شریعہ بورڈ آف امریکہ اور اس کے فیصلے
گزشتہ ماہ میں نیویارک گیا اور کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درسگاہ دارالعلوم نیویارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم و تدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے بھی۔ درس نظامی سے میری مراد یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس و تعلیم اور امامت و خطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لاہور تا نیویارک سفر بذریعہ پی آئی اے
میری کوشش ہوتی ہے کہ سفر کے لیے قومی ایئرلائن پی آئی اے کو ذریعہ بناؤں مگر ہر بار کوئی نہ کوئی بار ایسی ضرور ہو جاتی ہے کہ اس کوشش پر نظر ثانی کو جی چاہنے لگتا ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ مجھے اگست کے آغاز میں امریکہ کے لیے سفر کرنا تھا جس کے لیے میں نے ۲ اگست کو لاہور سے نیویارک تک پی آئی اے کی سیٹ بک کرالی اور ریٹرن ٹکٹ خرید لیا۔ فیصل آباد سے ہمارے ایک دوست قاری خالد رشید صاحب نے بھی جانا تھا وہ امریکہ کے گرین کارڈ ہولڈر ہیں اور وقتاً فوقتاً آتے جاتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ کا نرالا الیکشن اور مسلمان
اس بار امریکہ میں زیادہ گھومنے پھرنے کا موقع نہیں ملا، صرف ورجینیا اور واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں تقریباً بیس دن گزار کر واپسی ہو رہی ہے۔ ۱۱ اکتوبر کو لندن سے نیویارک کے لیے سیٹ بک کرالی تھی کہ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ (ورجینیا، امریکہ) کے پرنسپل مولانا عبدا لحمید اصغر کا پیغام ملا کہ آپ نیویارک کی بجائے سیدھے واشنگٹن آئیں کیونکہ نیویارک سے آنے جانے میں دو تین دن نیویارک میں صرف ہو جائیں گے اور ہمارے لیے وقت کم رہے گا اس لیے کہ ۲۲ اکتوبر کو امریکہ سے میری واپسی کا پروگرام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ
مفتی محمد جمیل خان شہید اور مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ کے المناک قتل کی خبر مجھے لندن میں ملی۔ مفتی محمد جمیل خانؒ سے ۸ ستمبر کو جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے سالانہ جلسہ ختم بخاری شریف میں ملاقات ہوئی تھی، ۱۳ ستمبر کو بیرونی سفر پر روانہ ہوگیا تھا اس لیے یہ آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ پہلی ملاقات جہاں تک یاد پڑتا ہے ۱۹۷۴ء میں ہوئی تھی جب وہ مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں طالب علم تھے اور میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی نیابت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلمانوں میں فکر و شعور کی بیداری، وقت کا اہم تقاضا
حرمین شریفین کی حاضری کے بعد لندن روانگی سے قبل ایک دو روز جدہ میں قیام رہا اور ایک بزرگ محدث کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ الشیخ عبد اللہ بن احمد الناجی مدظلہ معمر علماء کرام میں سے ہیں اور حدیث نبویؐ کے ممتاز فضلاء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ایک سو پندرہ برس ان کی عمر ہے اور اب سے پون صدی قبل کے اکابر محدثین سے تلمذ کا شرف رکھتے ہیں۔ سماعت کمزور ہو چکی ہے مگر گفتگو بے تکلفی سے کرتے ہیں۔ شافعی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور زندگی بھر حدیث نبویؐ کی خدمت میں مصروف رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سعودی عرب کی عمرہ پالیسی اور پاکستانی ایجنٹ
یہ سطور مدینہ منورہ میں بیٹھا لکھ رہا ہوں۔ ۱۹۹۸ء کے بعد چھ سال کے وقفے سے یہاں حاضری ہوئی ہے۔ ۱۹۸۴ء سے معمول تھا کہ ہر دوسرے یا تیسرے سال لندن سے واپسی پر حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت حاصل ہو جایا کرتی تھی مگر سعودی عرب کی نئی عمرہ پالیسی کی وجہ سے اب یہ آسان نہیں رہا۔ پہلے لندن میں سعودی سفارت خانہ وزٹ پر برطانیہ آنے والوں کو واپسی پر سعودی ایئرلائن کے ذریعے سفر کی صورت میں عمرے کا ویزا دے دیا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ: لورے کیورن کی سیر
میرے سفر کے مقاصد میں گھومنا پھرنا اور تاریخی آثار کو دیکھنا بھی شامل ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کی تلقین فرمائی ہے کہ زمین میں گھومو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار کے ساتھ ساتھ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب و عوامل اور نشانات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرو۔ واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں دو پاکستانی دوست محمد اشرف خان (آف جوہر آباد) اور جناب ناہن علی (آف سیالکوٹ) اس سلسلہ میں میری معاونت و رفاقت کرتے ہیں۔ گزشتہ سال وہ مجھے آمشوں کے علاقے میں لے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جاہلی اقدار و روایات اور جدید تہذیب
۲۵ جون کو میں نے جمعہ کی نماز واشنگٹن ڈی سی کے علاقے اسپرنگ فیلڈ کی مسجد دارالہدٰی میں پڑھائی اور اس سے قبل خطبہ و بیان کا موقع بھی ملا۔ میں اس سے قبل کئی بار یہاں آچکا ہوں اور ہر بار یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نمازیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ جمعۃ المبارک کے موقع پر زیادہ رش ہونے کی وجہ سے ایک ایک گھنٹے کے وقفے کے ساتھ تین بار جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ ایک نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد مسجد کے ساتھ ملحقہ وسیع ہال میں دو بار نماز ادا کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نیویارک کی دینی سرگرمیاں
جمادی الاول کے آغاز میں مدرسے کے شش ماہی امتحان کا آغاز تھا جو ایک ہفتہ جاری رہنا تھا، اس کے بعد ایک ہفتہ کی تعطیلات تھیں۔ میں نے یہ چھٹیاں برطانیہ میں گزارنے کا پروگرام بنا رکھا تھا مگر ویزے کی درخواست دینے میں اتنی تاخیر ہوگئی کہ چھٹیوں کے اختتام سے قبل ویزا ملنے کا امکان مشکوک ہوگیا اس لیے ویزے کے لیے پاسپورٹ جمع کرانے کی بجائے میں نے امریکہ کے سفر کا ارادہ کر لیا جہاں سے دارالہدٰی (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) کے مولانا عبد الحمید اصغر کی دعوت پہلے سے موجود تھی کہ میں یہ تعطیلات ان کے ہاں گزاروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بنگلہ دیش کے دینی مدارس
بنگلہ دیش میں گیارہ دن قیام کے بعد ۱۰ جنوری کو ہماری واپسی تھی، اس دوران ہم نے ڈھاکہ، چاٹگام، سلہٹ، سونام گنج، ہاٹ ہزاری، ٹیسیا، درگاپور، مدھوپور اور دیگر مقامات پر مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کی اور سرکردہ علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ ہمارے قافلے میں راقم الحروف کے علاوہ لندن سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری، ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل، لندن کے ڈائریکٹر مولانا مشفق الدین، دارالارقم کالج ایمسٹر (برطانیہ) کے ڈائریکٹر مولانا محمد فاروق، اور دارالارشاد میرپور ڈھاکہ کے ڈائریکٹر مولانا محمد سلمان ندوی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 284
- 285
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »