوئے، اس میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی کل تعداد میں سے بیس فیصد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہتے ہیں، جرمنی میں لبنان سے زیادہ مسلمان ہیں جبکہ روس میں ان کی تعداد لیبیا اور اردن کے مسلمانوں سے زیادہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کرنے کی تجویز

روزنامہ جناح لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ آئین میں ترامیم تجویز کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اے این پی نے یہ تجویز دی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کر کے عوامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا جائے اور ایم کیو ایم بھی اس تجویز کی حمایت کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی دستوری اصلاحات کمیٹی اس وقت دستور میں ضروری ترامیم تجویز کرنے پر کام کر رہی ہے اور اس کے سامنے سیکولر حلقوں کی طرف سے اس قسم کی تجاویز بھی آرہی ہیں کہ ملک کا نام تبدیل کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۹ء

فوجوں کے ذریعے دل جیتنے کا فارمولا

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۶ نومبر ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق افغانستان میں برطانیہ کے سینئر کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نک پارکر نے، جو افغانستان میں نیٹو افواج کے ڈپٹی کمانڈر بھی ہیں، ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کے لیے بہتر جنگی ساز و سامان کی نہیں بلکہ لوگوں کے دل اور ذہن کو جیتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں جنگ جیتنے کے لیے مزید اور جدید ہتھیاروں کی ضرورت نہیں بلکہ نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter