اسلام آباد کے مساج پارلر اور لال مسجد

لال مسجد اسلام آباد کی انتظامیہ نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک مساج پارلر پر چھاپہ مارا اور وہاں کام کرنے والی لڑکیوں اور کارکنوں کو یرغمال بنا کر لال مسجد میں لے آئے جن میں چین کے باشندے بھی تھے۔ اس پر اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد کی انتظامیہ سے بات چیت کی اور اسلام آباد میں چین کے سفیر محترم بھی حرکت میں آئے جس پر لال مسجد کی انتظامیہ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کے اس وعدہ پر ان یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے کہ اسلام آباد میں ان مساج پارلروں کو بند کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

کیا مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین جرم نہیں ہے؟

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۸ جون ۲۰۰۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ کے مذہبی آزادی کے بین الاقوامی کمیشن نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بش حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں پاکستان سے سرگرمی کے ساتھ رجوع کرے، اور کمیشن نے اس کے ساتھ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ توہین مذہب کو غیر مجرمانہ فعل قرار دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

عالمی استعمار کے روبوٹس اور افغان طالبان کا امتحان

افغان طالبان کی طرف سے کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کے ساتھ مذاکرات سے دوٹوک انکار پر اس بات پر اطمینان میں اضافہ ہوا ہے کہ تاریخ کا عمل اگرچہ سست رفتار ہے مگر اس کا رخ صحیح سمت ہے اور دھیرے دھیرے صورتحال واضح ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایک عرصہ سے افغان طالبان پر یہ دباؤ تھا کہ وہ کابل انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کریں یا کم از کم مذاکرات کے عمل میں اسے شمولیت کا موقع دیں، مگر امارت اسلامیہ افغانستان نے گزشتہ روز حتمی طور پر واضح کر دیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۲۰۱۹ء

شکریہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ!

گزشتہ دنوں افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے اعلان پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک کالم میں ہم نے شکریہ ادا کیا تو بعض دوستوں نے اس پر الجھن کا اظہا رکیا، مگر اب اس سے بڑا ایک شکریہ ادا کرنے کو جی چاہ رہا ہے اس لیے ان احباب سے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اپنے حالیہ دورۂ بغداد کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ کے عالمی پولیس مین کے کردار کے اختتام کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۱۸ء

عالم اسلام اور مغرب کے درمیان غلط فہمیاں

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ اپریل ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق لاہور کے ایک ہوٹل میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیشنل آفیئرز (پائنا) کے زیر اہتمام ’’اسلام اور مغرب کے مابین درپیش چیلنجز اور مواقع‘‘ کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا جس میں قومی سطح کے بہت سے دانشوروں کے علاوہ اسپین سے یونیورسٹی آف بار سلونا کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر پری ویلا نووہ اور پروفیسر راحیل بیونو نے بھی خطاب کیا، مقررین نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کے اہم نکات یہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی

ہفت روزہ وزارت گوجرانوالہ نے ۲۴ اپریل ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں ’’آن لائن‘‘ کے حوالہ سے یہ خبر دی ہے کہ ممبئی بھائی ہائیکورٹ نے مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی کو جائز قرار دے دیا ہے۔ خبر کے مطابق مسلمان لڑکے عمر اور ہندو لڑکی پرانیکا کی شادی کو پرانیکا کے خاندان والوں نے قبول نہیں کیا اور اس شادی کے خلاف ہندو تنظیموں بجرل دل اور آر ایس ایس نے ممبئی ہائیکورٹ میں مقدمہ درج کرا دیا، جس میں ان کا موقف یہ تھا کہ عمر نے پرانیکا کو اغوا کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

مسئلہ فلسطین اور برطانوی وزیر خارجہ بالفور کا موقف

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ اپریل ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کے قتل کو جائز قرار دے دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ۹ نومبر ۲۰۰۵ء کو اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی کو راہ چلتے شہید کر دیا تھا جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب ممالک نے صدائے احتجاج بلند کی، اسرائیلی سپریم کورٹ نے اس احتجاج کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فلسطینیوں کو قتل کرنا جائز ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

حدود آرڈیننس کے خلاف خواتین کا مظاہرہ

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں تیس کے قریب این جی اوز کی خواتین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا اور حدود آرڈیننس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے بارے میں تمام امتیازی قوانین کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اس سے قبل جسٹس ماجدہ رضوی کی سربراہی میں خواتین کمیشن کی طرف سے حدود آرڈیننس کی منسوخی کی سفارش سامنے آچکی ہے جس کی حمایت میں اس مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۳ء

مسلم حکمرانوں کو مہاتیر محمد کی تلقین

روزنامہ اسلام لاہور سے ۱۷ ستمبر ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور میں نوجوان مسلمان راہنماؤں کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمانوں کو جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری کے لیے مہارت اور ٹیکنالوجی حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو مغربی ترقی تک پہنچنا ہوگا تاکہ انہیں اسلام کی تضحیک اور تمسخر اڑانے سے روکا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۳ء

کیا خلافت کا نظام ناقابل عمل ہے؟

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان میں کمال اتاترک جیسی اصلاحات نافذ نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی خلافت کا نظام قابل عمل ہے ۔جہاں تک مصطفی کمال اتاترک جیسی اصلاحات کے نفاذ کا تعلق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کا نفاذ کسی بھی مسلمان ملک میں ممکن نہیں رہا، اس لیے کہ وہ اصطلاحات خود ترکی میں کامیابی کی منزل حاصل نہیں کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter