قراردادِ مقاصد اور تنویر قیصر شاہد
روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار تنویر قیصر شاہد ارشاد فرماتے ہیں: ’’برصغیر پاک و ہند کے علمائے کرام اور مذہبی جماعتیں ہمیشہ سیاست میں حصہ لیتی رہی ہیں، تشکیل پاکستان کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا ہے، حتٰی کہ وہ مذہبی جماعتیں اور علمائے کرام بھی دھڑلے سے سیاسی و انتخابی عمل میں شرکت کرتے رہے جنہوں نے حضرت قائد اعظم، مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور اب بنے بنائے پاکستان پر قبضہ کر کے اپنے ایجنڈے اور نظریے کی تنفیذ چاہتی ہیں۔ ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری اسی نیت کا شاخسانہ تھی۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانوی استعمار سے آزادی کی جدوجہد اور ایاز امیر
معلوم ہوتا ہے کہ رائے عامہ کی راہنمائی کا دعوٰی رکھنے والے بہت سے دانشوروں نے خود اپنی ہی تاریخ اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کا عزم کر لیا ہے اور اس کے لیے کسی طے شدہ منصوبہ کے تحت لگاتار جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ گوئبلز کا یہ مقولہ کہ ’’جھوٹ کو اتنی بار دہراؤ کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں‘‘ ہمارے قومی پریس کے بعض قلمکاروں کا ماٹو بن گیا ہے اور اس کے لیے کسی بھی قسم کی اخلاقیات کی پروا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی جس پر انا للہ و انا الیہ راجعون کا ورد ہی کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ ناموس رسالت پر بیداری کی حوصلہ افزا لہر اور ہمارے دانشور
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام اکتوبر کے دوران چناب نگر میں منعقد ہونے والی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہر سال اہمیت کی حامل ہوتی ہے کہ فرزندان اسلام ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ بے لچک وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، تحریک ختم نبوت کے مختلف مرحلوں کی یاد تازہ کرتے ہیں، مختلف مکاتب فکر اور دینی و سیاسی جماعتوں کے راہنما تحریک ختم نبوت کے مقاصد و اہداف کے بارے میں جدوجہد کے لیے باہمی ہم آہنگی اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سالانہ تعطیلات کا آخری ہفتہ
سالانہ تعطیلات کا آخری ہفتہ خاصی مصروفیات میں گزارا۔ اتوار کو ظہر کے بعد لاہور کے ہمدرد سنٹر میں درس قرآن کریم کی تقریب تھی، لٹن روڈ کی تاجر برادری ماہانہ طور پر اس درس کا اہتمام کرتی ہے اور مختلف علماء کرام اس میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ اسی روز شام کو مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور مولانا عبد الرزاق آف فیصل آباد کے ہمراہ ساہیوال کے قریب ایک بستی میں واقع مدرسۃ البنات میں بخاری شریف کے سبق کے آغاز کی تقریب میں حاضری ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عوامی احتجاج اور ہمارا معاشرتی رویہ
ایک فارسی محاورہ ہے کہ ’’عدو شرے بر انگیزد کہ خیر مادراں باشد‘‘ یعنی بسا اوقات دشمن شر کو ابھارتا ہے اور اس میں ہمارے لیے خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔ کچھ اس قسم کی صورتحال مذموم امریکی فلم کے حوالہ سے سامنے آرہی ہے کہ عالم اسلام ایک بار پھر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و ناموس کے مسئلہ پر متحد ہوتا نظر آرہا ہے، بلکہ اس بار ایک اور تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے کہ وہ بات جو ہم فقیر کیا کرتے تھے اب ہمارے حکمرانوں کی زبانوں پر آنے لگی ہے کہ توہین رسالت کو عالمی سطح پر جرم قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تمام علوم دینیہ کا سرچشمہ حدیث نبویؐ ہے
دینی مدارس کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم، حدیث و سنت اور فقہ اسلامی علوم مقصودہ ہیں جنہیں ’’علوم عالیہ‘‘ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ جبکہ باقی علوم و فنون مثلاً صرف و نحو، لغت، ادب، معانی اور منطق وغیرہ ان علوم تک رسائی کا ذریعہ ہیں اور ان کے ذریعے علوم عالیہ کو سمجھنے کی صلاحیت و استعداد پیدا کی جاتی ہے، اس لیے یہ ’’علوم آلیہ‘‘ کہلاتے ہیں۔ علومِ عالیہ تو وحی اور اس سے استنباط کی بنیاد پر ہر دور میں یکساں رہے ہیں اور ہمیشہ وہی رہیں گے، لیکن علومِ آلیہ میں وقت گزرنے کے ساتھ زمانے اور حالات کے مطابق ردوبدل ہوتا آرہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاک چین دوستی اور سی پیک کے معاملات
مجلس ارشاد المسلمین لاہور کے امیر مولانا حافظ عبد الوحید اشرفی کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ایک اہم قومی مسئلہ پر اس سیمینار کا اہتمام کیا اور مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی۔ اس قسم کے قومی و ملی مسائل پر اظہار خیال، مذاکرہ اور مباحثہ ہمارے ہاں جس قدر ضروری ہے اسی اعتبار سے اس کی طرف توجہ کم ہوتی ہے، اس لیے اس نشست کے انعقاد پر مجھے خوشی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جمعیۃ علماء اسلام لاہور کے راہنما حافظ ابوبکر شیخ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے سی پیک کے تاریخی اور معروضی پس منظر کے بارے میں ایک معلوماتی رپورٹ پیش کی جو انتہائی ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا سید محمد میاںؒ
گزشتہ روز ڈاک میں حضرت مولانا سید حامد میاںؒ کے مقالات کا ایک مجموعہ ’’مقالاتِ حامدیہ‘‘ کے نام سے موصول ہوا تو ماضی کی بہت سی یادیں ذہن میں تازہ ہوتی چلی گئیں۔ اس بات پر خوشی ہوئی کہ مولانا سید محمود میاں اور ان کے رفقاء حضرتؒ کے فرمودات و افادات کو حفاظت کے ساتھ اگلی نسل تک منتقل کرنے کی ’’سعیٔ محمود‘‘ میں مسلسل سرگرم ہیں اور ۹۰ کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت کتابچہ بھی اس کا ایک حصہ ہے جس میں قرآن کریم کے بارے میں حضرت مولانا حامد میاںؒ کے مضامین و خطبات کو جمع کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد السلامؒ اور دیگر مرحومین
عید الفطر کے بعد بدھ اور جمعرات کے دو روز تعزیتوں میں گزرے۔ پاکستان شریعت کونسل اسلام آباد کے امیر اور جی الیون کی جامع مسجد صدیق اکبرؓ کے خطیب مولانا مفتی سیف الدین گلگتی گزشتہ دنوں تہرے صدمہ سے دوچار ہوئے، پہلے ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہوا، پھر کچھ دنوں کے بعد ان کے بہنوئی فوت ہوئے اور ۲۴ رمضان المبارک کو مفتی صاحب کے والد گرامی حاجی محمد نذیر صاحب انتقال کر گئے۔ میں بدھ کو اسلام آباد پہنچا، مفتی صاحب ابھی گلگت سے واپس نہیں آئے تھے، ٹیلی فون پر ان سے تعزیت کی اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ دارالعلوم کراچی پر چھاپہ
جامعہ دارالعلوم کراچی پر رینجرز اور پولیس کے چھاپے، محاصرے اور تلاشی کی خبر سن کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے کوئی بھیانک خواب دیکھ رہا ہوں۔ مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے خطاب کے لیے منبر کی طرف بڑھ رہا تھا کہ چلتے چلتے ایک دوست نے خبر دی کہ دارالعلوم کراچی اس وقت رینجرز کے محاصرہ میں ہے اور کچھ پتا نہیں چل رہا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ ذہن اچانک سناٹے کی زد میں آگیا اور جذبات کے سمندر میں تلاطم انگڑائیاں لینے لگا مگر کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 240
- 241
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »